| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
اقول: وباللہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔ت) پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن عظیم نے کس قدر مہتم بالشان ٹھہرایا اورطرح طرح سے مؤکد فرمایا۔ اوّلاً انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء معصومین ہیں۔ زنہار حکم الہٰی کاخلاف ان سے محتمل نہیں ۔ کافی تھا کہ رب تبارک وتعالٰی بطریق امر انہیں ارشادفرماتا اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اوراس کی مدد کرنا، مگر اس قدر پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد وپیمان لیا، یہ عہد عہد
الست بربکم۱
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ت)کے بعد دوسرا پیمان تھا، جیسے کلمہ طیبہ میں
لاالہ الا اللہ
(اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ت)کے ساتھ
محمد رسول اللہ
(محمد اللہ کے رسول ہیں۔ت) تاکہ ظاہر ہوکہ تمام ماسوائے اللہ پر پہلا فرض ربوبیت الہٰیہ کا اذعان ہے ۔
(۱القرآن الکریم ۷ /۱۷۲)
پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ پر ایمان ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف وبجل وعظم۔ ثانیاً اس عہد کو لامِ قسم سے مؤکد فرمایا:
لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ۲ ۔
تم ضرور اس کی مدد کرنا اورضروراس پر ایمان لانا۔(ت)
(۲القرآن الکریم ۳ /۸۱)
جس طرح نوابوں سے بیعتِ سلاطین پر قسمیں لی جاتی ہیں ۔ امام سُبکی فرماتے ہیں : شاید سوگندِ بیعت اسی آیت سے ماخوذ ہوئی ہے ۔ ثالثاً نون تاکید۔ رابعاً وہ بھی ثقیلہ لاکر ثقل تاکید کو اور دوبالا فرمایا۔ خامساً یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجئے کہ حضرات انبیاء ابھی جواب نہ دینے پائے کہ خود ہی تقدیم فرما کر پوچھتے ہیں : ء اقررتم کیا اس امر پر اقرارلاتے ہو ؟یعنی کمال تعجیل وتسجیل مقصود ہے ۔ سادساً اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد ہوا :
واخذتم علٰی ذٰلکم اصری۱ ۔
خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمہ لو۔
(۱القرآن الکریم ۳ /۸۱)
سابعاً علیہ یا علٰی ھٰذا کی جگہ
علٰی ذٰلکم۲
فرمایاکہ بُعد اشارت عظمت ہو۔
(۲القرآن الکریم ۳ /۸۱)
ثامناً اورترقی ہوئی کہ
فاشھدوا۳ ۔
ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ ۔ حالانکہ معاذ اللہ اقرار کر کے مُکر جانا ان پاک مقدس جنابوں سے معقول نہ تھا۔
(۳القرآن الکریم ۳ /۸۱)
تاسعاً کمال یہ ہے کہ فقط ان کی گواہیوں پر بھی اکتفا نہ ہوئی بلکہ ارشادفرمایا:
وانا معکم من الشاھدین۴۔
میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔
(۴القرآن الکریم ۳ /۸۱)
عاشراً سب سے زیادہ نہایت کاریہ ہے کہ اس قدر عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء کو عصمت عطافرمائی ، یہ سخت شدیدتہدید بھی فرمادی گئی کہ :
فمن تولّی بعدذٰلک فاولٰئک ھم الفٰسقون۵۔
ابو جو اس اقرار کے بعد پھرے گا فاسق ٹھہرے گا۔
(۵القرآن الکریم ۳ /۸۲)
اللہ ، اللہ ! یہ وہی اعتنائے تام واہتمام تمام ہے جو باری تعالٰی کو اپنی توحید کے بارے میں منظورہوا کہ ملائکہ معصومین کے حق میں ارشاد کرتاہے :
من یقل منھم انی الٰہ من دونہ فذٰلک نجزیہ جھنم ط کذٰلک نجزی الظٰلمین۶۔
جو ان میں سے کہے گا میں اللہ کے سوا معبود ہوں اسے ہم جہنم کی سزادیں گے ، ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں ستمگاروں کو ۔
(۶القرآ ن الکریم ۲۱ /۲۹)
گویا اشارہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہمیں ایمان کے جز اول لا الٰہ الا اللہ کا اہتمام ہے یونہی جز دوم محمد رسول اللہ سے اعتنائے تام ہے ، میں تمام جہان کا خدا کہ ملائکہ مقربین بھی میری بندگی سے سرنہیں پھیر سکتے اورمیرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتداکہ انبیاء ومرسلین بھی ا سکی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
والحمدللہ رب العٰلمین ،وصلی اللہ تعالٰی علٰی سید المرسلین محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین oاشھد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان سیدنا محمد ا عبدہ ورسولہ سید المرسلین وخاتم النبیین واکر م الاولین والاٰخرین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلٰی اٰلہ واصحابہ اجمعین۔
سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔اوراللہ تعالٰی درودنازل فرمائے رسولوں کے سردارمحمد مصطفی پر ، آ پ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پر ۔ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالٰی کے بغیر کوئی لائق عبادت نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اوریہ کہ ہمارے سردار محمد مصطفیٰ اس کے خاص بندے اوراس کے رسول ہیں۔ وہ تمام رسولوں کے سردار، تمام نبیوں میں آخری نبی اوراگلوں اورپچھلوں سے افضل ہیں ۔ اللہ تعالٰی کے درودوسلام ہوں ان پر، ان کی آل پر اوران کے تمام صحابہ پر۔ (ت) اس سے بڑھ کر حضور کی سیادت عامّہ وفضیلت تامہّ پر کون سے دلیل درکارہے ۔
وللہ الحجۃ البالغۃ
(اوراللہ کی حجت پوری ہے ۔ ت)