| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
عزیزا ! آنگاہ ازیں جواب ،جوابِ سوال خودت دریاب،کہ ایں طلب عزیزاں نیزبہ ہمیں طلبہاماندہ وایں ناگفتنی گفتن،وناجستنی جستن،روزے بروز زیدت نشاند۔
اے عزیز! اب اس جواب سے اپنے سوالوں کاجواب دریافت کرکہ ہی مطالبات انہی مطالبات کی مثل ہیں اورہی ناگفتنی باتیں اورنالائق طلب مطالبہ ایک دن تجھے زیدکی جگہ بٹھائے گا۔
سخنے پرسمت راست گووبہانہ مگیرتو وخدائے تودرکتب دیدہ یا ازعلماء شنیدہ کہ درہمچومحال وسیع المجال حسن وصلاح بکار نیاید،وغیرازصحت چیزے نشاید،ونقولِ علماء پائے ندارد،وقبول ائمہ بارے نیارد،ورنہ الزام غیرلازم،وردیقین جازم،چہ قیامت ذوق یافتہ کہ سرازہمہ تافتَہ ع فان کنت لاتدری فتلک مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃاعظم ۱؎
میں تم سے ایک بات پُوچھتاہوں،سچ کہنااوربہانہ نہ بنانا،کیاتم نے کتابوں میں دیکھایاعلماء سے سُناکہ ایسے وسیع تر مقامات میں حسن وصالح حدیث بیکارہے اورصحت کے سواکوئی چیزدرکارنہیں اورعلمائے کرام کے منقولات کاکوئی درجہ ومقام نہیں؟اورقبولِ ائمہ کچھ وزن نہیںرکھتا؟ورنہ غیرلازم کاالزام اوریقینِ جازم کارَد،کیامظلب؟عجیب ذوق ہے کہ سب کوٹھکرادیا۔ (ترجمہ شعر)''اگرتُونہیں جانتاتویہ ایک مصیبت ہے اوراگرتُوجانتاہے تومصیبت بہت بھاری ہے۔''
(۱؎ نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل فی تفضیلہ بالمحبۃوالخلۃمرکزاہلسنت گجرات ہند۲ /۳۲۸)
وزنہاررندانی کہ ایں بال وپرے کہ مے فشانم از انت کہ حدیث راضعیف میدانم بلکہ برتصانیف امامِ حجت سیدناعبداللہ بن مبارک وقوف نیافتہ ام ورنہ گمان نہ آنچناں ست کہ مخالف راجائے شادی باشد۔
اوریہ ہرگزنہ سمجھیں کہ میں نے اتنی تفصیلی گفتگواس لئے کی ہے کہ حدیث کوضعیف جانتاہوں بلکہ امامِ حجت سیّدناعبداللہ بن مبارک کی تصانیف سے واقف نہیں ہوں ورنہ اس طرح گمان نہیں کہ مخالف خوش ہو۔
سیدی عبداللہ از اعاظم ائمہ وتبع تابعین است ، غالب مشائخ ورجالش ہمیں تا بعین وصحابہ باشند ، یا تبع کہ باایشاں در خور و آزمودن احوال شاں کرد ، ودراں زماں چنانکہ دانی غالب عدالت بو د ، ولہذا استا ذش سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بہ اصالت عدالت قائل شدہ است ، وخود ایں ناقدین کہ تلقی بالقبول کر دہ اند مگر بدمی بری کہ نا دیدہ راہ رفتہ اند ۔
سید ی حضرت عبداللہ بن مبارک عظیم ترین اماموں اور تبع تابعین سے ہیں ، ان کے اکثر مشائخ یہی تابعین وصحابہ ہیں یا تبع اور ان کے کوائف وحالات کی اچھی طرح جانچ پڑتا ل کی ، اور جس طر ح کہ تم خود جانتے ہو اس زمانہ میں عدالت غالب تھی ، اسی وجہ سے ان کے استا د سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اصل عدالت کے قائل ہیں اور خود ناقدین نے تلقی بالقبول کی ہے اور ان کا یہ تلقی بالقبول کا اقدام پوری دیا نتداری اور کامل انشراح صدر کے ساتھ ہے ، اندھی تقلید نہیں ہے ۔
جان برادر ! تو وایمان تو ایں ہمہ ائمہ اولی الا ید ی والابصار کہ یک زبان بر نفی ظل گواہی دہند ، پناہم بخدائے اگر سخن یکے ازیناں یا امثال ایناں بر طبق مزعوم خود ت یا بی چہ غلغلہا کہ نکنی وکلہ بر آسماں افگنی وبر خویشتن بالی وپیش ہر کسے نالی کہ ہے انچہ ستم ست، امامے چناں از نفی ظل بر کراں وفلانے تن نمی دہد، وگوش نمی نہد ، حالیاکہ ستم از تست خدارا دمے نصاف دہ وکلاہ غروررا از سرہنہ ، کہ چرا راہ ایشاں نمی سپر ی ، واز اتفاق دامن کشاں میگذری ، حدیث خواہی ؟ حدیث حاضر ، نقول جوئی ؟ نقول ظاہر ، دلیل طلبی ؟ دلیل موجود ، نقیض جوئی؟ نقیض مفقود ، باز کدامیں سنگ در رہ ، وکبک در موزہ است کہ جائے تسلیم سبزمے بینم ، وروئے خلاف سر خ ، وچہرہ انصاف زرد ، وجبین قر طا س زنا گفتنیہا سیاہ ، عیاذم بخدائے مگر آنکہ مصطفے را صلی اللہ تعالی علیہ وسلم از نور خود ش آفرید ، ومہر نیم روز و ماہ نیم ماہ را کینہ گدائے سرکار ش گر د انید ، نتواند کہ سر و جانفزائے مارا بے سایہ پرورد ، و شاخ گلے کہ ہزار چمنستان جاں فدائے ہر رگ و بر گ او باد ، از گل ز مین لطا فت ، بر جو ئبارنظافت ، پاک از ہمہ کثافت سر براورد ۔
جان برادر ! یہ جو تمام ائمہ کرام بیک زبان نفی ظل کی گواہی دیتے ہیں ، اگر ان میں یا ان کے ہمسر ائمہ سے کوئی بات تو اپنے مزعومہ کے مطابق پاتا تو وہ کون سا شور جو بر پا نہ کرتا ، کلہ آسمان پرچڑھاتا اور پھولانہ سماتا ، ہر ایک کے آگے آہ وزاری کرتا کہ ہائے یہ کیا ظلم ہے ، ایسا امام نفی ظل کا قائل نہیں ، نہ اس کو قبول کرتا ہے نہ اس کی طر ف کان لگاتا ہے لہذا اس وقت ظلم تیری طر ف سے ہے ، خدا را انصاف کر اور تکبر کی ٹو پی سر سے اتا ر ، کیوں ان ائمہ کرام کی راہ پر نہیں چلتا اور اتفاق سے دور کیوں بھاگتا ہے حدیث مطلوب ہے تو حاضر ، اگر نقول چاہئیں تو نقول واضح ہیں ، دلیل کی طلب ہے تو دلیل موجود ، لیکن اگر نقیض کی خواہش ہے تو وہ معدوم ہے ۔ تو اب کون سا پتھر راستہ میں پڑا ہے ،کیوں تسلیم کا مقام خالی دیکھتا ہوں ، خلاف کا چہرہ خوش ، انصاف کا چہرہ شرم وحیاء سے زرد ، اور کا غذ کی پیشانی شرمناک باتوں سے سیاہ ، خدا کی پناہ!لیکن قادر مطلق جل وعلا جس نے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے نور خاص سے پیدا فرمایا اور خور شید در خشانندہ وبد ر درخشندہ کو ان کی سرکار کا ادنی گداگر بنایا ، کیا وہ یہ نہیں کر سکتا کہ ہمارے سر وِ جانفزا کو بغیر سایہ کے پرورش فرمائے اور وہ شاخ گل جس کے ہر رگ وبرگ پر ہزاروں چمنستان قربان ہوں ، پاکیزگی کہ نہر پر گل زمین لطافت سے ، ہر قسم کی کثافت سے پاک پیدا ہو۔
وصلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ قد رحسنہ وجمالہ وجاھہ وجلالہ وجودہ ونوالہ وعزہ و کمالہ ونعمہ وافضالہ ورشدہ فی افعالہ وجہد ہ فی اعمالہ وصدقہ فی اقوالہ وحسن جمیع خصالہ ومحمودیۃ فعالہ وعلینا معشرالملتثمین لنعالہ والمتعلقین باذیالہ امین الہ الحق امین !
اور دورد نازل فرمائے اللہ تعالی آپ پر اور آپ کی آل پر جس قدر آپ کا حسن ، جمال ، مرتبہ ، بزرگی ، فیاضی ، عطا ، عزت ، کمال ، نعمتیں ، نواز ش ، افعال میں رشد ، اعمال میں محنت ، اقوال میں سچائی ، تمام خصلتوں میں حسن اور عادات میں پسندیدگی ہے ، اور ہم پر بھی جو آپ کے نعلین مبارک کو بوسہ دینے والے اور آپ کے دامن کو تھامنے والے ہیں ۔ اے معبود بر حق ہماری دعا کو قبول فرما۔
این ست سطر ے چند کہ با عموم غموم ، وہجوم ہموم ، وتراکم امراض وتلاطم اعراض ، بر نہجے کہ خدائے خواست ، درد و جلسہ گیسوآراست ، من فقیرمی خواستم کہ زلف سخن راشانہ د گر کشم ، اما چہ کنم کہ دریں کوردہ از وطن دور ، واز کتب مہجور افتا دہ ام ، ایں جاجز ء شفاء ونسیم الریاض،مطالع المسر ت وبعض کتب فقہ ہیچک بد ستم نیست ، ورنہ اولی الانظار دیدندے آنچہ دیدندے ۔
یہ چند سطر یح جس طر ح خدانے چاہا ، غم واندوہ کے اجتماع اور امراض وعوارض کے ازدحام کے با وجود دو جلسوں میں تحریرکی گئیں ، دل چاہتا ہے کہ زلف سخن دوسری کنگھی سے سنواروں ، مگر کیا کروں اس اندھی بستی میں وطن سے دور ہوں ، کتابیں پاس نہیں ، یہاں سوائے شفاء نسیم الریاض ، مطالع المسرات اور بعض کتب فقہ کے کوئی کتاب موجود نہیں ، ورنہ آنکھ والے دیکھتے جو دیکھتے ۔
ولکن من یرد اللہ خیرہ یشرح بھذالقدر صدرہ وماذلک علی اللہ بعزیز ان ذلک علی اللہ یسیر، ان اللہ علی کل شی قدیر ، وکان ذلک لمنتصف جمادی الاخری عام تسع وتسعین بعد الالف والمائتین ۔
لیکن اللہ تعالی جس کی بھلائی کا ارادہ فرمائے اسی قدر سے اس کا سینہ کھول دے ، اور اللہ تعالی پر یہ کوئی مشکل نہیں ، بے شک اللہ تعالی کے لئے یہ آسان ہے ، بے شک اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے ۔یہ نصف جمادی الاخری ۱۲۹۹ ھ کو مکمل ہوا ۔(ت)
رسالہ ھدی الحیران فی نفی الفی عن سیدالاکوان ختم ہوا۔
اللہ کے فضل وکرم سے ۲۵ رجب المرجب ۱۴۲۹ ھ بروز منگل بوقت ۳ بجکر ۳۰ منٹ یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ گیا