Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
208 - 212
فائدہ  :   بنات النعش میں ایک باریک ستارہ ہے جس کو سہُا کہتے ہیں ۔
وعلی الثانی یارب مگر سیدنا وابن سیدنا حبر الامہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما وحضرت ذکوان تابعی وامام ہمام حجۃ اللہ فی الانام عبداللہ بن مبارک وامام حافظ شمس الملۃ والدین ابوالفرج ابن الجوزی وامام علامہ ابن سبع وحافظ رزین محدث وامام الامہ حافظ الشرق والغرب مولانا جلال الملۃ والحق والدین ابوبکر سیوطی وامام علامہ عاشق المصطفٰی سید الحفاظ جبل الشرع والدین حبل الاللہ المتین قاضی عیاض یحصبی وامام ربانی احمد بن محمد خطیب قسطلانی وفاضل اجل محمد بن عبدالباقی زرقانی وعلامہ فہامہ شہاب الملۃ والدین خفاجی وشیخ محقق سیدنا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم ائمہ دین وجہابذقادہ ناقدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین ونفعنا ببرکاتہم فی الدنیا والدین رامعاذ اللہ  درسلک عوما منخرط شمارند، یافصوص نصوص ایناں راز  زنگ غلط منزہ نہ پندارند،
ان ھذا  لشیئ عجاب ۔
اوردوسری شق پر (بصورت عوام مقلدین )پناہ بخدا !کیا سیدنا عبداللہ بن عباس ، حضرت ذکوان تابعی، عبداللہ بن مبارک ، امام ابن الجوزی ، ابن سبع حافظ رزین محدث ، علامہ جلال الدین سیوطی ، قاضی عیاض، امام احمد قسطلانی ، علامہ زرقانی ، علامہ خفاجی اورشیخ عبدالحق محدث دہلوی وغیرھم کو معاذاللہ عوام میں شمار کرتے ہیں ، یان ان کے نگینہ ہائے نصوص کو زنگ اغلاط سے مصفّٰے ومبرا گمان نہیں کرتے
ان ھذا  لشیئ عجاب
(بے شک یہ عجیب بات ہے ۔)
قولہ :  چنانچہ جملہ اجسام واجرام کثیفہ ولطیفہ رامے باشد۔
قولہ :  جیسا کہ تمام اجسام کثیفہ ولطیفہ کے لئے ہوتاہے۔
اقول :  نازم ایں کلیت مطلقہ واحاطت مستغرقہ را کہ ہجوم عموم واغراق اطلاقش برسنگلاخ کثافت بس نکردہ خیمہ تابسرحد لطافت کشید ، ماناہ عزیز اں از حقیقت ظل آگاہی ندا رند۔ اے مخاطب !سایہ پروردگار مگر دانی کہ سایہ چیست ؟نیرے تافتن آغا ز کرد وبہ ہرجابساط نور گستر، واجسامے ازمیان خاستہ ونفوذ اشعہ رامانع آمدہ اینہا پردہ فروہشت ، وپردگی از نور مہجور گشت ، ہوائے متوسط کہ حکم مقابلت وشدت قابلیت ، از تنور واستضاءت بہرہ کافی ربود ، آں محروم رانیز پارہ از انجلاء ارزانی نمود۔
اقول : اس کلیت مطلقہ اوراحاطہ مستغرقہ پر ناز کہ اس اطلاق کو سنگ کثات پر ہی بند ہ رکھا، حد لطافت تک کھینچ ڈالا، شاید وہ دوست سایہ کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ اے نازو نعمت میں پلے ہوئے مخاطب !شائید تمہیں معلوم ہے سایہ کیا شے ہے ؟سورج چمکنے لگا، ہرجگہ نور کی چادر بچھا دی ، درمیانی اجسام رکاوٹ بنے اورروشنی کے آگے پردہ لٹکا دیا ، پردگی نور سے مہجور ہوگئی ، ہوائے متوسط نے بسبب مقابلہ و شدت قابلیت روشنی سے کافی حصہ لیا اوراس محروم کو بھی روشنی کا کچھ حصہ عطاکیا۔
ایں ضوء ثانی راظل نامند ونیکو روشن کہ ایں معنٰی بے حجب ،وحجب بے منع نفوذ ، ومنع نفوذ بے کثافت صورت نہ بندد ، واوفراہ اگرایں اطلاق راست باشد اشراق ارض محال گرددکہ میان فاعل وقابل جرم آسمان حائل ، بلکہ ہم از مدعا نقیض مدعا لازم آید کہ چوں جسمے ہمچو فلک درمیان سنت، استنارہ ہوا کہ مضیئ ثانی ست خود چہ امکان ست ، پس ازروئے زمین تاسطح آسمان ہیچ جسمے راسایہ نباشد، والسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجوبۃ الکلۃ وتقییدمرئی بودن کہ حاجب نباشد مگر از مبصرات با آنکہ تخصیص بعدالاعتراض ست درامثال ہو اورنارجاری۔
اس دوسری روشنی کو ظل کہتے ہیں اورخوب ظاہر کہ یہ معنٰی بے پردہ اورپردہ بلامنع نفوذ اورمنع نفوذ کثافت کے سوا ناممکن ہے ۔ ہائے زیادتی !اگر یہ اطلاق درست ہوتو زمین کاروشن ہونا محال ہوجائے ، اس لئے کہ سورج اورزمین کے درمیان جسم آسمان حائل ہے بلکہ تمہارے دعوٰی سےہی تمہارے مدعی کی نقیض لازم آتی ہے کہ جب آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہے ، کیسے ممکن کہ روشن ہو، لہذا روئے زمین سے آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہے ، کیسے ممکن کہ روشن ہو ، لہذا روئے زمین سے آسمان تک کسی جسم کا سایہ نہ ہو
والسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجبۃ الکلیۃ
 (اورسالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض ہے ۔ت)
اور چونکہ جو چیزیں نظر آتی ہیں وہی پردہ بنتی ہیں اس لئے مرئی ہونے کی قید لگانا ، باوجودیکہ بعد از اعتراض ہے صرف ہو ا اور آگ جیسی اشیاء میں جاری ہے ۔
اما نامرئی بودن آسمان مسلم نداریم، واز شہادت بصر و ظواہر نصوص چراروئے برتابیم، مااسلامیاں راباخرافات فلاسفہ ناہنجار وافسانہ عالم نسیم وکرہ بخار چکار، وہمچو ادعاہائے نامنتظمہ راپیش ظواہر قرآن وحدیث چہ قیمت وکدام وقعت؟
بہر حال آسمان کا غیر مرئی ہونا ہم نہیں مانتے ، ہم کیونکر عینی شہادت اورظاہر نصوص سے روگردانی کریں، ہم اہل اسلام کو بے راہ فسلفہ کی خرافات اورکرئہ ہوا وبخار سے کیا کام؟اورایسے بے سرپا دعاوی کی قرآن وحدیث کے ظاہر مفہومات کے سامنے کیا قیمت اورکیسی وقعت؟
قال اللہ تبارک وتعالٰی
ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح۱؂
ومعلوم است کہ ازیں قسم زین وشین جز درمبصرات راست نیاید ، بادرانہ از پوشاک مہوشاں زریں کمر زینتے ، نہ از خرقہ گدایاں دلق دربروصمتے ، بلکہ اگر نیکو بنگری دراجسام کثیفہ نیز عموم بجائے خود نیست ، کہ میان حجب وکثافت عموم وخصوص مطلق ست، جسم مثلث اگرچند کثیف باشد سایہ ندارد، نہ درآفتاب ، نہ در ماہتاب ، کہ بہ ہمیں معنے ایمائے لطیف فرمودہ اندر درکریمہ
انطلقواالی ظل ذی ثلٰث شعب oلاظلیل ولا یغنی من اللھب۱؂
کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل ۲؂۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اوربیشک ہم نے نیچے کے آسمان کوچراغوں سے آراستہ کیا۔اور معلوم ہے کہ اس قسم کی زینت وعیب مبصرات کے سواکسی چیز پر صادق نہیں ، مثلاکوئی کیسا ہی  مہ رو ز رق برق لباس پہن کر سنہری کمر بند باندھے ہوا میں کھڑا ہوجائے تو ہوا کے لئے وہ زینت نہیں کہلات اوراگرکوئی منگتا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوتو وہ ہواکیلئے عیب نہیں کہلاتا (کیونکہ ہوامبصرنہیں)بلکہ اگر بغور دیکھیں تو اجسام کثیفہ میں بھی عموم نہیں کیونکہ حاجب بننے اورکثیف ہونے میں عموم وخصوص مطلق ہے ، چنانچہ جسم مثلث کا سایہ نہیں ہوتا خواہ کتانا ہی کثیف ہو نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں ، آیہ کریمہ
"انطلقوا الٰی ظل ذی ثلٰث شعب لاظلیل ولا یغنی من اللھب"
 (چلواس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں نہ سایہ دے نہ لپٹ سے بچائے )میں مفسرین کرام نے اسی معنی کی طرف لطیف اشارہ بیان فرمایا ہے
کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل
 (جیسا کہ امام علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل میں اس کو مستنبط فرمایا ہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم  ۶۷ /۵)

(۱؂ القرآن الکریم ۷۷ /۳۰و۳۱)

(۲؂ الاکلیل     فی استنباط التنزیل            تحت الآیۃ ۷۷ /۳۰و۳۱        مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۱۹)
اللھم !مگر شبہا دیدہ باشند کہ از شعلہ شمع باآنکہ نارجرمے لطیف ست سایہ سربرمے زند وبحکم عدم فارق دست بدامن اطلاق زدند ، وپے باصل کا رنبردہ کہ آنچہ مے بینند ظل دخان ست ، نہ سایہ نیّراں۔
یا اللہ !شاید انہوں نے رات کو دیکھا ہوگا کہ شعلہئ شمع سے سایہ پیداہوتاہے باوجودیکہ آگ جسم لطیف ہے اور اس سایہ کو آگ کا سایہ سمجھ کر بحکم عدم فارق
 (بین الاجسام اللطیفہ)
دامن اطلاق پر ہاتھ مارا اور حکم کلی لگا دیا اور اصل حقیقت نہ سمجھ سکے کہ یہ نظر آنے والا سایہ سایہ دخان ہے ، آگ کا سایہ نہیں۔
Flag Counter