Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
26 - 212
آیت خامسہ : قال تبارک (عہ۱) اسمہ
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ، علی الدین کلہٖ ط وکفٰی باللہ شھیدا۱؂ ۔
پانچویں آیت : اللہ تعالٰی نے فرمایا : وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اورسچا دین دے کر کہ اسے غالب کرے سب دینوں پر ۔اورخدا کافی ہے گواہ ۔
 (۱؂ القرآن الکریم  ۴۸ /۲۸)
عہ ۱ : حاشیہ ، استدل الامام ابن سبع بھٰذہ الاٰیۃ علی ان شرعنا ناسخ الشرائع کما ذکرہ فی الخصائص الکبری ۳؂ فافاد ان الدین فی الاٰیۃ علی عمومہ الحقیقی شامل الادیان الحقۃ السابقۃ غیر مختص بادیان الکفار الموجودۃ فی زمن الاسلام فتم لکلام ۱۲منہ۔
امام ابن سبع نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا کہ ہماری شریعت تمام شریعتوں کیلئے ناسخ ہے جیسا کہ امام سیوطی نے خصائص کبرٰی میں اس کو ذکر فرمایا اوریہ افادہ کیا کہ اس اایت میں دین اپنے حقیقی عموم پرہے جو سابقہ تمام ادیان حقہ کو شامل ہے اورزمانہ اسلام میں پائے جانے والے ادیان کفار کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ لام پورا ہوا منہ (ت)
(۳؂ الخصائص الکبری   باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ہند  ۲ /۱۸۷)
اوراس امت مرحومہ سے فرماتاہے :
کنتم خیر(عہ۲) امۃ اخرجت للناس ۲؂۔
تم سب سے بہتر امت ہوکہ لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ۔
(۲؂ القرآن الکریم ۳ /۱۱۰)
عہ ۲ : استدل بھذہ الایۃ الرازی و التفتازانی و القسطلانی و ابن حجر المکی و غیر ہم و العبد الضعیف ضم الیھا الایۃ الاولی فسلمت من الجدال کما یعرفہ المتأمل ۱۲ منہ۔
اس آیت کریمہ سے امام الرازی ،تفتازانی ،قسطلانی اور ابن حجر مکی وغیرہ نے استدلال کیا اور عبد ضعیف نے اس کے ساتھ پہلی آیت کو ملایا تو یہ جدال سے سلامت ہوئی جیساکہ غور کرنے والا جانتا ہے ۔۱۲منہ
 آیات کریمہ ناطق کہ حضور کا دین تمام ادیان سے اعلی و اکمل اور حضور کی امت سب امم سے بہتر و افضل ، تو لاجرم اس دین کا صاحب اور اس امت کا آقا سب دین و امت و الوں سے افضل و اعلٰی امام احمد وترمذی بافادہ تحسین وابن ماجہ  وحاکم معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  راوی حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و سلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
انکم تتمون سبعین امۃ انتم خیرھا و اکرمھا علی اللہ ۱؂۔
تم ستر امتوں کو پورا کرتے ہو کہ اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر و بزرگ تر تم ہو ۔
 (۱؂جامع الترمذی ابواب التفسیر تحت الایۃ ۳ /۱۱۰ آمین کمپنی دہلی ۲ /۱۲۵) 

( مسند امام احمد حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت  ۳ /۶۱ )

(کنزالعمال حدیث ۳۴۴۶۳ موسسۃ الرسالہ بیروت      ۱۲ /۱۵۶  ۱۶۹)
آیت سادسہ : قال جلت عظمتہ :
یٰا دم اسکن انت و زوجک الجنۃ ۲؂۔
چھٹی آیت : اللہ تعالی نے فرمایا اے آدم !تو اور تیری بیوی جنت میں رہو ۔(ت)
(۲؂ القرآن الکریم ۲/ ۳۵ )
وقال تعالی
یا نوح اھبط بسلام منا۳؂۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام ۔
 (۳؂القرآن الکریم  ۱۱/ ۴۸)
وقال تعالی :
یا ابراھیم قد صدقت الرؤیا۴؂ ۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ۔
(۴؂القرآن الکریم  ۳۷/ ۱۰۵ )
وقال تعالی
یموسی انی انا اللہ۵؂ ۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا بے شک میں ہی ہوں اللہ (ت)۔
(۵؂ القرآن الکریم۲۸ /۳۰ )
وقال تعالی
یٰعیسٰی اِنِّی مُتَوفِّیک۶؂۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے عیسی میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا۔ (ت)
 (۶؂ القرآن الکریم۳/ ۵۵)
وقال تعالی
یاداؤد انا جعلنک خلیفۃ۷؂۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے داؤد بے شک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا۔(ت)
(۷؂ القرآن الکریم   ۳۸ /۲۶)
وقال تعالی
یا زکریا انا نبشرک۱؂
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں۔(ت)
 (۱؂  القرآن الکریم ۱۹ /۷)
وقال تعالی
یایحیی خذ الکتاب بقوۃ۲؂ ۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا اے یحیی کتاب مضبوط تھام ۔(ت)
(۲؂القرآن الکریم۹ /۱۲)
غرض قرآن عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے مگر جہاں محمد رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خطاب فرمایا ہےحضور کے اوصاف جلیلہ و القاب حمیدہ ہی سے یادکیا ہے
یٰا یھا النبی انا ارسلنک ۳؂۔
  اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔
(۳؂ القرآن الکریم   ۳۳/ ۴۵)
یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک۴؂۔
 اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا ۔
(۴؂  القرآن الکریم   ۵/ ۶۷)
یا یھا المزملoقم الیل۵؂۔
اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے رات میں قیام فرما۔
 (۵؂ القرآن الکریم۷۳ /۱  و۲)
یایھا المدثر oقم فانذر ۶؂۔
اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا ہو ،لوگوں کو ڈر سنا۔
 (۶؂ القرآن الکریم۷۴/ ۱ و ۲)
یٰسo و القرآن الحکیم oانک لمن المرسلین ۷؂۔
اے یٰس یا اے سردار مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی، بے شک تو مرسلوں سے ہے ۔
 (۷؂ القرآن الکریم۳۶  /۱تا۳ )
طہ oماانزلنا علیک القرآن لتشقی۸؂۔
اے طہ!  یا اے پاکیزہ رہنما ! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑے ۔
 (۸؂ القرآن الکریم۲۰ / ۱   و ۲ )
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ جو ان نداؤں اور ان خطابوں کو سنے گا بالبداہت حضور سید المرسلین و انبیائے سابقین کا فرق جان لے گا ع

یا دم ست با پدر انبیاء خطاب 

یایھا النبی خطاب محمد است

 (''اے آدم!'' نبیوں کے باپ کے لیے خطاب ہے ۔اور محمد مصطفٰی صلی تعالی علیہ وسلم کے لیے خطاب ہے۔ ''اے نبی'' ۔ت )
امام عزالدین بن عبد السلام وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں بادشاہ جب اپنے تمام امرا کو نام لےکر پکارے اور ان میں خاص ایک مقرب کو یوں ندا فرمایا کرے اے مقرب حضرت اے نائب سلطنت ،اے صاحب عزت ،اے سردار مملکت ___تو کیا کسی طرح محل ریب وشک باقی رہے گا کہ یہ بندہ بارگاہ سلطانی میں سب سے زیادہ عزت و وجاہت والا اور سرکار سلطانی کو تمام عمائد و ارکین سے بڑھ کر پیارا ہے
فقیر کہتا ہے غفراللہ تعالی لہ ،خصوصا
یا یھا المزمل۱؂،
اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے۔(ت)
(۱؂  القرآن الکریم ۷۳ /۱ )
ویٰایھا المدثر۲؂ ۔
اے جھرمٹ مارنے والے ۔(ت)
(۲؂ القرآن الکریم ۷۴ /۱)
تووہ پیارے خطاب ہیں جن کا مزہ اہل محبت جانتے ہیں ان آیتو ں کے نزول کے وقت سید عالم صلی تعالی علیہ وسلم بالا پوش اوڑھے ،جھرمٹ مارے لیٹے تھے ،اسی وضع و حالت سے حضور کو یاد فرما کر ندا کی گئی ،بلا تشبیہ جس طرح سچا چاہنے ولا اپنے پیارے محبوب کو پکارے :او بانکی ٹوپی والے ،او دھانی دوپٹے والے ع 

او دامن اٹھا کے جانے والے
فسبحان اللہ و الحمد و الصلواۃ الزھراء علی الحبیب ذی الجاہ ۔
اللہ تعالی کو پاکی ہے اور تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں اور روشن درود وجاہت والے محبوب پر ۔( ت)
Flag Counter