Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
204 - 212
مقدمہ ثالثہ :
علماء کی تلقی بالقبول کو ایراث قوت میں اثر عجیب ہے کہ وہ ہر طر ح ہم سے اعرف و اعلم تھے ، ہماری ان کی کوزہ ومحیط کی بھی نسبت ٹھیک نہیں ، وہ سمائے علوم کے بد ر منیر اور ہم عامی انہیں کی روشنیوں سے مستنیر ، جب وہی ایک امر کو سلفا وخلفا مقبول رکھیں اوراپنی تصانیف اس کے ذکر سے موشح کریں توہمیں کیا جائے انکار ہے ،
وفی مثل ذالک یقول الامام العلامۃ العارف ربانی سیدی عبد الوھاب الشعرانی فی المیزان '' ان ھولاء الائمۃ الذین توقفت عن العمل بکلامہم کانوا اعلم منک واورع بیقین فی جمیع ما دونہ فی کتبھم لاتباعھم ،وان ادعیت انک اعلم منہم نسیک الناس الی الجنون اوالکذب جحدا و عنادا وقد افتی علماء سلفک بتلک الاقوال التی ترا ھا انت ضعیفۃ و دانوا للہ تعالی بھا حتی ماتوا فلا یقدح فی علمہم و ورعہم جہل مثلک بمناز عہم وخفا ء مدارکہم ومعلوم بل مشاھد ان کل عالم لایضع فی مؤلفہ عادۃ ا لاما تعب فی تحریر ہ و زنہ بمیزان الادلۃ والقواعد الشرعیۃ وحررہ تحریر الذھب والجوھر ، فایاک ان تنقبض نفسک من العمل بقول من اقوالہم اذا لم تعرف منزعہ فانک عامی بالنسبۃ الیہم والعامی لیس من مرتبۃ الانکار علی ا لعلماء لانہ جاھل۱؂ اھ
اور اسی کی مثل میں امام علامہ عارف ربانی سیدی عبدالوہاب شعرانی میزان میں فرماتے ہیں اور یہ تمام امام جن کے کلام پر عمل کرنے میں تو تو قف کرتا ہے تجھ سے علم ہمیں زیادہ ہیں اور دینی ذخیرہ انہوں نے اپنے مقلدین کے لئے جمع کیا ہے اس میں یقینا تجھ سے زیادہ متقی او رمحتاط ہیں اور اگر تو اپنی علمیت کا دعوی کرتا ہے تو لوگ قصدا  تجھے مجنون اور دروغ گو کہیں گے اور یہ اقوال جن کو تو ضعیف جانتا ہے وہی ہیں جن کے ساتھ علماء متقدمین نے فتوی دیا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اللہ کے قریب ہوئے حتی کہ اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے اور اگر تجھے جیسا ان کے مراتب ومدارک سے ناواقف ہوتو ان کے مراتب وتقوی میں کچھ نقصان نہیں آسکتا اور یہ بات معلوم بلکہ مشاہد ہے کہ ہر عالم اپنی اپنی کتب میں وہ امورلائے جن کے لکھنے میں مشقت بر داشت کرنی پڑی اور جن کو ادلہ اور قواعد شرعیہ کے تر ازو پر تول لیا ہے اور ان کو سونے او ر چاندی کی طر ف مزین کیا ہے ، پس تو اپنے آپ کو اس سے بچاکہ ان کے اقوال میں سے کسی ایسے قول پر عمل کنے سے تمہارا دل تنگ ہو جس کا ماخذ تمہاری سمجھ میں نہ آیا ہو کیونکہ تو بہ نسبت ان کے عامی ہے اور عامی کا یہ مذہب نہیں کہ وہ علماء کا انکار کرے کیونکہ وہ عامی جاہل ہوتا ہے ۔(ت)
 (۱؂ میزان الشریعۃ الکبری فصل فی بیان ذکر بعض من اطنب فی الثنا ء الخ دار الکتب اللمیۃ بیروت ۱ /۹۰)
فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ کا فتوی سابق کہ اسی بارے میں لکھ چکاہوں پیش نگاہ رکھ کر ان مقدمات میں امعان نظر کیجئے تو بحمد اللہ تمام شکوک واوہام ہباء منثور ہوجاتے ہیں ، ہاں میں بھولا ، ایک شرط اور بھی درکار ہے ، وہ کیا ، عقل کا اتباع اور تعصب سے امتناع ، مگر یہ دولت کسے ملے ؟ جسے خدادے ۔
یہاں تو اجمال کی غنچہ بندیاں تھیں اور تفصیل کی بہار گلفشانی پسند آئے تو لیجئے بگو ش ہوش وقلب شہید و انصاف کوش ، استماع کیجئے ۔
رب ارحم من انصف واھد عنیدا خالفا
 ( اے میرے پروردگار انصاف کرنے والے ! رحم فرمااور مخالف کرنے والے ہٹ دھرم کو ہدایت عطا فرما۔ت)
قولہ صرف حکیم ترمذی نے کہ غیر صاحب صحیح اور شخص ہیں ، اپنی کتاب نوادر الاصول میں روایۃ کہا ہے :
ولم یکن لہ ظل لا فی الشمس ولا فی القمر ۔
آپ کا سایہ نہ تھا ، نہ دھوپ میں نہ چاندی میں(ت)
اقول:  صلی للہ تعالی علیہ وسلم
 ( اللہ تعالی نبی کریم پر درود وسلام نازل فرمائے ۔ ت)
مجیب کے اس سارے جواب کا مبنے صرف اسی زعم فاسد پر ہے جوقصور نظر سے ناشی ۔ حکیم ترمذی نے تو اس حدیث کو ذکو ان تابعی سے مرسلاروایت کیا اور اسے موصولا مع زیادت مفید ہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرنے کرنے والے امام جلیل ، حبر نبیل ، حجۃ اللہ فی الارضین ، معجزۃ من معجزات سید المر سلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، حضرت امام ہمام عبداللہ بن مبارک قدس سرہ المتبر ک جن کی جلالت شان و غزار ت علوم آفتاب نیم روز سے اظہر وازہر ، امام اجل احمد بن حنبل وامام سفین ثوری وامام یحیی ابن معین وابو بکر بن ابی شیبہ وحسن بن عرفہ وغیرہم اکابر محدثین ، فن حدیث میں اس جناب رفعت قباب کے شاگرد ان مستفیض ہیں اور کتا بو ں پر اگر نظر نہ ہو تو شاہ صاحب کی بستان ہی دیکھئے ، کیا کچھ مدائح اس جانب سے لکھ کر مستوجب رحمت الہی ہوئے ہیں ۔

 ان کے بعد اس حدیث کے راوی امام علامہ شمس الدین ابو الفرج ابن الجوزی ہیں ، رحمۃ اللہ تعالی علیہ ، کہ کتاب الوفاء میں اسے روایت فرمایا ۱؂۔
 (۱؂ الوفا ء با حوال المصطفٰی الباب التا سع والعشرو ں مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۰۷)
فن حدیث میں ان کی دستگاہ کامل کسے معلوم نہیں خصوصا بر عکس امام ابو عبداللہ حاکم جرح ونضعیف پر حرص شدید رکھتے ہیں ، پھر جس حدیث حدیث پر یہ اعتماد کریں ظاہر ہے کہ کس درجہ قوت میں ہوگی ، پس با وجود تعدد طر ق وکثرت مخرجین ، حدیث کو صرف روایت حکیم کہنا محض باطل ،اور باطل پر جو کچھ مبنی ، سب حلیہ صواب سے عاطل ،اور معلوم نہیں لفظ '' روایۃ '' کس غرض سے بڑھایا ، ظاہرا اعضال یا تعلیق کی طرف اشارہ فرمایا
کقول القائل روی کذ ا وذکر عن زید عن عمر و کذا
 ( جیسے قول قائل کہ یوں روایت کیا گیا ہے اور زید سے بحوالہ عمر و یوں ذکر کیا گیا ہے ۔ ت)
کہ مقصود مجیب حدیث کو بے اعتبار ٹھہرا نا ہے تو بہ شہادت سوق وہی الفاظ لائے جائیں گے جو مقصود کے ملائم وموید ہوں نہ وہ کہ ایک قسم کی بے اعتباری کو دفع کریں اور اعتبار سے اصلا منافات نہ رکھیں ، حالانکہ محدثین کے نزدیک تخریج وروایت کا ایک ہی مفاد اور ذکر اسناد دونوں جگہ مراد
کما تفصح عن کلمات العلماء الامجاد
 (جیسا کہ بزرگ علماء کی عبارات نے اس کو خوب واضح کردیا ہے ۔ت ) پس اگر اس اصطلاح محدثین پر اطلاع تھی تو مقصود سے بیگانہ لفظ کی زیادت کیوں ہوئی اور ایسے مواخذ ے تو ہم ضروری بھی نہیں سمجھتے کہ روایت حکیم کی نقل میں کمی بیشی واقع ، ان کے پاس لفظ حدیث یوں ہیں :
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر۲؂
سورج اور چند کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا تھا ۔ (ت)
(۲؂ الخصائص الکبری بحوالہ الحکیم الترمذی باب الایۃ فی انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لم  یکن یری الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات   ۱/ ۶۸)
قولہ مگر محدثان اعلام نے اس حدیث کو معتبر نہیں مانا ہے ۔
اقول :
جب اس کتاب کے سوا اور ائمہ اعلام نے بھی حدیث کو روایت فرمایا تو اس کتاب کا غیر معتبر ہونا کیا مضر ت رکھتا ہے ، معہذا غیر معتبر ماننے کے یہ معنی کہ اس کی ہر روایت کو باطل سمجھا ، جب تو محض غلط ، نہ کوئی محدث اس کا قال ، خود اکابر محدثین اسی نوادر الاصول بلکہ فر دوس دیلمی سے جس کا حال نہایت ہی ردی ہے ، تو وہ روایتیں اپنی کتب میں لاتے اور ان سے احتجاج واستناد فرماتے ہیں
کما لا یخفی علی من طالع کتب القوم
 ( جیسا کہ کتب قوم کامطالعہ کرنے والے پر پو شیدہ نہیں ہے ۔ت )
اور جو یہ مقصود کہ اس میں روایات منکرہ وباطلہ بھی موجود ہیں تو بے شک مسلم ، مگر اس قدر سے یہ لازم نہیں آتا کہ ساری کتاب مطروح ومجروح ٹھہرے اور اس کی کسی حدیث سے استناد جائز نہ رہے آخر علمائے سلف احادیث نوادر و روایات فردوس سے کیوں تمسک کرتے ہیں اور جب وہ اس سے باز نہ رہے تو ہم کیوں ممنوع رہیں گے ،خود یہی شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کے والد واساتذہ ومشا ئخ شریعت وطریقت اپنی تصانیف میں احادیث کتب مذکور ہ ذکر اور ان سے استدلال کرتے ہیں ۔
قولہ :
  اب یہ کہئے گا کہ جب تکاب مخدوش ومخلوط ہوچکی تو ہر حدیث پر احتمال ضعف قائم ، تو اس سے احتجاج اسی کو روا ہوگا جو بصیر وعارف اور نشیب وفراز فن سے واقف ہے ۔
اقول :
  اب ہمارے مطلب پر آگئے ، حدیث عدم ظل سے بھی ہم عامیوں نے استدلال نہ کیا بلکہ یہی ائمہ شان ، اور ارباب تمیز وعرفان اسے بلا نکیر منکر مقبول رکھتے آئے اور ہم نے ان کی تقلید سے قبول کیا۔ اگر ان بصیرت والوں کے نزدیک متنازع فیہ قابل قبول نہ ہوتی تو حسب عادت اس رپ رد و انکار کیوں نہ فرماتے اور تلقی بالقبول سے باز آتے ۔

 قولہ :  اور مصنف نے بھی بھی الترازم تصحیح مافیہ نہیں کیا ہے
صرح بذلک خاتم المحدثین مولانا شاہ عبدالعزیز محدث الدھلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فی بستان المحدثین
( خاتم المحدثین مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے بستان المحدثین میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ت )
اقول:
نہ التزام تصیح صحت کو مستلزم ، نہ عدم التزام اس کا مزاحم ۔ اہل التزام کی تصانیف میں بہت روایات باطلہ ہوتی ہیں اور التزام نہ کرنے والوں کی تصنیفو ں میں اکثر احادیث صحیحہ ، آخر مستدرک حاکم کاحال نہ سنا جنہوں نےصحت کیامعنی ، التزام شرط شیخین کا ادعا ء کیا ار بقدر چہارم احادیث ضعفیہ ومنکرہ وباطلہ وموضوعہ بھر دیں۔
اسی طرح ابن حبان کا یہ دعوی کتاب التقاسیم و الانواع میں ٹھیک نہ اتر اور سنن ابی داؤد جس میں التزام صحاح ہر گز نہیں ، صحاح ستہ میں معدود اور ان کا مسکوت عنہ مقبول ومحمود ، یہ سب امور خادم حدیث پر جلی وروشن ہیں۔
عزیز ا! مدار کا را سناد پر ہے ، التزام وعدم التزام کوئی چیز نہیں ، یہ دولت تو روز اول بخاری کے حصہ میں تھی کہ احادیث مسندہ میں حق سبحانہ ، نے ان کا قصد پورا کیا ، پھر ایسی فضول بات کے ذکر سے کیا حاصل ! کیا جس کتاب میں التزام صحاح نہیں اس سے احتجاج مطلقا مباح نہیں ؟ ایسا ہو تو بخاری و مسلم وچند کتب دیگر کے سوا سنن ابی داود وابن ماجہ ودارمی وتصانیف ابی بکر بن ابی شیبہ وعبدالرزاق ودارقطنی وطبرانی وبیہقی وبزار وابی لیلی وغیرہا معظم کتب حدیث جن پر گویا مدار شرع و سنت ہے محض بیکار ہوجائیں ۔
لاحوال ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم
 (نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی وعظمت والے خدا کی طر ف سے ۔ ت)
Flag Counter