Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
209 - 212
قولہ :   وگاہے ازابتدائے خلقت الخ ۔
قولہ :  کبھی ابتدائے آفرنیش سے الخ
اقول: ہمچنیں ست واطلاق دلائل مارا بسند ، ہر کہ ابدائے تخصیص کند مدعی اوست وبارثبوت برگردن او، شاید برعکس نفس الامر از دستیاری قوت واہمہ در آئنہ تخیل عزیز اں مرتسم شدہ باشد کہ بایں تنصیص عویص نافیان ظل رادراثبات نفی گونہ صعوبتے روئے خواہد نمود کہ تبیین دائمہ از تفریر مطلقہ عامہ مشکل تراست ، اما ندانستہ کہ ذہن سامع درہمچو مقام از سلب ناموقت جز بادامت سلب تبادرکند، وخلافش کہ خلاف ظاہر ست محتاج بہ دلیل باشد ، واظلا ل سحب راکہ علماء غیر دائم گفتہ اندازیں ہت ست کہ احادیث صحیحہ بہ سایہ کردن صحابہ کرام باردیہ خود شان ومیل اشجار بہ غصون آنہا برسر حضور سید الانس والجان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ناطق شدہ ، اینجا نیزاگر حدیثے معتمد بر ثبوت سایہ گواہی دہد آنگاہ از دوام سلب بہ سلب دوام نقل وعدول ، متصور ومعقول ، ورنہ از معرض قبول بمر احل معزول ، معہذا نورانیت جسم انور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بحمداللہ قاطع وساوس وقامع ہوا جس آمدہ ست، وباللہ التوفیق ۔
اقول:  یہی صحیح ہے اورہمارے لئے اطلاق دلائل دلیل کافی ہے ، جو شخص تخصیص کرتاہے وہ مدعی ہے اوربارثبوت اس کی گردن پر ، شاید نفس الامر کےخلاف قوت وبہمیہ کی مدد سے ان کے آئینہ تخیل میں یہ بات آئی ہوگی کہ اس مطالبہ  تنصیص سے نافیان ظل کے لئے اثبات نفی میں بہت مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ دائمہ کا اثبات مطلقہ عامہ کے اثبات سے بہت زیادہ مشکل ہے مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ سامع کا ذہن ایسے مقامات میں سلب غیر موقت سے سلب دوامی چھوڑ کر کسی بھی اورشے کی طرف متوجہ نیں ہوا اوراس کا خلاف جو خلاف ظاہر ہے وہی محتاج دلیل ہے ۔ اور(آپ پر)بادلوں کے سایہ کو علماء نے اس لئے غیر دائمی فرمایا کہ صحابہ کرام کا چادر وں سے اوردرختوں کا اپنی شاخین جھکا کر سایہ کرنا سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سر انور پر ، احادیث صحیحہ سے ثابت ہوچکا ہے ، اگراس مسئلہ میں بھی کوئی معتمد حدیث گواہی دے تو اس وقت دوام سلب سے سلب دوام کی طرف عدول متصو ومعقول ہوگا ورنہ معرض قبول سے کوسوں دور، اور اس کے ساتھ ہی نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم انو رکی نورانیت بحمداللہ قاطع وساوس وقامع ہوا جس آئی ہے ،وباللہ التوفیق۔
قولہ :  ایں معجزہ درکابیکہ لائق اعتماد باشد الخ ۔
قولہ :  یہ معجزہ کسی ایسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہو الخ۔
اقول : اے کاش آنکہ آفتاب نہ بیند بارے از انکار خامشی گزیند ، نہ آنکہ بربینندگان خرد شد ، یادربزم آناں نکتہ فروشد کہ سلامت درسکوت ست، ومجازف درانجام مبہوت ، مگر تصانیف ائمہ ممدوحین اعتماد رانشاید ، یا درجلوہ گاہ مہر وماہ شمع وچراغے دگر باید۔
اقول : افسوس !جس کو سورج نظر نہیں آتا وہ انکار سے صبر وخاموشی اختیار کرتا ، نہ یہ کہ الٹا دیکھنے والوں پر شوروغل مچاتا یا ان کی بزم میں آکر نکتہ فروشی کرتا کیونکہ خاموشی میں سلامتی ہے اورجھوٹا آخر پریشان وناکام ہوتاہے ، کیا ائمہ کرام کی تصانیف قابل اعتماد نہیں یا پھر چاند سورج کی جلوہ گاہ میں کوئی اوردیے جلانا چاہتے ہو؟
قولہ :  اہل سند واسناد آنرا بسند صحیح ۔
قولہ :  اہل سند واسناد نے اس کو بسند صحیح الخ۔
اقول :  ساعتے باش کہ از حال مطالبہ صحت سخن گفتن داریم ، وایں کہ ہم برصحت سند پائے خامہ شکستہ است ، مگر برشذوذ وعلت راہ جرح وقدح بستہ است، ورنہ قید اسناد ، علی خلاف المراد ، ازچہ روگوارا افتاد۔
اقول :  کچھ دیر ٹھہریں کہ مطالبہئ صحت کے بارے اور صحت سند پر جو قلم کی ٹانگ توڑدی ، کے متعلق ہم بات کریں ۔ شاید شذوذ وعلت پر جرح وقدح کا راستہ بند ہوچکا ہے ورنہ برخلاف مراد قید اسناد کیسے گوارا ہوئی ؟
قولہ :  درکتب صحاح وسنن کہ مروج است۔
قولہ :  کتب صحاح وسنن میں جو مروجہ ہیں الخ
اقول :  کاش روزے چند خدمت علماء ومطالعہ کلمات طیبات ایشاں روزی شدے ، کہ درمجارئی کلام بہ مدارج مرام تمیز مقام بدست آمدے ، مقدمہ ثانیہ تحریر ثانی ازدیاد دادہ وبرباد رفتہ مباداوازا ں ہم صریح تربشنو جلالت شان، ورفعت مکان ، حضرت امام خاتم الحفاظ سیدنا جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ العزیز علی الخصوص درفن شریف حدیث تابہ حدے واضح وجلی ست کہ معلوم ہر صبی ، ومفہوم ہر غبی ست۔
اقول :  کاش تمہیں چند روز خدمت علماء کا موقع اوران کے کلمات کا مطالعہ نصیب ہوتا اور ان کے کلام ومقاصد کے مواردودرجات میں تمیز مقام حاصل ہوتی ۔ تحریر ثانی کا دوسرا مقدمہ بڑھا دیا، برباد نہ ہوبلکہ اس اسے بھی بہت زیادہ صریح سنئے ۔ حضرت امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین قد س سرہ العزیز کی جلالت شان اوررفعت مقام ، خصوصاً فن حدیث میں ایسی واضح ہے کہ ہر صبی وغبی کی بھی جانی پہچانی ہے ۔
امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ در شفاء شریف حد یثے نقل فرمودکہ سیدنا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ برحضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چناں وچناں مے گریست ، واز فضائل پاکش کذا وکذا یاد مے کرد۱؂۔
امام قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی نے شفاء شریف میں ایک حدیث نقل کی کہ سیدنا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اس طرح روتے اورفضائل وخصائص بیان کرتے۔
 (۱؂ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الاول الباب الاول الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۶)
Flag Counter