Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
205 - 212
قولہ :
  اور کسی حدیث کی معتبر کتاب یں اس مسئلہ سے وجودا وعدما بحث نہیں۔
اقول :
کاش ہمیں بھی معلوم ہوتا حدیث کی کتابیں جناب مجیب عفااللہ تعالی عناد عنہ کے کتب خانہ میں ہیں یا کتنی حضرت کی نظر سے گزری ہیں کہ بے دھڑک ایسا عام دعوی کرتے ہو ئے آنکھ نہ جھپکی ، ہم نے تا اکابر ائمہ کویوں سنا کہ جس حدیث پر اطلاع نہ پائی
لم اجد
 (میں نے یہ پایا ۔ت) یا
لم ار
 ( میں نے نہیں دیکھا ۔ت) یا
لم اقف علیہ
 ( میں اس پر آگاہ نہ ہوا ۔ ت) پر اقتصار فرمایا ، یہ
لیس
 (نہیں ہے ۔ت) اور
لم یکن
 ( نہیں ہوا ۔ ت) کی جراتیں ، حق تو یہ ہے کہ بڑے شخص کا کام ہے ۔
علامہ سیوطی سامحدث ان جیسی نظر واسع جنہوں نے دامن ہمت ، کمر عزیمت پر چست باند کر جمع الجوامع میں تمام احادیث واردہ کے جمع واستیعاب کا قصد فرمایا ، دیکھو حدیث
اختلاف امتی رحمۃ
 ( میری امت کا اختلاف رحمت ہے ۔ت)کی تخریج پر واقف نہ ہوئے اور جامع صغیر میں اسی قدر فرمایا کر خا موش رہے کہ شاید یہ حدیث کسی ایسی کتاب میں مروی ہوئی کہ ہم تک نہ پہنچی ۱؂۔
 (۱؂ الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۸۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۴)
پھر علامہ مناوی تییر میں اس کی تخریض ، مدخل بیہقی وفردوس دیلمی سے تلاش ہی کر لا ئے ۲؂۔
 (۲؂ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اختلاف امتی رحمۃ مکتبۃامام الشافعی ریاض۱ /۴۹)
پھر ہم کو بایں بضاعت مزجاۃ ، چھوٹا منہ بڑی بات ، یہ دعوی کب زیب دیتا ہے مگر تصنیف امام عبداللہ بن مبارک وتالیفات حافظ رزین محدث وکتاب الوفا ء علامہ جوزی وشفاء الصدور علامہ ابن سبع و کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تصنیف علامہ قاضی عیاض ونسیم الریاض علامہ خفاجی وخصائص کبری علامہ جلال الدین سیوطی ومواہب لدنیہ منح محمدیہ امام علامہ قسطلانی و شرح مواہب علامہ زرقانی ومدارج النبوت شیخ محقق وغیرہا اسفار ائمہ دین وعلماء محققین ، آپ کے نزدیک معتبر نہیں یا جب تک بخاری مسلم میں ذکر مسئلہ نہ ہو قابل اعتبار متصور نہیں۔
فقیر حیران ہے جب حدیث کئی طریق سے مروی ہوئی اور چند ائمہ نے اسے تخریج کیا اور وہ مقتدایان ملت نے اس سے احتجاج فرمایا اور سلفا خلفا بے اعتراض معترض مقبول رکھا ، پھر نہ تسلیم کرنے کی وجہ کیا ہے ؟ اگر بالفر ض حدیث میں ضعف ہی مانا جائے ، تا ہم مرتبہ مقام چاہے کہ یہاں تضییق مطلوب ہے یا تو سیع محبوب ، صحت نہ سہی ،کیا حسن سے احتجاج نہیں ہوتا ؟ حسن بھی نہ مانو ، کیا ضعف متماسک ایسی جگہ کام نہیں دیتا ؟ آخر اقسام حدیث میں ایک قسم کا نام صالح بھی سنا ہوگا ، اگر ماورائے صحاح سب بیکار ہیں تو حسن میں حسن اور صالح میں صلاحیت کس بات کی ہے
انا اللہ وانا الیہ راجعون
 (بیشک ہم اللہ تعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے ۔ ت)
قولہ :
مسلمان کو ایک جانب پر اصرار نہ چاہے ۔
اقول :
اگر چہ حق واضح ہے ؟ یہ کلمہ عجیب وضح کیا ، مسلمان کی شان وہ ہے جس سے رب تبارک وتعالی قرآن مجید میں خبر دیتا ہے  :
 یستمعون القول فیتبعون احسنہ ۱؂۔
جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں ۔(ت)
 (۱؂ القرآن الکریم ۳۹/ ۱۸)
دامن ائمہ ہاتھ سے دے کر شاہراہ یقین سے دور پڑیئے او رشکوک وتر د دا ت کے کانٹوں میں الجھے ۔
اے عزیز ! جب مسلمان نقی الایمان ادھر تو یہ سنے لگا کہ اس بات میں احادیث وارد اور اراکین دین متین واساطین شرع مبین کی تصانیف اس سے مملوو مشحون اور ادھر اس کے قلب کی حالت ایمانی جو تکثیر فضائل سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جان سے پیاری ہے ، بہ شوق تمام سر و قد استادہ ہوکر مرحبا گویاں اسے مسند آمنا وصدقنا پر جگہ دے گی اور ادھر داعیہ عقل سلیم انبعاث تازہ پاکر حکم قطعی لگائے گا کہ میرا محبوب سر اپا نور ہے اور نور ک ا سایہ خرد سے دور ، تو ان انوار پے در پے کی متواتر ریز شوں کے حضور شکوک واوہام کی ظلمت کیونکہ ٹھہرسکے گی اور تیقن کامل کی رو شنی چار چانب سے سر اپا کو محیط ہوکر کس طر ح اصرار واذعان کے رنگ میں نہ رنگ دے گی ۔
ہم چھوٹی سی دو باتیں پوچھتے ہیں ، شک کرنے والے کو حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے نور بحت ہونے میں امل ہے یا سا یہ کوکثافت لازم ہونے میں تر دد ۔ اگر امر اول میں شک رکھتا ہے تو مین اپنی زبان سے کیا کہوں ، صرف اپنے ایمان صرف غیر مشوب بالاوہام اور قضیہ
اشہد ان محمد اعبدہ و رسولہ
( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ت)کے لازمی احکام سے حکم اپنادریافت کرلے ، اور امر دوم میں تردد ہے تو مفتی عقل کی بارگاہ سے جنون ودیوانگی کا فتوی مبارک ، اسی لئے ہم دعوی حتمی کرتے ہیں کہ اگر اس بات میں کوئی حدیث نہ آئی ہوتی ، نہ کسی عالم نے اس کی تصریح فرمائی ہوتی ، تاہم بملاحظہ ان آیات واحادیث متکاثرہ متوافرہ متظافرہ کے جن سے بالقطع والیقین سر اپائے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا نور صرف کان لطافت وجان اضاءت ہونا ثابت ، ہم حکم کرسکتے کہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا ، نہ کہ با وجود تو افق عقل ونقل تسلیم میں
لیت ولعل ہو ( والہفاہ)
شک کرنے والا ہمیں نہیں بتا تا کہ اسے رد احادیث وطر ح اقوال علماء پر کون سی بات حامل ہوئی ، کیا ایسے ہی اکابر کے اقوال ، ان ارشادات کے صاف پرخلاف ،کہیں دیکھ پائے یا عقل نے نور محض کے سایہ ہونے کی بھی کوئی راہ نکالی ، جواس نے دلائل میں تعارض جان کر شک وتر دد کی بناء ڈالی اور جب ایسا نہیں تو شاید عظمت قدرت الہی میں تامل یا وہی بد مذہبوں کا قیاس مقلوع الاسنا س کہ
ما انتم الا بشر مثلنا ۱؂
 (نہیں ہو تم مگر ہماری طر ح بشر ۔ت )
(۱؂ القرآن الکریم ۳۶ / ۱۵)
اس پر باعث ہو ا، جب تو آفت بہت ہی سخت ہے ، اللہ تعالی رحم فرمائے ۔
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من ل دنک رحمۃ انک انت الوھاب۲؂
اے رب ،ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کو تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر ، بے شک تو ہے بڑا دینے والا ت(ت)
 (۲؂ القرآن الکریم ۳ /۸)
قولہ :
 ادعائے وجود ظل میں ایہام سوء ادب ہے ۔
اقول  :
"الان حصحص الحق"۳؂
 ( اب حق واضح ہوگیا ۔ت)
(۳؂ القرآن الکریم ۱۲/ ۵۱)
اللہ تعالی نے حق بات کو علو وغلبہ میں کچھ ایسی شان عجیب عطا فرمائی ہے کہ تشکیک وحیرت بلکہ تکذیب معاندت کی تاریکیوں میح بھی من حیث لایدری اپنا جلوی دکھاجاتی ہے ، مجیب کو منع اصرار پر اصرار تھا ، اب اقرار کرتے ہیں کہ وجود ظل ماننے میں ایہام سوء ادب ہے ، اور پر ظاہر کہ ایہام گستاخی تو وہیں ہوگا جہاں عیب ومنقصت کا پہلو نکلتا ہو ، اب شرع مطہر سے پوچھ دیکھئے کہ ایسی بات کا جز ماوقطعا رد وانکار وانکار واجب یا سکوت وحیرت کی کشمکش میں مہمل چھوڑدینا مناسب نہیں ۔ اب تو آپ کے اقرار سے فرض قطعی ٹھہرا کہ سایہ ہونے کا اقرار بلیغ کیا جائے ار اس پر حددر جہ کا اصرار تام رکھا جائے کہ ہرا س خس وخاشاک سے جو ایہاما واحتمالا بھی ہوئے تنقیص دیتا ہو، ساحت نبوت کی تبر یت اصول ایمان سے ہے اور بات بھی یہی ہے کہ جب سایہ کو کثا فت لازم اور لطا فت کاملہ عدم ظل کو مستلزم ، تو بحکم مقدمہ اولی جسے عدم سایہ میں شک ہوگا وہ درخقیقت سراپائے اقدس حضرت رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ کی لطافت متردد ہے اور سایہ ماننے والا کثافت اور نہ ماننے ولاا کمال لطافت کا معتقد ہے پھر مسلمانوں کی نفی سایہ اصرار سے منع کر نا بعینہ یہ کہنا ہے کہ لطافت جرچ ولا کو یقینی نہ جانو اور عیاذا باللہ کثافت بھی محتمل مانو ۔ اب اس شک وابدائے احتمال کا حکم بغایت شدید ہونا چاہے تھا مگر خیر گزری کہ لازم مذہب ، مذہب نہیں قرار پاتا۔
قولہ :
اور اصرار بر عدم میں احتمال دعوی غیرواقع ہے ۔
اقول :
احادیث صحاح بخاری ومسلم یکسراڑ گئیں ؟ کہیں نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا یا ایسا کیا یا وہاں یہ واقعہ ہوا کہ جب تک تو اتر نہ ہوا احتمال دعوی غیر واقعہ سب جگہ قائم کچھ دنوں خدمت شر ح نصیب رہے تو خوب واضح ہوجائے کہ احتمالات مجر د جو مناشی صحیحہ سے ناشی نہ ہوں تک لخت پائے اعتبار سے ساقط ہیں او ران پر کسی طر ح بنائے کار نہیں ہو سکتی ورنہ واجبات سے تو یکسر ہاتھ دھوبیٹھے کہ قطع ویقین منافی وجوب اور بے تیقن اصرار معیوب، تمیم کے طریقے بالکل مسدود کہ ہر خاک وسنگ میں احتمال نجاست موجود نص قرآنی یا احادیث متو اتر میں تو ان مٹیوں کی پاکی مذکور نیہں ، نہ یہ زمینیں ابتدائے خلقت سے ہر وقت ہمارے پیش نظر رہیں کہ عد م تنجس پر یقین حاصل ہو ، ہر نماز کے وقت ہر بار کپڑے پاک کرنا ضرور ہو کہ ممکن ہے کوئی ناپاکی پہنچی ہواور ہمیں اطلاع نہ ہوئی ہو، وضو وغسل و غسل ثیاب آپ غیر جاری سے روانہ ہو کہ یہاں بھی وہی آتش کا سہ میں ہے ، اکثر عورتوں خصوصا زنان ہمسایہ وقرابت دار میں احتمال ہے کہ انہوں نے یا ان کی ماں یاباپ نے ناکح کی ماں کا دودھ پیاہو  یانا کح نے جس عورت کا دودھ پیا ہو اس نے انہیں دودھ پلایا ہو یا وہ عورتیں ناکح کے باپ یا دادا یا ناناکی ممسوسہ یا منظورہ بصور معہودہ ہوں ، پھر نکاح کیونکہ ہوکسے ، او رجنہوں نے اس قاعدہ جدیدہ سے ناواقفی میں کرلیا ہے ان پر متا رکہ لام زہو ، قاضی شہادت شہود پر حکم نہیں کرسکتا ، ممکن کہ گواہ جھوٹ بولتے ہوں یا انہیں ورت واقعہ یا د نہ رہی ہو
الی غیر ذلک من المفاسد التی لاتحصی
( اس کے علاوہ بے شمار فساد لازم آئیں گے۔ت)غرض اس دو حرفی قاعدہ نے ایک عالم تہ وبالا کر ڈالا ، دین ودنیا کا عیش تلغ کردیا ۔
عزیز ا! یہ کہنا تو اس وقت روا تھا جب کوئی حدیث اس بارہ میں وارد نہ ہوتی ، نہ کلمات علماء میں اس کا پتا چلتا ، نہ وجود سایہ لطا فت ثابتہ کسی طر ف ترجیح نہ دیتی تو کہہ سکتے تھے کہ دلیل سے کچھ ثابت نہیں ہو تا اور ایک بات پر حکم حتمی میں احتمال نسبت غیر واقعی ہے اور مسئلہ اصول دین سے نہیں ، نہ ہمارا کوئی عمل یا عقیدہ اس پر موقوف ، پھر خواہ مخواہ خوض بیکار سے فائدہ ؟
من حسن اسلام المر ء ترکہ مالا یعنیہ۱؂
 (کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ بے مقصد باتوں کو چھوڑدے ۔ ت)
 (۱؂ جامع الترمذی ابواب الزہدباب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۵۵)
ایسے ہی مقامات پر علماء محتاط سکوت وتو قف کرتے اور تعارج دلائل ذکر کر کے اسی قسم کے کلمات لکھ دیتے ہیں ، امثال مسائل تفاضل نساء واثابت جنہ وحال اطفال اصحاب ضلال سے مجیب نے وہ لفظ سیکھ کر دیئے اورفر ق مبحثین پر نطر نہ کی ، ہم زیادہ نہیں مانگتے ایک ہی جگہ دکھادیں کہ کوئی مسئلہ احادیث سے ثابت اور اقوال علماء سے نقل خلاف اس پر متظافر اور ایک حکم یقینی ایمانی مثل لطافت جسم نوارنی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اسے مستلزم اور اس کے سبب عقل نورانی وحب ایمانی حقیقت مسئلہ پر حاکم ہو ، پھر کسی عالم معتبر نے وہاں تو قف اختیار کیا ہو اور اصول دین سے نہ ہونے یا مخالفت واقع کے احتمال کو مانع تسلیم قرار دیا ہو ورنہ یہ نو تراشید ہ مضمون قابل تو بہ واستغفار ہے
ربنا اغفرلنا واللمومنین جمیعا
 ( اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اورتمام مومنوں کو بخش دے ۔ت)
Flag Counter