دوسری آیت : اللہ تعالٰی نے فرمایا : اے محبوب ! ہم نے تجھے نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے ۔
(۱القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷)
عالم ماسوائے اللہ کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔ تولاجَرَم حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان سب پر رحمت ونعمت رب الارباب ہوئے ، اوروہ سب حضور کی سرکارعالی مدارسے بہر ہ مند وفیضیاب ۔ اسی لئے اولیائے کامین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ ازل سے ابد تک ارض وسماء میں اولٰی وآخرت میں دین ودنیا میں روح وجسم میں چھوٹی یا بڑی ، بہت یا تھوڑی ، جو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ میں جہاں پناہ سے بٹی اوربٹتی ہے اورہمیشہ بٹے گی۔ کما بیّنّاہ بتوفیق اللہ تعالٰی فی رسالتنا سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الورٰی ۔(جیسا کہ ہم نے اس کو اللہ تعالٰی کی توفیق سے اپنے رسالہ''سلطنت المصطفی فی ملکوت الورٰی ''میں بیان کیا ہے ۔ ت)
امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ نے اس آیہ کریمہ کے تحت لکھا:
لماکان رحمۃ للعٰالمین لزم ان یکون افضل من کل العٰلمین۱ ۔قلت وادعاء التخصیص خروج عن الظاھر بلادلیل وھو لایجوز عند عاقل فضلا عن فاضل واللہ الھادی۔
جب حضور تمام عالم کے لیے رحمت ہیں واجب ہوا کہ تمام ماسوائے اللہ سے افضل ہوں ۔میں کہتاہوں تخصیص کا دعوٰی کرنا ظاہر سے بلادلیل خروج ہے اوروہ کسی عاقل کے نزدیک جائز نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل کے نزدیک ۔ اوراللہ تعالٰی ہی ہدایت دینے والا ہے ۔ (ت)
(۱مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۶۵)
آیت ثالثہ : قال جل ذکرہ :
وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہٖ۲۔
تیسری آیت : اللہ تعالٰی نے فرمایا : نہ بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر ساتھ زبان اس کی قوم کے ۔
(۲القرآن الکریم ۱ ۴/۴)
علماء فرماتے ہیں : یہ آیہ کریمہ دلیل ہے کہ انبیائے سابقین سب خاص اپنی قوم پر رسول کر کے بھیجے جاتے ۔
اگلے انبیاء صرف اپنی قوم کے رسول ہوئے اورہمارے رسول ہر فرد مخلوق کے لئے۔
اقول: وقال اللہ تعالٰی
لقد ارسلنا نوحاً الٰی قومہٖ۳
وقال تعالٰی
والٰی عاد اخاھم ھودا۴۔
اقول: (میں کہتاہوں) اللہ تعالٰی نے فرمایا : تحقیق ہم نے نوح کو بھیجا اس کی قوم کی طرف ۔ اورفرمایا اللہ تعالٰی نے عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا۔
(۳القرآن الکریم ۷ /۵۹)
(۴القرآن الکریم ۷/۶۵)
وقال تعالٰی
والٰی ثمود اخاھم صٰلحاً۵
وقال تعالٰی
ولوطااذ قال لقومہٖ۶۔
وقال تعالٰی
والٰی مدین اخاھم شیعبا۷۔
اورفرمایا کہ ثمود کی طرف انکی برادری سے صالح کو بھیجا ۔ اورفرمایا : اورلُوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا ۔ اورفرمایا: مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا ۔
ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ باٰیٰتنا الٰی فرعون وملائہٖ۱
وقال تعالٰی
وتلک حجتنا اٰتینٰھا ابراھیم علٰی قومہ ٖ۲
اورفرمایا : پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اوراس کے درباریوں کی طرف بھیجا۔اورفرمایا : اوریہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پرعطافرمائی ۔
(۱القرآن الکریم ۷/۱۰۳)
(۲القرآن الکریم ۶/ ۸۳)
وقال تعالٰی فی یونس علیہ السلام
وارسلناہ الٰی مائۃ الف اویزیدون۳۔
وقال تعالٰی فی عیسٰی علیہ السلام
ورسولاً الٰی بنی اسرائیل۴۔
اوریونس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : اورہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ ۔ اورعیسٰی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: اوررسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔ (ت)
(۳القرآن الکریم ۳۷/۱۴۷)
(۴القرآن الکریم ۳/۴۹)
اسی لئے صحیح حدیث میں فرمایا :
کان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ۔ رواہ الشیخان۵عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا۔(اس کو شیخین نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ ت)
(۵صحیح البخاری کتاب التیمم ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸)
(صحیح مسلم کتاب المساجدومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸)
دوسری روایت میں آیا :
کان النبی یبعث الٰی قریتہ ولا یعدوھا ۔ رواہ ابویعلی۶ عن عوف بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
نبی ایک بستی کی طرف مبعوث ہوتا جس کے آگے تجاوز نہ کرتا۔ (اس کوابو یعلٰی نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
اللہ تعالٰی نے فرمایا : بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر کہ ڈرسنانے والا ہوسارے جہان کو ۔
(۲القرآن الکریم ۲۵ /۱)
اسی لئے خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ارسلت الی الخلق کا فّۃ ۔ اخرجہ مسلم ۳ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں تمام مخلوق الہٰی کی طرف بھیجاگیا(اس کو مسلم نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)
حضور کی افضلیت مطلقہ کی یہ دلیل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ارشادات سے ہے ۔
دارمی ، ابو یعلٰی ، طبرانی ، بیہقی روایت کرتے ہیں اس جناب نے فرمایا:
ان اللہ تعالٰی فضل محمداصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی الانبیاء وعلٰی اھل السماء ۔
بیشک اللہ تعالٰی نے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام انبیاء وملائکہ سے افضل کیا۔
حاضرین نے وجہ تفضیل پوچھی ، فرمایا :
ان اللہ تعالٰی قال :
وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہٖ ،
وقال لمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
وماارسلنٰک الا کافۃ للناس فارسلہ الٰی الانس والجن۴۔
یعنی اللہ تعالٰی نے اوررسولوں کے لیے فرمایا ہے ہم نے نہ بھیجا کوئی رسول مگر ساتھ زبان اس کی قوم کے ۔ اورمحمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فرمایا : ہم نے تمہیں نہیں بھیجا مگر رسول سب لوگوں کیلئے ۔ تو حضور کو تمام انس وجن کا رسول بنایا۔
(۴الدرالمنثور تحت الآیۃ ۱۴ /۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۵ و ۶ )
(شعب الایمان حدیث۱۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۳)
(سنن الدارمی باب مااعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الفضل حدیث۴۷ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرہ ۱/۲۹و۳۰)
علماء فرماتے ہیں : رسالت والاکا تمام جن وانس کو شامل ہونا اجماعی ہے ، اورمحققین کے نزدیک ملٰئکہ کو بھی شامل ، کما حققنا ہ بتوفیق اللہ تعالٰی فی رسالۃ ''اجلال جبریل ''۔بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حجروشجر وارض وسماء وجبال وبحار تمام ماسوا اللہ اس کے احاطہ عامّہ ودائرہ تامّہ میں داخل ، اورخود قرآن عظیم لفظ عٰلمین ، اور روایت صحیح مسلم میں لفظ خلق وہ بھی مؤکد بکلمہ کافّۃ ۔ اس مطلب پر احسن الدلائل طبرانی معجم کبیر میں یعلٰی بن مرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن شیئ الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ الجن والانس۱۔
کوئی چیز نہیں جو مجھے رسول اللہ نہ جانتی ہو ، مگر بے ایمان جن وآدمی ۔