Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
24 - 212
اب نظر کیجئے کہ یہ آیت کتنی وجہ(عہ) سے افضلیتِ مطلقہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر حجت ہے  :
عہ : ان میں بعض وجوہ افادہ علماء ہیں اوراکثر بحمداللہ تعالٰی استخراجِ فقیر ۱۲منہ
اولاً اس موازنہ سے خود واضح ہے کہ انبیائے سابقین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم ایک ایک شہر کے ناظم تھے ۔ اورحضور پرنور سید المرسلین صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ وعلیہم اجمعین سلطان ہفت کشور ، بلکہ بادشاہ زمین وآسمان ۔ 

ثانیاً اعبائے رسالت سخت گرانبارہیں۔ اوران کا تحمُّل بغایت دشوار
انا سنلقی علیک قولا ثقیلاً۲؂
 (بے شک عنقریب ہم تم پرایک بھاری بات ڈالیں گے ۔ ت)
(۲؂القرآن الکریم   ۷۳/ ۵)
اسی لیے موسیٰ وہارون سے عالی ہمتوں کو پہلے ہی تاکید ہوئی
لاتنیاذکری۳؂
دیکھو میرے ذکر سے سست نہ ہوجانا ۔
 (۳؂القرآن الکریم ۲۰ /۴۲)
پھر جس کی رسالت ایک قوم خاص کی طرف اس کی مشقت تو اس قدر جس کی رسالت نے انس وجن وشرق وغرب کو گھیر لیا اس کی مؤنت کس قدر۔ پھر جیسی مشقت ویسا ہی اجر، اورجتنی خدمت اتنی ہی قدر افضل العبادات احمزھا (سب سے افضل عبادت سب سے سخت ہوتی ہے ۔ ت)
ثالثاً جیسا کام جلیل ہو ویسا ہی جلالت والا اس کےلئے درکار ہوتاہے ۔ بادشاہ چھوٹی چھوٹی مہموں پر افسران ماتحت کو بھیجتا ہے اورسخت عظیم مہم پر امیر الامراء سردار اعظم کو لاجرم رسالت خاصہ وبعثت عامہ میں جو تفرقہ ہے وہی فرق مراتب ان خاص رسولوں اوراس رسول الکل میں ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین۔
رابعاً یونہی حکیم کی شان یہ ہے کہ جیسے علوِّشان کا آدمی ہو اسے ویسے ہی عالیشان کا م پر مقرر کریں کہ جس طرح بڑے کام پر چھوٹے سردار کا تعین اس کے سرانجام نہ ہونے کا موجب ، یونہی چھوٹے کام پر بڑے سردار کا تقرر نگاہوں میں اس کے ہلکے پن کا جالب۔
خامساً جتنا کام زیادہ اتنا ہی اس کے لیے سامان زیادہ ۔ نواب کو اپنے انتظامِ ریاست میں فوج وخزانہ اسی کے لائق درکار ۔ اور بادشاہ عظیم خصوصا سلطان ہفت اقلیم کو اس کے رتق وفتق ونظم میں اسی کے موافق ۔ اوریہاں سامان وہ تائید الٰہی وتربیت ربانی ہے جو حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء پر مبذول ہوتی ہے ۔ تو ضرور ہے کہ جو علوم ومعارف قلب اقدس پر القاء ہوئے معارف وعلوم جمیع انبیاء سے اکثر واوفٰی ہوں ۔
 افادہ الامام الحکیم الترمذی ونقلہ عنہ فی الکبیر الرازی
 (امام حکیم ترمذی نے اس کا افادہ فرمایا ہے اوراس سے امام رازی نے کبیر میں نقل کیا ہے ۔ ت)
اقول : پھر یہ بھی دیکھنا کہ انبیاء کو ادائے امانت وابلاغِ رسالت میں کن کن باتوں کی حاجت ہوتی ہے ۔

(۱) حلم ، کہ گستاخی کفار پر تنگ دل نہ ہوں ۔
دع اذھٰم وتوکل علی اللہ ۱؂۔
ان کی ایذاپر درگزر فرماؤ اوراللہ پر بھروسا رکھو۔ (ت)
(۱؂ القران الکریم   ۳۳ /۴۸)
 (۲) صبر، کہ ان کی اذیتوں سے گھبرانہ جائیں۔
فاصبر کما صبراولو العزم من الرسل۲؂ ۔
تو تم صبر کرو جیساہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (ت)
(۲؂ القرآن الکریم۴۶ /۳۵)
 (۳) تواضع ، کہ ان کی صحبت سے نفورنہ ہوں ۔
واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین ۱؂۔
اپنی رحمت کا بازوبچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے ۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم ۲۶/ ۲۱۵)
 (۴) رفق ولینت ، کہ قلوب ان کی طرف راغب ہوں۔
فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔
 (القرآن الکریم ۳ /۱۵۹)
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی کہ اے محبوب ! تم ان کے لیے نرم دل ہوئے ۔ (ت)
 (۵) رحمت ، کہ واسطہ فاضہ خیرات ہوں۔
ورحمۃ للذین اٰمنوا منکم۳؂ ۔
اورجو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں۔ (ت)
 (۳؂ القرآن الکریم ۹ /۶۱)
 (۶) شجاعت ، کہ کثرتِ اعداء کو خیال میں نہ لائیں ۔
انی لایخاف لدی المرسلون ۴؂۔
بے شک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔(ت)
(۴؂القرآن الکریم۲۷ /۱۰)
 (۷) جُود وسخاوت ، کہ باعث تالیف قلوب ہوں۔
فان الانسان عبید الاحسان وجبلت القلوب علٰی حب من احسن الیہا،
"ولا تجعل یدک مغلولۃ الٰی عنقک"۵؂۔
کیونکہ انسان احسان کا غلام ہے اوردلوں میں خلقی طور پر احسان کرنے والوں کی محبت ڈال دی گئی ہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ۔(ت)
 (۵؂القرآن الکریم  ۱۷/ ۲۹)
 (۸) عفوومغفرت، کہ نادان جاہل فیض پاسکیں۔
فاعف عنہم واصفح ط ان اللہ یحب المحسنین۶؂۔
توانہیں معاف کردو اوران سے درگزرکرو بے شک احسان کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔ (ت)
 (۶؂القرآن الکریم  ۵ /۱۳)
 (۹) استغناء وقناعت، کہ جُہّال اس دعوٰی عظمٰی کو طلب دنیا پر محمودل نہ کریں ۔
لاتمدن عینیک الی مامتعنابہ ازواجاً منھم۱؂۔
اپنی آنکھ اٹھا کر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے دی۔ (ت)
(۱؂القران الکریم  ۱۵/ ۸۸)
 (۱۰) جمالِ عدل ، کہ تثقیف وتادیب وتربیتِ امت میں جس کی رعایت کریں۔
ان حکمت بینہم فاحکم بالقسط۲؂۔
اوراگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ (ت)
(۲؂ القرآن الکریم۵ /۴۲)
 (۱۱)کمالِ عقل ، کہ اصل فضائل ومنبع فواضل ہے ، ولہذا عورت کبھی نبی ہوئی ۔
وماارسلنا من قبلک الارجالا۳؂۔
اورہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے۔ (ت)
 (۳؂القران الکریم ۱۲ /۱۰۹)
نہ کبھی اہل بادیہ وسُکّان دِہ کو نبوت ملی کہ جفا وغلظت ان کی طینت ہوتی ہے  :
  الارجالا نوحی الیہم من اھل القرٰی ۴؂
ای اھل المصار۔
جنہیں ہم وحی کرتے اورسب شہر کے ساکن تھے (ت)
(۴؂ القران الکریم ۱۲ /۱۰۹)
حدیث میں ہے :
من بدأ جفا ۵؂ ۔
 (جس نے دیہات میں رہائش اختیار کی اس نے ظلم کیا۔ ت)
 (۵؂ مسند احمد بن حنبل   عن البراء   المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۲۹۷)

(المعجم لکبیر   حدیث۱۱۰۳۰   الکتمبۃ الفیصلیۃ بیروت      ۱۱/ ۵۷)
اسی نظافتِ نسب وحسن سیرت وصورت سب کی صفاتِ جمیلہ کی حاجت ہے کہ ان کی کسی بات پر نکتہ چینی نہ ہو۔ غرض یہ سب انہیں خزائن سے ہیں جو ان سلاطین حقیقت کو عطاہوئے ہیں، پھر جس کی سلطنت عظیم اس کے خزائن عظیم ۔
حدیث میں ہے  :
ان اللہ تعالٰی ینزل المعونۃ علی قدرالمؤنۃ وینزل الصبرعلی قدر البلاء ۶؂۔
بے شک اللہ تعالٰی ذمہ داری کے مطابق معاونت نازل فرماتاہے اوراازمائش کے مطابق صبر نازل فرماتاہے ۔ (ت)
 (۶؂ کنزالعمال بحوالہ عدوابن لال عن ابی ہریرۃ حدیث۱۵۹۹۲     مؤ  سسۃ الرسالہ بیروت        ۶ /۳۴۷)
توضرور ہوا کہ ہمارے حضور ان سب اخلاق فاضلہ واوصافِ کاملہ میں تمام انبیاء سے اتم واکمل واعلٰی واجل ہوں ۔ اسی لئے خود ارشاد فرماتے ہیں :
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔ اخرجہ البخاری فی الادب ۱؂وابن سعد والحاکم والبیہقی عن  ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیح ۔
میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا۔ ۔ (اس کو بخاری نے ادب میں اورابن سعد، حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ت )
 (۱؂ الادب المفرد    حدیث۲۷۳   المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل    ص۷۸) 

( السنن الکبرٰی کتاب الشہادات    باب بیان مکارم الاخلاق   دارصادر بیروت    ۱۰/ ۱۹۲) 

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد   ذکر مبعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ  دارصادر بیروت   ۱ /۱۹۲  ۱۹۳)
وہب بن منبہّ فرماتے ہیں : میں نے اکہتر کتب آسمانی میں لکھا دیکھا کہ روز آفرنیش دنیا سے قیام قیامت تک تمام جان کے لوگوں کو جنتی عقل عطاکی ہے وہ سب مل کر محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آگے ایسی ہے جیسے تمام ریگستان دنیا کے سامنے ریت کا ایک دانہ ۲؂ ۔
 (۲؂ سبل الہدٰی والرشاد الباب الثالث  دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۱ /۱۹۲  ۱۹۳)
Flag Counter