آیت اولٰی : قال تبارک وتعالی : واذخذ اللہ میثاق النبیین لما اٰتیتکم من کتٰب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ء اقررتم واخذتم علی ذٰلکم اصری ط قالو اقررنا قال فاشھدوا وانا معکم من الشٰھدین فمن تولّی بعد ذٰلک فاولٰئک ھم الفاسقون۱۔
پہلی آیت : اللہ تبارک وتعالٰی نے فرمایا ، اوریاد کراے محبوب ! جب خد انے عہد لیا پیغمبروں سے کہ جو میں تم کو کتاب وحکمت دوں ، پھر تمہارے پاس آئے رسول تصدیق فرماتا اس کی جو تمہارے ساتھ ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا ، اوربہت ضروراس کی مدد کرنا ۔ پھر فرمایا کیا تم نے اقرار کیا ، اوراس پر میرا بھاری ذمہ لیا ۔ سب انبیاء نے عرض کی کہ ہم ایمان لائے ۔ فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔ اب جو اس کے بعد پھرے گا تووہی لوگ بے حکم ہیں۔
(۱القرآن الکریم ۳ /۸۱)
امام اجل ابو جعفر طبری وغیرہ محدثین اس آیت کی تفسیر میں حضرت مولی المسلمین امیر المومنین جناب مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی :
لم یبعث اللہ نبیا من اٰدم فمن بعدہ الااخذ علیہ الھعد فی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لئن بعث وھو حی لیؤمنن بہ ولینصرنّہ ویاخذ العھد بذٰلک علی قومہٖ۲۔
(۲المواہب اللدنیۃ عن علی المقصد الاول اخذ العہد علی الانبیاء المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۶۶)
(جامع البیان(تفسیر الطبری) تحت آیۃ ۳ /۸۱ داراحیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۸۷)
یعنی اللہ تعالٰی نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لے کر آخر تک جتنے انبیاء بھیجے سب سے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں عہد لیا گیا کہ اگریہ اس نبی کی زندگی میں مبعوث ہوتو وہ ان پرایمان لائے اور ان کی مددفرمائے اوراپنی امت سے اس مضمون کا عہد لے ۔
اسی طرح حِبرالائمہ عالم القرآن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہوا، رواہ ابن جریر ۱وابن عساکر وغیرہما(اس کو ابن جریر اورابن عساکر وغیرہ نے روایت کیا۔ ت)
(۱جامع البیان(تفسیر الطبری) تحت آیۃ ۳ /۸۱ داراحیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۸۷)
بلکہ امام بدرزرکشی وحافظ عماد بن کثیر وامام الحفاظ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اسے صحیح بخاری (عہ) کی طرف نسبت کیا ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
ونحوہ اخرج الامام ابن ابی حاتم فی تفسیرہ عن السدی کما اوردہ الامام الاجل السیوطی فی الخصائص الکبرٰی۲۔اوراس کی مثل امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کیا جیسا کہ امام اجل سیوطی علیہ الرحمہ نے خصائص کبرٰی میں وارد کیا ہے ۔ (ت)
عہ: قال الزرقانی قال الشامی ولم اظفربہ فیہ ۳ ۱۲منہ۔
زرقانی نے کہا : شامی نے فرمایا ہے کہ میں اس کو صحیح بخاری میں نہیں پاسکا۔ت)
(۲الخصائص الکبرٰی باب خصوصیۃ باخذ المیثاق علی النبیین الخ مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۸)
(۳شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفہ بیروت ۱ /۴۰)
اس عہد ربانی کے مطابق ہمیشہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء نشرمناقب وذکر مناصب حضور سید المرسلین صلٰوۃ اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے رطب اللسان رہتے اور اپنی پاک مبارک مجالس ومحافل ملائک منزل کو حضور کی یاد ومداح سے زینت دیتے ، اور اپنی امتوں سے حضورپرنورپر ایمان لانے اورمدد کرنے کا عہد لیتے یہاں تک کہ وہ پچھلا مژدہ رساں کنواری بتول کا ستھر ابیٹا
مسیح کلمۃ اللہ علیہ صلوات اللہ
مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۴
(اس رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعدتشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ۔ت)کہتا تشریف لایا۔اورجب سب ستارے روشن مہ پارے مکمنِ غیب میں گئے افتاب عالمتاب ختمیت مآب نے باہزاراں ہزار جاہ وجلال طلوع اجلال فرمایا صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین وبارک وسلم
دھر الداھرین
(اللہ تعالٰی آپ پر اوردیگر تمام رسولوں پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرمائے ۔ ت)
(۴القرآن الکریم ۶۱ /۶)
ابن عساکرسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
لم یزل اللہ یتقدم فی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الٰی اٰدم فمن بعدہ ولم تزل الامم تتباشربہ وتستفتح بہ حتی اخرجہ اللہ فی خیر امۃ ، وفی خیر قرن وفی خیر اصحاب وفی خیر بلد۱۔
ہمیشہ اللہ تعالٰی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں آدم اور ان کے بعد سب انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے پیشگوئی فرماتارہا ، اورقدیم سے سب امتیں تشریف آوری حضور کی خوشیاں مناتیں اور حضور کے توسل سے اپنے اعداء پر فتح مانگتی آئیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو بہترین امم وبہترین قرون وبہترین اصحاب وبہترین بلاد میں ظاہر فرمایا، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابن عساکر باب خصوصیت باخذ المیثاق الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱/ ۸ و ۹)
اوراس کی تصدیق قرآن عظیم میں ہے :
وکانو امن قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ماعرفواکفروابہ فلعنۃ اللہ علی الکٰفرین۲۔
یعنی اس نبی کے ظہور سے پہلے کافروں پر اس کے وسیلہ سے فتح چاہتے ، پھر جب وہ جانا پہچانا ان کے پاس تشریف لایا منکر ہوبیٹھے تو خدا کی پھٹکار منکروں پر۔
الہٰی ! مدددے ان پر صدقہ نبی آخر الزمان کا جس کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں۔
(۳الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۸۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۹۶)
اس دعا کی برکت سے انہیں فتح دی جاتی ۔ ٍ
اسی پیمان الٰہی کا سبب ہے کہ حدیث میں آیا حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
والذی نفسی بیدہٖ لو ان موسیٰ کان حیّاً الیوم ماوسعہ الا ان یتبعنی ۔ اخرجہ الامام احمد ۱والدارمی والبیھقی فی شعب الایمان عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ، ابو نعیم فی دلائل النبوۃ واللفظ لہ عن امیر المؤمنین ۲۔عمر الفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج اگر موسیٰ دنیا میں ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کو گنجائش نہ ہوتی (اس کو امام احمد،دارمی اورشعب الایمان میں بیہقی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اورابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اورلفظ ابو نعیم کے ہیں ۔ت)
(۱مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۸۷)
(۲دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الاول عالم الکتب بیروت الجزء الاول ص۸)
اوریہی باعث ہے کہ جب آخر الزمان میں حضرت سیدنا عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نزول فرمائیں گے بآنکہ بدستور منسب رفیع نبوت ورسالت پر ہوں گے ، حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے امتی بن کر رہیں گے ، حضور ہی کی شریعت پر عمل کریں گے، حضو رکے ایک امتی ونائب یعنی امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ حضورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم ۔ اخرجہ الشیخان ۳عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کیسا حال ہوگا تمہارا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اورتمہارا امام تم میں سے ہوگا (اس کو شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۳صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی بن مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۰ )
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسٰی بن مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۷)
اوراس عہد واثق کی پوری تائید وتوکید حق عزجلالہ نے توریت مقد س میں فرمائی جس کی بعض آیتیں ان شاء اللہ تابش اول ہیکل دوم میں مذکور ہوں گی ۔
امام علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک نفیس رسالہ ''التعظیم والمنہ فی لتؤمنن بہ ولتنصرنہ ''لکھا ۔ اوراس میں آیت مذکورہ سے ثابت فرمایا کہ ہمارے حضور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سب انبیاء کے نبی ہیں، اورتمام انبیاء ومرسلین اوران کی امتیں سب حضور کے امتی ۔ حضور کی نبوت ورسالت زمانہ سیدنا ابوالبشر علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روز قیامت تک جمیع خلق اللہ کو شامل ہے ، اورحضور کا ارشاد
''وکنت نبیا واٰدم بین الروح والجسد''۱
(میں نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام روح وجسد کے درمیان تھے ۔ ت)اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔
(۱المستدرک للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ۲ /۶۰۹ )
(کنزالعمال بحوالہ ابن سعد حدیث۳۱۹۱۷ ۳۲۱۱۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۹ و۴۵۰)
اگرہمارے حضور حضرت آدم ونوح وابراہیم وموسیٰ وعیسٰی صلی اللہ تعالٰی علیہم وسلم کے زمانہ میں ظہو رفرماتے ، ان پر فرض ہوتا کہ حضور پر ایمان لاتے اور حضور کے مددگار ہوتے ۔ اسی کا اللہ تعالٰی نے ان سے عہد لیا اورحضور کے نبی الانبیاء ہونے ہی کا باعث ہے کہ شب اسرا تمام انبیاء ومرسلین نے حضور کی اقتداء کی ، اوراس کا پورا ظہور اروز نشور ہوگا جب حضور کے زیر لو ا آدم ومن سوا کا فہ رسل وانبیاء ہوں گے ، صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔ یہ رسالہ نہایت نفیس کلام پر مشتمل جسے امام جلال الدین نے خصائص کبری اور امام شہاب الدین قسطلانی نے مواہب لدنیہ اورائمہ مابعد نے اپنی تصانیف منیعہ میں نقل کیا اور اسے نعمت عظمیٰ ومواہب کبرٰی سمجھا من شاء التفصیل فلیرجع الٰی کلما تھم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین (جو تفصیل چاہتا ہے وہ ان کے کلام کی طرف رجوع کرے ان سب پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو۔ ت)
بالجملہ مسلمان بہ نگاہ ایمان اس آیہ کریمہ کے مفادات عظیمہ پر غور کرے ، صاف صریح ارشاد فرمارہی ہے کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اصل الاصول ہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رسولوں کے رسول ہیں ، امتیوں کو جونسبت انبیاء ورسل سے ہے وہ نسبت انبیاء ورسل کو اس سید الکل سے ہے ، امتیوں پرفرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ ، اوررسولوں سے عہد وپیمان لیتے ہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے گروید گی فرماؤ۔ غرض صاف صاف جتارہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع وطفیلی ع
مقصودذاتِ اوست دگرجُملگی طفیل
(مقصود ان کی ذات ہے باقی سب طفیلی ہیں۔)