بسم اللہ رحمن الرحیم
نقلِ تحریرکہ الحال از ریاست محمدآباد ، عمراللہ بالرشد والسداد وصانھا عن الشر والفساد سلسلہ سخن راجنبش تازہ داد۔
نقل تحریر از ریاست محمد آباد جس نے سلسلہ سخن کوتازہ جنبش دی ، اللہ تعالٰی اس ریاست کو ہدایت ودرستگی کے ساتھ آباد رکھے اور اس کو شروفساد سے بچائے ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
الحمدللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی رسولہ محمد واٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین ، اما بعد مردم میگویندکہ برائے شخص مبارک عالی حضرت رسالت پناہی ، نبوت دستگاہی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سایہ ظل چنانچہ جملہ اجسام واجرام کثیفہ ولطیفہ رامی باشد نبود وگاہے از ابتدائے خلقت حضرت رسالت پناہی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تاآخر لقائے رب العٰلمین تعالٰی شانہ، ہمچناں بودبے سایہ وبے ظل گزرانیدہ اند۔
تما م تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ درود وسلام نازل ہواس کے رسول محمدمصطفی پر، آپ کی آل پر اورآپ کے تمام صحابہ پر ۔ بعدازاں لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح تمام اجسام کثیفہ ولطیفہ کے لئے سایہ ہوتاہے ، ایسا سایہ حضرت عالی مرتبہ ، رسالت پناہ ، نبوت دوستاہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم مبارک کے لئے نہیں تھا، اوریوں بھی کہتے ہیں کہ پیدائش سے آخر عمر تک ہمیشہ سایہ نہ تھا۔
فقیر میگوید کہ ایں معجزہ درکتابیکہ لائق اعتماد باشد واہل سند واسناد آنرابسند صحیح بیان کردہ باشند ، ندیدہ ام درکتاب صحاح وسنن کہ مروج انداز کسے نشنیدہ ام کہ ثبوت کردہ اند و آنچہ اہل سیر ومغازی بیان میکنند اعتماد آں چنانچہ اہل حدیث راہست ، معلوم پس ہر کرا از اہل علم ثبوت آں از روئے سند صحیح از کتاب وسنن ، بیان فرمایند، اجرآں از فقیر از خدا وند تعالٰی مامول دارند فقط۔
فقیر کہتاہے کہ یہ معجزہ کسی ایسی کتاب میں جو لائق اعتماد ہو اوراہل سند واسناد نے اسے بسند صحیح بیان کیاہو ، میں نے نہیں دیکھا ، کتب صحاح وسنن میں کسی سے نہیں سنا کہ ثابت کیا ہو۔ اہل سیر ومغازی جو بیان کرتے ہیں اس پر، جیسے کہ محدث کو اعتماد ہے ، معلوم ہے،لہذا تمام اہل علم کو چاہیے کہ اس کا ثبوت ازروئے سند صحیح کتاب وسنت سے بیان فرمائیں ، اس کا اجر فقیر سے خداوند تعالٰی سے امید رکھیں ۔ فقط۔
کتبہ ابو عبداللہ محمد عفی عنہ
بازاہتزاز نسیم ایمانی بپامال فصل خزانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
الحمدللہ خالق الظل والحرورجاعل الظلمٰت والنور، ثم الذین کفروا بربھم یعدلون والصلٰوۃ والسلام علی السراج المنیر فی نادی القلوب ، القمر المنزہ عن کل کلف وخسوف ومحاق وغروب ، ثم الذین فجروا عن نورہ یعمہون وعلٰی اٰلہ النجوم واصحابہ مصابیح العلوم مالم یکن للارمد عند ضوء العین سکون، سایہ پروردہ دامن ناسزائی، روئے نادیدہ نیردانائی، فقیر ناسزا ، رونق بازار معاصی فزا ، سربگر یبان فکر جزا، عبدالمصطفٰی معروف بہ احمد رضا غفراللہ لہ ما یجری منہ وما مضٰی ، خدائے خود رابہ یکتائی ومصطفائے وے رابہ بے ہتمائی ستودہ مہر بہشتی چہر تحقیق وآفتاب جہاں تاب تدقیق را ، چنانۃ بریزش امطار انوار، وبارش اضواء نصف النہار مے آرد کہ پیشترک از ورود ایں جواب سوال نما ز وعرض اعراض فزا ووفاق شقاق آمود ، ولطف عتاب آلود، فقیر حقیر درہمیں مسئلہ پیش آیندہ دوستارہ تابندہ ، از آفاق سخن سرائے ، باشراق جلوہ نمائے ، آوردہ ام یکے کالشمس وضحٰہا ودگرکالقمر اذا تلٰہا ہرکہ چشمے دارد از رمد پاک، وولی پذپرائے نور ادراک ، بصر وبصیرتش را از تجلیہائے ظلمت روالش نیکوترین بہرہ وریہا مہیا ومہنا باد ، عزیزان نوکہ طرحی تازہ افگندہ اند وراہے جدید پیش گرفتہ، اگر باینہا نیز برسم چالشگیر دے چند آویزشی کنیم ، یا رب بر خاطر خردہ بینان خرد پرور ودقت گزینان بالغ نظر، بے گوارش مرداد، اٰمین ، وباللہ ثم برسولہٖ نستعین ، ولا وحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
فصلِ خزانی کی پامالی کیلئے نسیم ایمان کی پھر روانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو سائے اوردھوپ کا خالق اورظلمت ونور کو پیدافرمانے والا ہے ۔ پھر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہر اتے ہیں ۔اور درودوسلام نازل ہودلوں کی مجلس کو چمکانے والے آفتاب پر اور اس ماہتاب پر جو چھاؤں ، گرہن ، مٹ جانے اورغروب ہونے سے پاک ہے ۔ پھر نافرمان لوگ اس کے نور سے بے بہرہ ہیں ، اور ان کی آل پر جو ستارے ہیں اوراصحاب پر جو علوم کے چراغ ہیں ۔ آشوب چشم والے کو سورج کی روشنی کے وقت سکون نہیں ہوتا ۔ دامن نالائق کے سایہ میں پرورش پانے والا ، خورشید دانائی کا چہرہ نہ دیکھنے والا ، گناہ افزا بازار کی رونق ، فکر جزاء میں پریشان ، عبدالمصطفٰی معروف بہ احمد رضا (اللہ تعالٰی اسکی آئندہ وگزشتہ کوتاہیوں کو معاف فرمائے )اپنے خدا کو یکتا ولاشریک ہونے اوراس کے مصطفٰی کو بمثل ہونے کی توصیف کے بعد بہشتی چہرہ والے آفتاب تحقیق اورجہان کو روش کردینے والے خورشید کو اس طرح انوار واضواء کی برسات کے ساتھ لاتا ہے کہ تمہارے سوال کے جواب اور روگردانی بڑھانے والی عرض اورخلاف پر موافقت اورعتاب آلود نرمی سے کچھ پہلے فقیر حقیر نے ا س زیر نظر مسئلہ کے متعلق سرائے سخن کے کناروں سے دوچمکتے ہوئے ستارے لائے ہیں ، ایک کالشمس وضحٰہا اوردوسرا کالقمراذا تلٰہا، جو شخص صحت مند آنکھ اور قابل نور علم دل رکھتاہے اس کی بصارت وبصیرت کو ان ستاروں کی کاشف ظلمات تجلیات سے اچھی طرح کامیابیاں مہیا ومبارک ہوں۔ نئے پیاروں نے جو تازہ طرح ڈالی اورنیا راستہ اختیارکیا، اگرہم بھی ان کے ساتھ بطور جیسے کو تَیسا (ترکی بہ ترکی)مقابلہ کریں تو اے خدا!نکتہ داں عقلمندوں اورباریک بیں بالغ نظروں کے دل پر احساس تلخی ، انصاف !آمین ! اللہ تعالٰی سے پھر اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہم مدد چاہتے ہیں ، بلندی وعظمت والے خدا کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت۔
قولہ : مردم میگویند الخ۔
قولہ : لوگ کہتے ہیں الخ
اقول :
ائمہ دین یا عوام مقلدین علی الاول بخانہ مقصود از درنقیض آمدن ست ، واستیناس نقد،بہ لباس اسد، خواستن، مگر ارشاد ائمہ بسند نیست ، کہ دلیلے دیگر جوائی ، یا ایں رابمنزل حضرت سلمٰی نمیر ودکہ بہ شعبے جدا گانہ پوئی۔ من فقیر گمان برم وناراست نمی برم کہ ان شاء اللہ تعالٰی روئے توجہ بسوئے مقدمہ ثالثہ تحریر ثانی تافتن ہماں باشد ، وایں وسوسہ را جواب شافی وعلاج کافی یافتن، ہماں ، آخر نہ خدائکہ حضرات عالیہ ایشاں را برسررامامت وارائک زعامت جائے داد وبحکم
ان مع العسر یسرا۳ووما جعل علیکم فی الدین من حرج ۴
خوان نعمت
فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ۵
چید۔
اقول : لوگوں سے مراد ائمہ دین ہیں یا عوام مقلدین؟اگر ائمہ دین مراد ہیں تو پھر یہ خلاف مقصود کی طرف آنا اورلباس شیر میں انس نقد طلب کرنا ہے ، کیا ائمہ کرام کا ارشاد ناکافی ہے کہ دوسری دلیل طلب کرتے ہویا ائمہ دین کایہ راستہ مطلوب تک نہیں پہنچتا ، اس لئے علیحدہ پگڈنڈیوں پر بھٹکتے پھرتے ہو؟میں گمان کرتاہوں اوردرست گمان کرتاہوں کہ ان شاء اللہ تعالٰی توجہ کا رخ تحریر ثانی کے مقدمہ ثالثہ کی طرف ہی پھیرنا ہوگا اور تمہارے اس وسوسہ کا وہی جواب شافی وعلاج کافی ہوگا۔ آخر خدا وند تعالٰی نے حضرات عالی شان کو امامت کے تختوں اورسرداری کی سندوں پر مقام عطا نہ فرمایا اور
الخراج بالضمان
(خراج ضمان کی وجہ سے ہوتاہے ۔ت)کے فیصلہ کے مطابق
فاعتبروا ٰیاولی الابصار
(توعبرت لو اے نگاہ والو ۔ ت)کے چراغوں کا بوجھ برداشت کرنا اور ان کے ذمہ ہمت پر نہ رکھا؟ اورہم نادیدہ رو کی کمزور کو اورکم علمی کے ہاتھ گروی شدگان کو نہ دیکھا اور بہ مقتضائے
"ان مع العسر یسرا"
(بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ۔ ت) اور
"وما جعل علیکم فی الدین من حرج"
(اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ت)نعمت
"فاسئلو اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون"
(تو اے لوگو!علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو ۔ ت)کا خانچہ نہ چنا؟
(۱جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء من یشتری العبدویغسلہ الخ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴۵)
(۲ القرآن الکریم ۵۹ /۲)
(۳ القرآن الکریم ۹۴ /۶)
(۴ القرآن الکریم ۲۲ /۷۸)
(۵القرآن الکریم ۱۶ /۴۳و ۲۱/ ۷)
اے خوشاکسیکہ بحکم
ان اللہ تصدق علیکم فاقبلوا صدقتہ۱
فرمان ایں صلائے جانفزا پذیر فت ، وازکشاکش لم وکیف پاک رست وبداکسیکہ بہ ناکامی ، اما ھذا
فقد اعرض فاعرض اللہ عنہ ۲۔
کاربرخود دشوار کردو پائے از اندازہ گلیم بیروں کشیدن جست ع
آفتاب اندرمیان آنگہ کہ میجو ید سُہا
دوستو! بہت ہی خوش نصیب ہے وہ جس نے بہ تقاضائے
"ان اللہ تصدق علیکم فاقبلوا صدقتہ"
(بے شک اللہ نے تم پر صدقہ کیا تو اللہ تعالٰی کے صدقہ کو قبول کرو۔ ت)اس روح فزا فرمان کو قبول کیا ور چون وچراکے چکر سے خلاص ہوا ؟اور بہت بدبخت ہے ہو جس نے
"اما ھذا فقد اعرض فاعرض اللہ عنہ"
(لیکن اس نے اعراض کیا تو اللہ تعالٰی نے اس سے اعراض فرمایا ۔ت )کی ناکامی کے سبب اپنے اوپر کا م مشکل کرلیا اور اوراندازہ گودڑی سے پاؤں باہر کھینچ لئے ع
آفتاب اندر میاں آنگہ کہ میجو ید سُہا
(آفتاب موجود ہوتو سُہاکو کون تلاش کرتاہے ۔)
(۱صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین وقصر ھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۱)
(سنن ابی داود، باب صلوٰہ المسافر آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۷۰)
(جامع الترمذی ابواب التفسیر تحت آیۃ ۴ /۱۰۱ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲۸)
(سنن ابن ماجۃ باب تقصیر الصلٰوۃ فی السفر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۶)
(۲صحیح البخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتہی بہ المجلس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶)
(صحیح مسلم کتاب السلام باب من اتی مجلسا فوجد فرجۃ الیخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۷)