| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
صحابہ کرام میں ہزاروں ایسے ہیں جنہیں طول صحبت نصیب نہ ہوا او ربہت ایسے ہیں جنہوں نے سوئے مجامع عظیم کے شرف زیارت نہ پایا ۔ غیر مدینہ کے گر وہ کے گرو ہ حاضر ہوتے اور عرصہ قلیلہ میں واپس جاتے ، ایسی صورت اور مجمع کی کثرت میں موقع سایہ پر نظر اور اس کے ساتھ عدم سایہ کی طرف خیال جانا کیا ضرور ۔ ظاہر ہے کہ مجمع میں سایہ ایک کا دوسرے سے ممتا ز نہیں ہوتا اور کسی شخص خاص کی طرف نسبت امتیاز کرنا کہ اس کے لئے ظل ہے یا نہیں ، دشوار ہوتا ہے ۔ علاوہ بریں یہ کس نے واجب کیا کہ ان اوقات پر حضور والا دھوپ یا چاند نی میں جلوہ فرماہوں ، کیا مدینہ طیبہ میں سایہ دار مکان نہ تھے یا مسجد شریف کہ اکثر وہیں تشریف رکھتے بے سقف تھی ۔
احادیث سے ثابت کہ سفر میں صحابہ کرام حضور کے لئے سایہ دار پیڑ چھوڑ دیتے اور جو کہیں سایہ نہ ملا تو کپڑے وغیرہ کا سایہ کرلیا جیسا کہ روز قدوم مدینہ طیبہ سیدنا بی بکر صدیق اور حجۃ الوداع میں واقع ہوا اور قبل از بعثت تو ابر سایہ کے لئے متعین تھا ہی ، جب چلتے ساتھ چلتا او رجب ٹہرتے ٹھہرجاتا ، اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے غلام میسرہ نے فرشتوں کو سر اقدس پر سایہ کرتے دیکھا اور سفر شام میں آپ کسی حاجت کو تشریف لے گئے تھے ، لوگو ں نے پیڑ کا سایہ گھیر لیا تھا ، حضور دھوپ میں بیٹھ گئے سایہ حضور پر جھک گیا۔ بحیر اعالم نصاری نے کہا دیکھو سایہ ان کی طرف جھکتا ہے ۔ اور بعض اسفار میں ایک درخت خشک وبے برگ کے نیچے جلوس فرمایا ، فورا زمین حضور کے گرد کی سبزہ زار ہوگئی اور پیڑ ہرا ہوگیا ، شاخیں اسی ساعت بڑھ گئیں اور اپنی کمال بلندی کو پہنچ کر سائے کہ کئے حضور پر لٹک آئیں ۔ چنانچہ یہ سب حدیثیں کتب سیر میں تفصیلا مذکور ہیں۔
اب نہ رہے مگر وہ لوگ جنہیں طول صحبت روزی ہوا اور حضور کو آفتاب یا ماہتا ب یا چراغ کی روشنی میں ایسی حالت میں دیکھا کہ مجمع بھی کم تھا اور موقع سایہ پر بالقصد نظر بھی کی اور ادراک کیا کہ جسم انور ہمسائیگی سایہ سے دور ہے ، اور ظاہر ہے کہ ان سب کا احساس وانکشاف جن لوگو ں کے لئے ہوا ہے وہ بہت کم ہیں ، جن کے واسطے نہ ہوا پھر اس طائفہ قلیلہ سے یہ کیا ضرورہے کہ ہر شخص یا اکثر اس معجزے کو رو ایت کرے ، ہم نہیں تسلیم کرتے کہ مجر د خرق عادت با عث تو فرد داعی ونقل جمیع اکثر حاضرین ہے ۔
خادم حدیث پر کاتشمس فی نصف النہار رو شن کو صدہا معجزات قاہر ہ حضور سے غزوت واسفار ومجامع عامہ میں واقع ہوئے کہ سیکڑوں ہزاروں آدمیوں نے ان پر اطلاع پائی مگر ان کی ہم تک نقل صرف احاد سے پہنچی ۔ واقعہ حدیبیہ میں انگشتا ن اقدس سے پانی کا دریا کی طر ف جو ش مارنا او رچودہ پندر ہ سو آدمی کا علی اختلاف الروایات اسے پینا اور وضو کرنا اور بقیہ تو شہ کو جمع کر کے دعا فرمانا اور اس سے لشکر کے سب بر تن بھر دینا اور اسی قدر باقی بچ رہنا ، ایسے معجزات میں ہیں اور بالضرور چودہ پندر ہ سو آدمی سب کے سامنے اس کا وقوع ہو او رسب نے اس پر اطلاع پائی مگر ان میں سے چودہ نے بھی اسے روایت نہ فرمایا ۔
فقیر نے کتب حاضرہ احادیث خصوصا وہ کتا بیں سیر وفضائل کی جن کا موضوع ہی اس قسم کی باتوں کا تذکر ہ ہے مانند شفائے قاضی عیاض وشرح خفا جی ومواہب لدنیہ وشرح زرقانی ومدارج النبوۃ وخصائص کبری علامہ جلال الدین سیوطی وغیرہا مطالعہ کیں ، پانچ سے زیادہ راوی اس واقعے کے نہ پائے ۔ اسی طر ح رد شمس یعنی غرو ب ہو کر سورج کا لوٹ آنا او رمغرب سے عصر کا وقت ہوجانا جو غزوہ خیبر میں مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ کے لئے واقع ہو ا ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ عدم ظل کو اس سے اصلا نسبت نہیں اور اس کا وقوع بھی ایک غزوہ میں ہو اکما ذکر نا ( جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔ ت) اور تعداد لشکر خیبر کی سولہ ۱۶۰۰ سو ، بالضرور یہ سب حضرات اس پر گواہ ہونگے کہ ہرنمازی مسلمان خصوصا صحابہ کرام کو بغر ض نماز آفتا ب کے طلوع وغروب زوال کی طرف لاجرم نظر ہوتی ہے ۔
تو ریت میں وصف اس امت مرحوم کا رعاۃ الشمس کے ساتھ وادد ہوا
کما رواہ ابو نعیم عن کعب الاحبار عن سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام
( جیسا کہ اس کو ابونعیم نے بحوالہ کعب الاحبار عن سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے ۔ ت) یعنی آفتا ب کے نگہبان کہ اس کے تبدل احوال اور شروق وافول زوال کے جویاں وخبر گیران رہتے تھے ، جب آفتاب نے غروب کیا ہوگا بالضرور تمام لشکر نے نماز کا تہیہ کیا ہوگا ، دفعۃ شام سے دن ہوگیا ور خورشید الٹے پاؤں آیا ، کیا ایسے عجیب واقعہ کو دریافت نہ کیا اور نہ معلوم ہوا ہوگا کہ اس کے حکم سے لوٹا ہے جسے قادر مطلق کی نیابت مطلقہ اور عالم علوی میں دست بالا حاصل ہے (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ) لیکن اس کے سوا اگر کسی صاحب کو معلوم ہو کہ اتنی بڑی جماعت سے دو چار آدمیوں نے اور بھی اس معجزے کو روایت کیا تو نشان دیں ۔
بالجملہ یہ حدیث واہبہ ہے جس کی بناء پر ہم عقل ونقل واتباع حدیث وعلماء کو تر ک نہیں کرسکتے ، کیا یہ اکابر اس قدر نہ سمجھتے تھے یا انہیں نے دیدہ ودانستہ خدا اور رسول پر افتراء گواراکیا ،
لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ،
بلکہ جب ایک راوی اس حدیث عدن ظل کے ذکوان ہیں اور وہ خود ابو صالح سمان زیات ہوں یا ابو عمر و مدنی مولائے صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما تردد فیہ الزرقانی (اس میں زرقانی نے تردد کیا ۔ ت) بہر تقدیر تا بعی ثقہ معتمد علیہ ہیں
کما ذکر ایضا و ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اور تا بعین وعلماء ثقات اہل ورع واحتیاط سے مظنون یہی ہے کہ غالب حدیث کو مرسلا اسی وقت ذکر کریں گے جب انہیں شیوخ و صحابہ کثرین سے اسے سن کر مرتبہ قرب ویقین حاصل کرلیا ہو۔ابراہیم نخعی فرماتے ہیں اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ در صورت اسناد صدق وکذب سے اپنے آپ کو غرض نہ رہی ۔
جب ہم نے کلام کو اس کی طر ف نسبت کردیا جس سے سنا ہے تو ہم بری الذمہ ہوگئے بخلاف اس کے کہ اس کا ذکر ترک کریں اور خود لکھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا ، ایسا فرمایا ، اس صورت میں بار اپنے سر پر رہا تو عالم ثقہ ، متورع ، محتا ط ، بے کثرت سماع واطمینان کلی قلب کے ایسی بات سے دوررہے گا ۔ اس طور پر ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سایہ نہ ہونا بہت صحابہ نے دیکھا اور ان سب سے ذکوان کو سماع حاصل ہوا گر چہ ان کی روایات ہم تک نہ پہنچیں ۔
ھکذ ا ینبغی ان یفہم المقام وینقح المرام ، واللہ ولی الفضل والتوفیق والانعام ، ھذاوقد بقی بعد خبایا فی زوایا الکلام لعلہا یفوز بہا فکر و ھذا کلہ وقد و جد مما الھمنی ربی بفضل منہ ونعمۃ لایجد من قلبی ان ربی لذو فضل عظیم انہ ھو الروف الرحیم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم وظنی افی بحمد ربی الجلیل قد اثبت فی المسئلۃ مایشفی العلیل بالکثیر ولا بالقلیل ، واللہ یقول الحق وھو یہدی السبیل انہ حسبی ونعم الوکیل اسالہ ان یجنبنی بہا و کل من زل زلۃ ویجعلہا ظلا ظلیلا علی روسنا یوم لاظل الا ظلہ وان یصلی علی ابہی اقما ر الرسالۃ وابہر ھا و اسنی شموش الکرامۃ وانوارھا الذی لم یکن لہ ظل فی شمس و لا قمر وفدیات وصلہ ولی صحبہ والہ متظلین باذیالہ الداعین الی نعم اظلا لہ وعلینا معہم اجمعین بر حمۃ انہ رؤف رحیم واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین۔
اسی طر ح طر ح چاہے مقام کی تفہیم اور مقصد کی تنقیح اللہ تعالی ہی فضل وتو فیق اور انعام کاملک ہے ۔ تحقیق ابھی کچھ پوشیدگیاں کلام کے گو شوں میں باقی ہیں۔ امید ہےکہ فکر صائب ان تک رسائی حاصل کرلے گی ۔ یہ جو کچھ مذکور ہو امیرے رب نے اپنے فضل ونعمت سے میرے دل میں ڈالا ہے یہ میرے دل کی تخلیق نہیں ہے ۔ بے شک میرا رب بڑے فضل والا ہے اور وہ روف ورحیم ہے ۔ عزت و حکمت والے اللہ کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طا قت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت۔ میرا گمان ہے کہ میں نے اپنے رب جلیل کی حمد سے مسئلہ مذکورہ میں وہ کچھ ثابت کردیا ہے جو بیمار کو شفا دے گا اور پیاسے کو سیراب کرے گا اور قلت و کثر ت کے ساتھ مخل نہ ہوگا ۔ اللہ تعالی حق فرماتا ہے اور راہ راست کی ہدایت فرماتا ہے بے شک وہ میرے لئے کافی ہے اور کیا ہی اچھا کا ر ساز ہے ، میں اللہ تعالی سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اور ہر لغزش کرنے والے کو اس کی برکت سے لغزش سے بچائے اور اسے ہمارے سروں پر گہرا سایہ بنائے جس روز اس کے سایہ کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا ۔ اللہ تعالی درو د نازل فرمائے روشن ترین ماہتاب رسالت پر اور سب سے زیادہ چمکدار آفتاب کرامت اور اس کے انوار پر جس کا سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندنی میں ، اور آپ کے صحابہ وآل پر جو آپ کے دامن رحمت کے سایہ میں ہیں اور آپ کے سایہ رحمت کے سایہ میں ہیں اور آپ کے سایہ رحمت کی نعمتوں کی طر ف دعوت دینے والے ہیں ، اور ان کے ساتھ ہم سب پر رو ف وحیم کی رحمت سے ۔(ت)
رسالہ قمرالتمام فی نفی الظل عن سید الانام صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ختم ہوا