(۱) زید ہندہ رابشہادت دو مرد فا سق بزنی گرفت ، صباح نکاح خلوت ناکردہ ، ترک زن میگوید ، ونیمہ مہر دادن نمے خواہد ، کہ نکاح مرا شہود عدول مے بایست ۔
سوال (۱) دو گواہوں کے سامنے زید نے ہندہ کے ساتھ نکاح کیا اور صبح خلوت سے پہلے ہی اسکو چھوڑدیا اور نصف مہر بھی نہیں دینا چاہتا ، کہتا ہے کہ میرے نکاح کے لئے گواہ عادل چاہئے ۔
(۲) یوم غیم مردے بہ رویت ہلال صوم گواہی داد ، صبحدم زید قلیان بد ست و پان در ودہان بر آمد ، کہ مرا لا اقل شہادت دو مرد باید ۔
(۲) مطلع ابر آلود تھا ایک مرد نے روزہ کے چاند دیکھنے کی گواہی دی ، صبح کے وقت زید ہاتھ میں حقہ ،منہ میں پان ڈال کر باہر آیا کہ مجھے ایک مرد کی گواہی کافی نہیں دو مردو ں کی شہادت چاہے ۔
(۳) عمر و زید دعوے مالے کرد ، وبشہادت دوعدل اثبات نمود ، زید گوید نپذیرم تا چار گواہ نباشند۔
(۳) عمر و نے زید پر کچھ مال کا دعوی کردیا اور دوعادل گواہوں کی شہادت سے ثابت بھی کردیا مگر زید کہتا ہے جب تک چار گواہ نہ ہوں میں قبول نہیں کرتا ۔
(۴) گواہاں در امثال ونکاح شہادت بر تسامع دادند ، زید گفت مرا شہود معائنہ درکار ست ۔
(۴) گواہوں نے وقف اور نکاح ایسے امور کے متعلق شنید پر گواہی دی ، زید کہتا ہے مجھے عینی گواہ چاہے ۔
(۵) بکر برادرِ زید مرد ، زنش نازنین ازو دخترے دارد شیریں ، زید مے خواہد کہ شیریں را عروس خانہ خود نماید ، نازنیں گفت ستمگار اآخر از خدا شرمے کہ بر ادر زادہ تست ، زید مے گوید مرا چہ داناند کہ قالب شیریں ہم از نطفہ بکر تخمیر یافتہ ست ، آخر ہر دعوی را بینہ لازم ، اینجاگواہ کہ بینہ کدام ؟ نازنین گفت بر بستر بر ادرت زائید الولد للفراش ۱؎گفت آحادم نمے شاید ، حدیثے متواتر باید ۔
(۵) زید کا بھائی بکر فوت ہوگیا ، اس کی زوجہ مسماۃ نازنین کے بطن سے اس کی ایک لڑکی مسماۃ شیریں تھی، زید شیریں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ نازنین کے کہا ظالم ! خدا سے شرم کر یہ تیری بھتیجی ہے ۔ زید کہتا ہے مجھے کیا علم کہ شیریں کا بد ن میرے بھائی بکر کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے ، آخر دعوی کے لئے گواہ لازم ہیں اور یہاں کوئی گواہ نہیں، نازنین نے کہا تیرے بھائی کے بستر پر پیدا ہوئی ہے الولد للفراش ( بچہ فراش کے لئے ہے ) اس نے کہا یہ خبر واحد ہے مجھے خبر متواتر چاہے۔
(۱ صحیح البخاری کتاب الخصومات باب دعوی الوصی للمیت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶)
(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الولد للفراش قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۰)
(جامع الترمذی ابواب الرضاع باب الولد للفراش امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳۸ )
(سنن ابی داؤد ،کتاب الطلاق باب الولد للفراش آفتاب عالم یرس لاہور ۱ /۳۱۰)
(۶) سعید بامردماں نماز میکر د ، زید اقتداء ناکردہ برمے گر دد ، کہ اوہمیں تنہا وضو کردہ است ، ومن امامے خواہم کہ از ہر حدیث غسل آرد۔
(۶) سعید نے باجماعت نماز ادا کی مگر زید نے اقتداء نہ کی اور یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا کہ اس امام نے صرف وضو کیا ہے ، مجھے وہ امام چاہے جو ہر حدث سے غسل کرے ۔
(۷)بر زیدا ز خواص آیات معینہ وفضائل صور مخصوصہ احادیث صحاح خواندند کہ ببیں چناں چمنے ست شاداب وگلشنے با آب وتاب گفت بخارے نیر زد تا بخاری نیار د یامسلم ندانم تادر مسلم نخوانم ۔
(۷) مخصوص آیات کے خواص اور خاص سورتوں کے فضائل زید کو احادیث صحیحہ سے سنائے گئے کہ دیکھ یہ کیسا تر و تا زہ چمنستان اور خوبصورت گلستان ہے ۔ اس نے کہا ایک کانٹے برابر نہیں جب تک بخاری نہ لائے یا میں نہیں مانتا جب تک میں مسلم میں نہ پڑھ لوں۔
(۸) زید را گفتند مالک عن نافع عن ابن عمر گفت بہ ہیچ نخرم کہ معنعن ست نہ متصل بسماع ۔
(۸) بطور حوالہ زید کو سند مالک عن نافع عن ابن عمر سنائی گئی ، اس نے کہا میں سند معنعن پر اعتمادنہیں کرتا سند متصل بہ سماع ہونی چاہے ۔
(۹) زید گوید مفتی اطراف ریاست فلانی را اجازت مداخلت درمعارک شریعت کہ داد ، گفتہ شد علمے دارند و خیلے بزرگو ارند ، گفت مردماں چنیں وچناں گویند ، اما فقیر ایں سخن را در کتا بے کہ لائق اعتماد باشد واہل اسنا دآں رابہ بہ سند صحیح بیان کردہ باشند ، ندیدہ و نہ در صحاح وسنن مروجہ از کسے شنیدہ ، وآنچہ اہل صدی سیزدہم بمجرد دعوے بر زبان آرند اعتماد آں چنانچہ اہل حدیث راست معلوم ۔
(۹) زید کہتا ہے کہ فلاں ریاست کے مفتی کو مسائل شرعیہ میں فتوی دینے کی کس نے اجازت دی ہے ؟ کہاگیا کہ بہت بڑے عالم میں ۔ اس نے کہا لوگ ایسی ویسی باتیں کرتے ہیں مگر فقیر نے اس بات کو کسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہوا ور اہل اسناد نے اس کو بہ سند صحیح بیان کیا ہو ، نہیں دیکھا اور نہ صحاح وسنن مروجہ میں کسی سے سنا اور جو کچھ تیرھویں صدی کے لوگ صرف زبانی دعوٰی کرتے ہیں ، اس کا اعتماد جس طر ح اہل حدیث کو ہے معلوم ہی ہے ۔
(۱۰) ازمناقب رجال وفضائلِ اعمال ہزاردرہزاراحادیث حِسان وصوالح برزیدخواندندشوخ چشم گوید بے صحت اسناد خرط القتاد۔
(۱۰) مناقب وفضائل کے متعلق ہزاروں حدیثیں حسن وصالح زید کو سنائی گئیں ، وہ شوخ چشم کہتا ہے کہ صحت اسناد کے سوا خرط القتاد ہے (یعنی بے سود اور نقصان دہ ہے )
ان دس۱۰صورتوں کے بارے میں علمائے کرام(اللہ تعالٰی ان کی روشن کامیابی سے مددفرمائے)سے فتوٰی مطلوب کہ ان تمام صورتوں میں زیدشرعِ مطہّرکے نزدیک غلطی پرہے یانہیں اوراس کے مطالبات ومواخذات بے جاوفضول ہیں یانہیں؟بیان فرماؤاجرپاؤگے۔
فی الحال اگرعلمائے کرام کی طرف سے حکم ملے کہ زیدزیادتی کرتاہے،شریعت پرتجاوزکرتاہے،جوازِنکاح کے لئے عدالتِ شہودضروری نہیں۔بادل ہوںتوایک سے زیادہ گواہ لازم نہیں۔مالی معاملہ میں دو۲سے زیادہ گواہوں کامطالبہ درست نہیں۔ وقف ونکاح میں شہادتِ عینی کالزوم بھی نہیں۔فراش ثبوتِ نسب کے لئے کافی ہیں،اورحلال وحرام کے لئے آحادکافی ہیں۔ہرحدث سے غسل کیوں ضروری ہے؟صرف صحیحین کی احادیث میں قبول بندنہیں۔مالک ونافع تدلیس سے بَری ہیں لہٰذا اُن کااسنادِمعنعن سماعِ جلی کاحکم رکھتاہے۔فلاں کے علم ثابت کرنے کے لئے حدیث نہیں آتی۔مناقب وفضائل کے لئے حدیثِ صحیح کاموجودہوناضروری نہیں،پس اومُردہ دل زید! یہ کیامفت کابکواس اورجوشِ جنونی کہ توہرجگہ بے ضرورت دلیل مانگتاہے یاقدرِمطلوب سے زیادہ طلب کرتاہے۔تیرے یہ تمام مطالبات اپنے ہی مَن گھڑت اورنامقبول ہیں اورمجیبِ مطالب تیری خواہشات کے مطابق جواب کی مشقّت برداشت کرنے سے بے نیازہے۔ تم الجواب واللہ تعالٰی اعلم بالصواب