'' محدثین اعلام نے اس کتاب کو معتبر نہیں مانا ہے ''
اور کبرے کہ جس کتاب کو محدثان اعلام نے معتبر نہ مانا ہوا س کی کوئی حدیث قابل احتجاج نہیں ، ترک کردیا ، پھر لکھا : '' مصنف نے التزام تصیح مافیہ نہیں کیا ''
اور کبری کہ جس مصنف نے یہ التزام نہ کیا اس کی حدیثیں مستند نہیں ، ذکر نہ فرمایا ، پھر لکھا :
'' کسی حدیث کی معتبر کتا ب میں الخ۔''
اور کبرے کہ جو مسئلہ کتب معتبر ہ حدیث میں نہ ہو ، قابل تسلیم نہیں ، چھوڑدیا ۔ پھر لکھا:
''اصرار بر عدم میں احتمال الخ''
اور کبری کہ جہاں یہ احتمال ہوا س میں تو قف ضرور اور تسلیم بے جا ، تحریر نہ کیا ۔ اب اخیر درجہ یہ لکھا کہ :
'' مسئلہ اصول عقائد سے نہیں۔''
اکبری کی طر ف ان لفظوں سے اشارہ کیا :'' جس کے باب میں ہر شخص کو اہتمام ضرور ہو۔''
صاف کہا ہوتا کہ جو مسئلہ اصول عقائد سے نہیں ، اس میں اہتمام کی کچھ حاجت نہیں ۔ سبحان ! ایک ذرا سے فقرہ میں تمام سائلہ فقہیہ کی بیخ کنی کردی کہ وہ بداہۃ فروح ہیں نہ اصول ، پھر ان کا اتباع محل اہتمام سے معزول اور واجبات وسنن کا تو پتا نہ رہا کہ انہیں عقد قلب سے کب بہر ہ ملا، اب شاید بعد ورود اعتراض یہ تخصیص یاد آئے کہہ ہما رے کلام مسائل غیر متعلقہ بجوارح میں ہے
اب بھی غلط ، متکلمین تصریح کرتے ہیں ، مسائل خلافت اصول دینیہ سے نہیں ،
مواقف و شرح مواقف میں ہے :
(ولما تو فاہ) اشارہ الی مباحث الامامۃ فانہا وان کانت من فرو ع الدین الاانہا الحقت باصولہ دفعا للخرافات اھل البدع والاھواء وصونا للائمۃ المھتدین عن مطاعنہم (وفق اصحابہ لنصب اکرمہم واتقہم ) یعنی ابا بکر رضی اللہ تعالی عنہ۱ اھ ملخصاً۔وفیہ من المصدر الرابع مو الموقف الخامس فی الامامۃ و مباحثہا لیست من اصول الدیانات و العقائد خلافا للشیعۃ ۱ اھ
( شارح فرماتے ہیں) لماتو فاہ ، امامت کی بحث کی طر ف اشارہ ہے ، اگر چہ مسئلہ فروع دین سے ہے مگر اہل ہو اور بدعتیوں کے خرافات کو دفع کرنے کے لئے اورائمہ دین کو ان کے طعن سے بچانے کے لئے اصول دین سے ملحق کردیا(کہ تمام صحابہ کرام اپنے سے اتقی واکرم یعنی ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت پر متفق ہوگئے ۔)
(۱ شرح المواقف خطبۃ الکتاب منشورات الشرف الرضی قم ایران ۱ /۲۱و۲۲ )
(۱ شرح المواقف المرصد الرابع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ /۳۴۴)
موقف خامس میں سے مصدر رابع امامت میں ہے امامت کی بحث اصول عقائد دین میں سے نہیں ہے بخلاف شیعوں کے (کہ ان کے نزدیک اصول دین سے ہے )اھ ت)
کیا یہ قاعدہ مخترعہ یہاں بھی اہتمام ضروی نہ رکھے گا اور اقرار وانکار امات ائمہ کو یکساں کردے گا ، ایران ومسقط کو مژدہ تہنیت ، اب چین سے اپناکام کیجئے ، خلافت راشدہ خلفاء اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم میں شوق سے کلام کیجئے ،تیرہ صدی کی برکت سنیوں کی ہمت ، اب انہیں ان مباحث سے کام ہی نہ رہا ۔ حقیقت خلافت کا اہتمام ہی نہ رہا ۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
( بے شک ہم اللہ تعالی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طر ف پھرنا ہے ۔ت)
فقیر کو حیرت ہے باوجود وتو افق عقول ونقل ودرود احادیث وشہادت ائمہ عدل وقتضائے خرد یمانی بحکم لطافت جرم نورانی وتاکید محبت سید اکرم صلی ال لہ تعالی علیہ وسلم قبول سے کیا چارہ اور ترک اصرار واہتمام کس کا یارا ، اور یہ یہ بھی نہیں کھلتا کہ لفظ ''ہر شخص ''فرماکر عموم سلب سے سلب عموم کی طر ف کیوں ہوا؟ کیا بعض کو اہتمام ضروی بھی ہے ؟ اور ایسا ہو تو وہ بعض معین ہیں یا غیر معین ؟ بر تقدیر ثانی کلام ، مقصود پر منعکس و منقلب ہوجائے گا اور تحرزا عن الوقوع فی المحذور ہر شخص کو اہتمام قرار پائے گا اور پہلی شق پرحکم احکم
(کہ تم ضرور اسے لوگو ں سے بیان کردینا ۔ ت)
کاانقیاد ہو ، اس تعین کی تبیین ، پھر اس پر دلیل مبین ارشاد ہو ۔
وصلی اللہ تعالی علیہ سیدنا محمد البدر وآلہ واصحابہ النجوم والعلم بالحق عند اللہ ربنا تبارک وتعالی واھب العلوم استراح القلم من ھذا التنمیق الانیق فی العشرۃ الوسطی من ذی الحجۃ المحرم سنۃ ۱۲۹۷ (سبع وتسعین بعد الالف و المائتین ) فی جلسۃ واحدۃ فی البلاۃ المطہرۃ مارھرۃ المنور ۃ بجنب مزار ات الکرام البررۃ ساداتنا و مشائخنا العرفا الخیرہ افاض اللہ علینا من نفحات فیوضہم العطرۃ امین بر حمتک یا ارحم الراحمین ۔
اللہ تعالی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر جو چودھویں کے چاند ہیں او رآپ کے آل واصحاب پر جو روشن ستارے ہیں ۔ حق کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے جو ہمارا پروردگار ہے اور علوم عطافرمانے والا ہے ۔ اس عمدہ تحریر کی تزیین سے قلم نے حرمت والے مہینے ذوالحجہ کے دمیان عشرے کے اندر ۱۲۹۷ھ کو ایک ہی نشست میں راحت حاصل کی ۔ شہر پاک مارہرہ منورہ میں آرام فرمانے والے ان اولیائے کرام کے مزارات مقدس کے پہلو میں یہ تحریرلکھی گئی جو ہمارے سردار ومشائخ عارفین گرامی قدر ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے فیوض معطر ہ کی خوشبوئیں ہمیں عطا فرمائے ۔آمین ! تیری رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے ۔(ت)