Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
203 - 212
رسالہ

ھدی الحیران فی نفی الفیئ عن سید الاکوان(۱۲۹۹ھ)

(سرورِکائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں حیرت زدہ کے لئے راہنمائی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الحمد للہ حمدا تنجلی بہا ظلمات الا لٓام والصلوہ والسلام علی سیدنا محمد قمر التمام وعلی الہ واصحابہ مصایبح الظلام وعلی المھتدین بانوار ھم الی یوم القیام وبعد فقال العبد الملتجی الی ربہ القوی عن شر کل غوی وغبی عبدہ المذنب احمد رضا المحمدی ملۃ والسنی عقیدۃ والحنفی عملا والقادری البر کاتی الاحمدی طریقۃ وانتسابا و البریلوی مولدا وموطنا والمدنی والبقیعی ان شاء اللہ مدفنا ومحشرا فالعدنی الفردوسی رحمۃ اللہ منزلا ومد خلا مستنیرا بانوار الھدایۃ والیقین حاسما الخدشات الظن و التخمین بک یا ربنا فی کل باب نستعین ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جن سے دکھوں کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں ۔ درود و سلام ہو ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر جو ماہ کامل ہیں اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جواندھیروں میں چراغ ہیں اور پر جو قیامت آل واصحاب کے انوار سے سے ہدایت حاصل کرتے ہیں گے ۔ بعد از یں ہرگمراہ اور کند ذہن کے سر سے رب قوی کی پناہ کا طلبگار اس کا خطا کا ر بندہ احمد رضا کہتا ہے جو ملت کے اعتبار سے محمدی ، عقیدہ کے اعتبار سے سنی ، عمل کے اعتبار سے حنفی ، طریقت وانتساب کے اعتبار سے قادری بر کاتی احمد ی ، مولد و وطن کے اعتبار سے بریلوی اور اللہ نے چاہا تو مدفن ومحشر کے اعتبار سے مدنی وبقیعی ، پھر اللہ تعالی کی رحمت سے منزل ومدخل کے اعتبار سے عدنی وفردوسی ہے درا نحالیکہ وہ ہدایت ویقین کے انوار سے مستنیر ہونے والا اور ظن وتخمین کے خدشات کو مٹا نے والا ہے ، تیری تو فیق سے اے ہمارے رب ! ہم ہر بات میں تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ اور اللہ بلندی و عظمت والے کی توفیق کے بغیر نہ تو کسی کے لئے گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کو قوت ۔(ت)
فصل اول
ہم حول وقوت ربانی پر اتکاء واتکال کی عروہ وثقی دست التجاء میں مضبوط تھام کر پیش از جواب مفصل چند مقدمات ایسے تمہید کرتے ہیں جن سے بعون اللہ تعالی ارتفاع نزاع بہ آسانی بن پڑے ۔
عزیز ان حق طلب ! اگر عقل سلیم کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینگے تو ان شاء اللہ انہی شمعوں کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک شاہراہ صواب پر ہولیں گے اور کلفت خار زار اور آفت یمین ویسار سے بچتے ہوئے تجلائے ہدایت میں نور کے تڑ کے ٹھنڈے ٹھنڈے منزل تحقیق پر خیمہ زن ہوں گے اور جو تعصب اور سخن پروری کاساتھ دے تو ہم پرکیا الزام ہے کہ جلتے ریت پر چلانا ، بلا کے کانٹون میں پھنسانا ، اندھے کو دن میں گرانا ، ان دو آفت جا ن ، دشمن دین وایمان کا قدیمی کام ہے
وباللہ التوفیق وبہ الوصول الی ذروۃ التحقیق
( اللہ ہی سے توفیق ہے اور اسی کی بدولت تحقیق کی بلندی تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ت)
مقدمہ اولی:
جب دو چیز وں میں عقل یا نقل ملازمت ثابت کرے تو بحکم قضیہ لزوم ، بعد ثبوت ملزوم ، تحقیق لازم خود محقق ومعلوم ، اور تجشم دلیل کی حاجت معدوم ، اسی طر ح بعد انتفائے لازم انعدام ملزوم آپ ہی مفہوم ، کما ہو غیر خاف ولا مکتو م ، اور اسی ملازمت واقعہ کے با عث مرتبہ ادراک میں بھی بعد علم باللزوم ، وجود لازم وانتفائے ملزوم ، تحقیق ملزوم وعدم لازم کا شک ووہم وظن و یقین وتکذیب میں تا بع رہتا ہے ، مثلا جسے وجود ملزوم پر تیقن کا مل ہوگا اس کے نزدیک ثبوت لازم بھی قطعی یقینی ہوگا اور ظان وشاک وواہم کے نزدیک مظنون ومشکوک وموہوم ہوگا اور یہ معنی بد یہیات باہر ہ سے ہیں ۔
مقدمہ ثانیہ :
دعاوی ومقاصد خواہش ثبوت میں متساویۃ الاقدام نہیں بعض ایسے درجہ اہتمام ورفعت مقام یں ہیں کہ جب تک نص صحیح ، صریح ، متواتر قطعی الدلالۃ ہر طر ح کے شکوک و اوہام سے منزہ ومبر نہ پایا جائے ہر گز پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتے ، احادیث احاد اگر چہ بخاری ومسلم کی ہوں ان کے لئے کافی نہ ہوں گی۔
اسی قبیل سے ہے اطلاق الفاظ متشابہات کہ حضرت عزت میں اصح الکتب سے ثابت مگر عدم تواتر مانع قبول اور حلال وحرام کی جب بحث آئے تو احادیث ضعیفہ سے کام لیں گے اور فضائل اعمال و مناقب رجال میں دائر ہ کو خوب تو سیع دیں گے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ثابت الاصل کے مؤیدات و ملائمات میں چنداں اہتمام منظور نہیں ، مثلا ہمیں یقینیات سے معلوم ہوچکا کہ ذکر الہی وتکبیر وتہلیل ونماز و درود وغیرہا اعمال صالحہ محمود ہ ہیں ، اب خاص صلوۃ التسبیح کی حدیث درجہ صحت تک پہنچنا ضرور نہیں ، یا نصوص قرآنیہ واحادیث متواتر ۃ المعنی ہمیں ارشاد فرمایا چکیں کہ صحابہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و علیہم اجمعین سب ارباب فضائل وعلوشان ورفعت مکان اور اللہ تبارک وتعالی کے بندگان مقبول و بہترین امتیاں ہیں۔
اب خاص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب بخاری و مسلم ہے پر مقصور نہیں ، اسی قبیل سے ہے باب معجزات وخوارق عادات کو حضور اقدس خلیفہ اعظم بارگاہ قدرت سے صدور آیات ومعجزات اور ملکوت السموۃ والارض میں حضور کے ظاہر وباہر تصرفات ، قاطعات یقینیہ سے ثابت ، تواب شہادت ظبی یا عدم ظل کا ثبوت صحاح ستہ پر محصور نہیں علماء نے تو با ب خوارق میں غرابت متین پر بھی خیال نہ کیا اور حدیث کو با وجود ایسے خدشہ کے حسن ومقبول رکھا ۔
اما م اجل ابو عثمان اسمعیل بن عبدالرحمن صابانی کتاب المائتین میں حدیث حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہ حضور پر نور سے مہد اقدس میں چاند باتیں کرتا اور جد ھر اشارہ فرماتے ہیں جھک دیتا ، ذکر کر کے فرماتے ہیں :
ھذا حدیث غریب الاسناد والمتن و ھو فی المعجزات حسن ۱؂ اھ اٰثرہ الامام العلامۃ القسطلانی فی المواہب۔
یہ حدیث اسناد ومتن کے اعتبار سے غریب ہے اور وہ معجزات میں حسن ہے اھ اس کو امام قسطلانی نے مواہب میں ترجیح دی ۔(ت)
 (۱؂ المواہب اللدنیۃ بحوالہ الصابو ن فی المائتین المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۵۴)
علامہ رزقانی شرح لکھتے ہیں :
لان عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام والعقائد مالم یکن موضوعا ۱؂۔
کیونکہ محدثین کی عادت ہے کہ وہ احکام وعقائد کے غیر میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں جب تک حدیث موضوع نہ ہو ۔(ت)
(۱؂ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول دار المعرفۃ بیروت ۱ /۱۴۷)
Flag Counter