Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
210 - 212
امام ممدوح المقام ، اعلی اللہ درجاتہ فی دارالسلام ، درتخریج احادیثش فرماید ، درکتب حدیث ازیں اثر ہیچ اثر ے نیست ، اما او راصاحب اقتباس الانوار وامام ابن الحاج درمدخل مفصل ومطول آوردہ اند ودرہمچو مقام ایں قدربہ سند ست کہ اینجا سخن از حلال وحرام نمیر ود۔
امام ممدوح المقام (جلال الدین سیوطی) اعلی اللہ درجاتہ فی دارالسلام ) اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں : کتب حدیث میں اس حدیث کے بارے میں کوئی نشان نہیں ہے ، البتہ صاحب اقتباس نے اورمدخل میں امام ابن الحاج  نے اس کو مفصل ذکر فرمایا ہے اوراس قسم کے مقامات میں اس قدر سند کے ساتھ حدیث کافی ہےکہ یہاں حلال وحرام کا مسئلہ نہیں ۔
علامہ خفاجی ایں معنٰی را از جناب رفعت قبایش نقل کردہ بمسند قبول وتقریر جائے مے دہد، حیث قال ، قال السیوطی فی تخریجہ:
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثر لکن صاحب الاقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذٰلک سند المثلہ فانہ لیس مما یتعلق بالاحکام۱؂۔
خفاجی اس کو حضرت امام سیوطی سے نقل کر کے مسند قبول وتقریر پر جگہ دیتے ہیں ، حدیث قال ، قال السیوطی فی تخریجہ (جہاں کہ امام سیوطی نے اپنی تخریج میں فرمایا ۔ت ) : میں نے اس کو کتب حدیث میں سے کسی میں نہ پایا لیکن صاحب اقتباس انوار اورمدخل میں ابن الحاج نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں اس کاتذکرہ کیا ہے اورایسے مسائل کے لئے اتنی ہی سند کافی ہے کیونکہ اس کا تعلق احکام سے ہے ۔
 (۱؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الباب الاول ، الفصل السابع ، مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۲۴۸)
عزیزا !چشم انصاف از رمد تعصب صاف بکشا، وشیوہ ائمہ دین ، پس از تصحیح عقیدت بین کہ دریں چنیں مسالک چگونہ راہ رفتہ اند، وکدامیں سیر پیش گرفتہ ، سپید میگویند کہ ازیں خبر درکتب الاثر لاخبر ولا اثر ، باز بر مجرد ذکر بعض اعتماد واستناد روامے دارند ، وحدیث راز پایہ تکمیل ساقط نمی پندارند، مگر پایہ نکتہ دانی ، وترک توانی ، ودروغ فلانی ، برتدقیق وتحقیق ، واحتیاط انیق ، ایں سادہ کرام ، وقادہ عظام ، نیز چربیدہ است، کہ سخن از کتب فن دامن پرچیدہ ، بردائرہ تنگ صحاح وسنن مروجہ محصور ومقصور گرویدہ است فالی اللہ المشتکٰی ممن یسمع فلا یسمع ویرٰی فلایرٰی ۔
عزیزا ! مرض تعصب سے تندرست چشم انصاف کھول اورعقیدہ درست کر کے ائمہ دین کا پاکیزہ شیوہ دیکھ کر ایسے مسالک میں کس طرح چلتے ہیں اورکیا طریقہ اختیار کرتے ہیں ، واضح طور پر کہتے کہ اس حدیث کے متعلق کتب حدیث میں نہ کوئی خبر ہے نہ نشان ، پھرصرف بعض کے ذکر کرنے پر اعتماد واستناد جائز رکھتے ہیں اور حدیث کو پایہ تکمیل سے ساقط گمان نہیں کرتے ، شاید اپنی نکتہ دانی ، ہوشیاری وپرہیزگاری کا مقام ان سادات کرام ، قائدین عظام کی تدقیق وتحقیق اوربہترین احتیاط پر بڑھا دیاکہ گفتگو نے اپنا دامن تمام کتب فن سے لپیٹ کر صحاح وسنن مروجہ کے دائرہ تنگ میں بند کردیا
الی اللہ المشتکٰی
(تواللہ تعالٰی ہی کی بارگاہ میں فریادہے ۔ت)
قولہ :  وآنچہ اہل سیر ومغازی بیان میکنند۔
قولہ :  اورجو اہل سیر ومغازی بیان کرتے ہیں الخ
اقول :  ہماناگوش عزیزاں گاہے بہ امثال ایںسخناں ازکلمات ائمہ والا شان آشناشدہ است وازمحال محاورہ ومجال مناظرئہ آناں بوئے نشنیدہ بے راہہ اسپ دوانیدن گرفت،ازخیبربصیرپرس،محل ایں کلام آنست کہ قصاص واعظین،وجہال مورخین،تودہ تو دہ حکایات بے سروپا،وافسانہائے فتنہ راتکثیراً للسواد،یاترویجاًللفساد،ورکتب خودشان مے آرند،وازمناقضہئ اصول،ومعارضہ نقول،باکے ندارند،گاہے افسانہ اوریاوداستان زلیخاوصہ زہرہ وتذکرہ شجرہ،بہ نہمے تقریرکنندوساحت عصمت حضرات رسالت،وجنودصمدیت،عیاذاًباللہ آلودہ عیبے کند،وگاہے حادثہ جمل وواقعہئ صفین،ومشاجرات صحابہ، ومحاورات امہات المومنین بہ نوعے وانمایندکہ معاذاللہ بہ تنقیص مقام واجب الاعظام یکے ازاناں پہلوزند،آنجاائمہ دین کہ خدائے ایشاں رابہرحمایت سنن ونکایت فتن برپاساختہ است،درمقام تفصیل زبان بہ تضعیف وتزییف آں اقوال سخیف میکشایند،ودرمحل اجمالی باعتماداصول،وصحاح نقول، پیوستن وازخوض خائفاں وکشاکش ایں وآں پاک برجستن مے فرمایند، کہ دع مایریبک الی مالایریبک۱؂
اقول :  غالباً عزیزوں کے کان ایسی باتوں سے تو آشنا ہوئے مگر ائمہ عالیشان کے مکالمات اورجوابی کلمات سے کچھ نہ سنا اور بے راہ گھوڑا دوڑایا، کسی دانابینا سے پوچھ ، دراصل بات یہ ہے کہ قصہ گوواعظوں اورجاہل مورخوں نے مجمع بڑھانے اورفساد پھیلانے کے لئے اپنی کتابوں میں بے سروپا حکایات اورفتنہ انگیز افسانے درج کردئے، اصول شکنی اورمنقولات کی خلاف ورزی سے کچھ خوف نہ کیا، کبھی اوریاکا افسانہ ، زلیخا کی داستان ، زہرہ کا قصہ اورشجرہ کا تذکرہ اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ معاذاللہ عصمت انبیاء کرام ودیگر معصومین کو عیب آلود کرتے ہیں اورکبھی جنگ جمل کا حادثہ ، صفین کا واقعہ ،صحابہ کرام کا اختلاف اورامہات المومنین کا باہمی مکالمہ ایسے طریقہ سے نمایاں کرتے ہیں کہ معاذاللہ ان نفوس قدسیہ کے مقام واجب الاحترام کی تنقیص کا پہلو نمایاں ہوتاہے ، اسی وجہ سے ائمہ دین ،جن کو اللہ تعالٰی نے سنن کی حمایت ونگرانی اورفساد وفتن کے محودسرکوبی کا عظیم منصب عطافرمایا ہے ، مقام تفصیل میں ان ناشائستہ اقوال کا ضعف وعیب ثابت کرتے ہیں اورمحل اجمال میں اصول اورمنقولات صحیحہ کو مضبوط پکڑنے اورغیر ذمہ دار نکتہ چینوں کی من گھڑت حکایات حکایات سے اجتناب کا حکم فرماتے ہیں کہ
دع ما یریبک الی ما یریبک
 (جوتیرے کھٹکے اس کو چھوڑ دے اورجو نہ کھٹکے اس کو اختیار کرلے ۔)
 (۱؂ صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیرالمشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۲۷۵)
واینہاکہ میگویم ہمبرسبیلِ مدارتِ عزیزاں وارخائے عنانِ کَلْ میکندورنہ خودچہ میگوئی ازمسئلہ کہ تن تنہاہمیں قسم مردماں بہ ذکرش انفرادوارندبہ طرقِ عدیدہ مروی آمدہ،وچندائمہ آنراہ تخریج کردہ،ناقدانِ فن سلفاًوخلفاًنہ کنارِسلّمناوآغوشِ صدقناگرفتہ، ودلیلے باہزارنصوصِ متکاثرہ براں قیام پذیرفتہ۔
اوریہ جوہم کہتے ہیں بطورِنرم روی واِرخائےعنان،خاموش کرانے کے لئے کافی ہے۔ورنہ تم اس مسئلہ کے متعلق کیاکہوگے جس کونہ صرف ایسے لوگ ہی اکیلے بیان کررہے ہیں بلکہ بہت سے طُرق واَسانید سے مروی ہے،کئی اماموںنے تخریج فرمایاہے اورسلفاًوخلفاًناقدینِ فن نے تسلیم کیاہے اورتصدیق فرمائی ہے اوراس پرنصوصِ کچیرہ سے واضح اورمضبوط دلیل قائم ہوئی۔
مع ہذاحاشاکہ امثال مواہب،وکتاب الشفاء،ودلائل النبوہ،وتحقیق النضرہ،وخصائص خیفری،وروض سہیلی ، وخلاصۃالوفاء ، وخصائصِ کبرٰی،وسیرت شامی،وسیرت حلبی وغیرہاکتبِ ائمہ دین رحمۃاللہ تعالےٰ علیہم اجمعین کہ درخصائص وفضائل وسِیَروشمائل حضورپُرنورصلوات اللہ تعالٰی وسلامہ، علیہ تصنیف کردہ اند،درسلکِ ایں چُنیں کتب منخرط،ونزدِمحدثین ازپایہ اعتبارساقط باشد۔
پھرمع ہذاخداکی پناہ!کہ کتاب مواہب،شفاء،دلائل النبوہ،تحقیق النضرہ،خصائص خیفری،روض سہیلی، خلاصۃالوفاء، خصائص کبرٰی،سیرتِ شامی،سیرتِ حلبی ایسی کتابیںودیگرتصانیفِ ائمہئ دین رحمہم اللہ تعالےٰ،اس قسم کی غیرمعتبرکتابوں میں شمار ہوں اورمحدثین کے نزدیک بے اعتمادوبے اعتبارہوں۔
ایناں کہ خداسعیِ اینہامشکور وجزاءِ آناں موفورگرداند،چہ عمرہاکہ درتنقیح وتنقید،وتصحیح وتسوید،برسَربردہ اند ، وچہ شبہاکہ درتنظیف وترصیف،تا لیف ونصنیف،دُودِچراغ وخون جگرنخوردہ،وہم ایشانندکہ بہ قضیّہ لاعبرۃبماقال المؤرخون لب کشادہ اند۔
ان حضرات(اللہ ان کی کوشش کوسعیِ مشکوراورجزاء کوجزائے کامل بنائے)نے کیسی عمریں تنقیح وتنقیداورتصحیح وتسویدمیں گزار دیں اورکتنی بے شمارراتیں کتبِ سیرتِ طیّبہ کی تنظیف وترصیف اورتالیف وتصنیف میں دُودِچراغ اورخونِ جگرنہ پیا،یہی حضرات گرامی شان ہیں جنہوں نے
لاعبرۃبماقال المؤرخون
 (مؤرخون کے قول کاکوئی اعتبارنہیں)کاحکم صادرفرمایاہے۔
اگرمقصوداطلاق است،چنانکہ خاطرِعزیزاں بدان مشتاق ست،یارب،مگرمحنت ایناں یکدست بربادرفتہ باشد،وایں ہمہ کاوکاوجانکاہ رنگے ندادہ آبے نہ گرفتہ،علٰی ہذاایشاں راچہ روئے نمودکہ باوجودنابہبودوانعدام سودایں ہمہ وقت رائیگاں کردند، وآں حاصل بیحاصل وطائل لاطائل راثمرہ اوقات،ونخبہ حسنات شمردند۔
اگرمقصوداطلاق ہے جیساکہ عزیزوں کادل اسی کامشتاق ہے،یارب!پھرتوشائدان کی ساری محبت بر باد وضائع ہوگئی اور یہ تمام جانگداز کو ششیں کوئی رنگ لائیں نہ کوئی عزت پاسکیں ۔ پھر ان ائمہ کرام کو کیا نظر آیا کہ یہ سارا وقت بے سود ضائع کردیا اور اس بے فائدہ چیز کو اپنے اوقات کا ثمر ہ اور حسنات کا نتیجہ شمار کر بیٹھے ۔
مگر سخن آنست کوچوں روئے سلمے ندیدہ ، وبوئے سلمے نشنیدہ ، آخر درحسن سلمی چانہ بے جا مزن واللہ الھادی لقمع الفساد و قلع الفتن ۔
در اصل با ت یہ ہے کہ جب تو نے رخ محبوب دیکھا ہی نہیں ، خوشبوئے حبیب پائی ہی نہیں تو تو حسن محبوب کے متعلق بیہود ہ گوئی مت کرو
واللہ الھادی لقمع الفساد وقلع الفتن
 ( اور اللہ تعالی ہی ہدایت دینے والا ہے فتنوں اور فساد کے خاتمہ کی)
قولہ :  پس ہرکر ااز اہل علم ثبوت آں ازروئے سند صحیح الخ۔
قولہ : پس اہل علم کے لئے چاہے کہ اس کا ثبوت از روئے سند صحیح الخ ۔
اقول :  پیش از جواب سوال شما چند بجناب شماد ارم ہر کہ داند خود بگوید
لتبیننہ للناس و لاتکتمونہ ۱؎
ورنہ از دانندگان پر سد کہ
فاسئلوااھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ۔ ۲؎
اقول :  تمہارے سوال کے جواب سے پہلے ہم چند سوال پیش کرتے ہیں ، صاحب علم خود جواب دیں۔
لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ
 (کہ تم ضرور اسے لوگو ں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا ) اور بے علم اہل علم سے استفادہ کریں
فاسئلوا اھل الذکر ان کتنم لاتعلمون
 (تو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو )
 (۱؂  القرآن الکریم ۳/ ۱۸۷)

(۲؂  القرآن الکریم     ۱۶ /۴۳و۲۱/۷)
Flag Counter