سادساً : ہم اوپر بیان کر آئے کہ حضور کی رسالت زمانہ بعثت سے مخصوص نہیں بلکہ سب کو حاوی ۔ ترمذی جامع میں فائدہ تحسین واللفظ لہ ، اورحاکم وبیہقی وابو نعیم ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ اور احمد مسند اوربخاری تاریخ میں ، اورابن سعد وحاکم وبیہقی وابونعیم میسرۃ الفجر ۳۔رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ اوربزار وطبرانی ، ابو نعیم عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔ اور ابونعیم بطریق صنالجی امیر المومنین عمر الفاروق لاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ، اورابن سعد ابن ابی الجد عاء ومطرف بن عبداللہ بن الشخیر وعامر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے باسانید متباینہ والفاظ متقاربہ راوی حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی :
"متی وجببت لک النبوۃ "
حضور کے لیے نبوت کس وقت ثابت ہوئی ؟فرمایا :
"واٰدم بین الروح والجسد"۴۔
جبکہ آدم درمیان روح اورجسد کے تھے ۔
(۳ التاریخ الکبیر ترجمہ ۱۶۰۶ میسرۃ الفجر دارالبازمکۃ المکرمۃ ۷ /۳۷۴)
( الجامع الصغیر حدیث۶۴۲۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۴۰۰)
(۴ جامع الترمذی کتاب المناقب باب فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱ )
(المستدرک للحاکم کتاب التاریخ دارالفکر بیروت ۲ /۶۰۹)
( کنزالعمال بحوالہ ابن سعد حدیث ۳۱۹۱۷و۳۲۱۱۷موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۹ و ۴۵۰)
جبل الحفظ امام عسقلانی نے کتاب الاصابہ میں حدیثِ میسرہ کی نسبت فرمایا :
سندہ، قوی ۱
(اس کی سند قوی ہے ۔ ت) ع
آدم ستر وتن بآب وگِل داشت کوحکم بملک جان جان ودل داشت
(آدم علیہ السلام ابھی گارے کا مجسمہ تھے کہ آنحضرت کی حکومت دل وجان کی مملکت میں تھی ۔ ت)
اسی لئے اکابر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جس کا خدا خالق ہے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
چو بود خلق آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعظم الاخلاق بعث کر دخدائے تعالٰی اورابسوئے کافہ ناس ومقصور نہ گردانید رسالت اورابرناس بلکہ عام گردانید جن وانس را، بلکہ برجن وانس نیز مقسور نہ گردانید تا آنکہ عام شد تمامہ عالمین را، پس ہرکہ اللہ تعالٰی پروردگار اوست محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رسول اُوست۲۔
چونکہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیدائش تمام مخلوق سے اعظم ہے ۔ لہذا اللہ تعالٰی نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا ۔ آپ کی رسالت کو انسانوں میں منحصر نہیں فرمایا بلکہ جن وانس کے لیے عام کردیا بلکہ جن وانس میں بھی انحصار نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے عام ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی جس کا پروردگار ہے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ (ت)
(۲ مداراج النبوۃ باب دوم دراخلاق عظیمہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۴)
اب تو یہ دلیل اور بھی زیادہ عظیم وجلیل ہوگئی کہ ثابت ہوا جو نسبت انبیائے سابقین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم سے خاص ایک بستی کے لوگوں کو ہوئی وہ نسبت اس سرکار عرش وقار سے ہرذرّہ مخلوق وہرفردماسوااللہ یہاں تک کہ خود حضرات انبیاء ومرسلین کو ہے ، اوررسول کا اپنی امت سے افضل ہونابدیہی ،
والحمدللہ رب العٰلمین
(اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا ۔ ت)
آیت رابعہ :
تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض منھم من کلم اللہ ورفع بعضھم درجٰت۱۔
چوتھی آیت : اللہ تعالٰی نے فرمایا : یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں بعض کو بعض پرفضیلت دی کچھ ان میں وہ ہیں جن سے خد ا نے کلام کیا ، اور ان میں بعض کو درجوں بلند فرمایا۔
(۱القرآ ن الکریم ۲ /۲۵۳)
ائمہ فرماتے ہیں یہاں اس بعض سے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مراد ہیں کہ انہیں سب انبیاء پر رفعت وعظمت بخشی ۔
کما نص علیہ البغوی ۲ والبیضاوی۳ والنسفی ۴ والسیوطی والقسطلانی والزرقانی والشامی والحلبی وغیرہم واقتصار الجلالین ۵ دلیل انہ اصح الاقوال لالتزام ذٰلک فی الجلالین۔
جیسا کہ اس پر نص فرمائی ہے بغوی ، بیضاوی ، نسفی ، سیوطی ، قسطلانی ، زرقانی ، شامی اور حلبی وغیرہ نے ، اورجلالین میں اس پر اقتصار اس بات کی دلیل ہے کہ یہی اصح ہے کیونکہ جلالین میں اس کا التزام کیا گیا ہے (کہ اصح پر ہی اقتصار کیا جاتاہے ۔)(ت)
(۲معالم التنزیل (تفسیر البغوی) تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۷)
(۳ انوارالتنزیل (تفسیر البیضاوی )تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالفکر بیروت ۱ /۵۴۹ ۵۵۰)
(۴مدارک التنزیل (تفسیر النسفی) تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۱۲۷)
(۵ تفسیر جلالین تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ اصح المطابع دہلی ص۳۹)
اوریوں مبہم ذکر فرمانے میں حضور کے ظہور افضلیت وشہرتِ سیادت کی طرف اشارہ تامہ ہے ، یعنی یہ وہ ہیں کہ نام لو یا نہ لو انہی کی طرف ذہن جائے گا، اورکوئی دوسرا خیال نہ آئے گا ۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔
فقیر کہتاہے اہل محبت جانتے ہیں کہ ابہامِ تام میں کیا لطف ومزہ ہے ۔ ع
اے گُل بتو خر سند تو بوئے کسے داری
(اے پھول۱ تجھ پر شادمانی ہے کہ تو کسی کی خوشبو رکھتاہے ۔ ت)
مژدہ اے دل کی مسیحا نفسے مے آید
کہ زانفاسخوشش بوئے کسے می آید
(اے دل !خوشخبری ہو کہ مسیحا آتا ہے ، جس کے عمدہ سانسوں سے کسی کوخوشبوآتی ہے ۔ ت)
ع کسی کا دو قدم چلنا یہاں پامال ہوجانا