پُر ظاہر کہ آدمی بلا وجہ کسی بات کے درپے تفتیش نہیں ہوتااور جوبات عام وشامل ہوتی ہے او ر تمام آدمی اس میں یکساں کسی شخص خاص میں بالقصد اس کی طرف غور نہیں کرتا ،مثلا ہر ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہونا ایک امر عام ہے لہذا بلا سبب کسی آدمی کی انگلیوں کوکوئی شخص اس مقصد خاص سے نہیں دیکھتا کہ اس کی انگلیاں پانچ ہیں یا کم ، ہاں اگر پہلے سے سن رکھا ہو کہ زید کی انگلیاں چار ہیں یا چھ تو اس صورت میں البتہ بقصد مذکور نظر کی جائے گی ۔ اسی طر ح سایہ ایک امر عام شامل ہے ، اگر بعض آدمیوں کا سایہ پڑتا اور بعض کا نہیں تو البتہ بے شک خیال جانے کی بات تھی کہ دیکھیں حضور کے بھی سایہ ہے یانہیں ، نہ اس سے کوئی امر دینی مثل اتباع واقتداء کے متعلق تھا کہ اس کے خیال سے بالقصد اس طر ف لحاظ کیا جاتا ، ہاں ایسی صورت میں ادراک کا طریقہ یہ ہے کہ بے قصد وتوجہ خاص نظر پڑجائے اور وہ صورت بعد تکرر مشاہدہ ذہن میں منقش اور مثل مربیات قصد یہ کے خزانہ خیال میں مخزون ہوجائے ، مثلا زید کہ ہمارا دوست ہے ، ہم اپنے مشاہدے کی رو سے بتا سکتے ہیں کہ اس کے ہر ہا تھ کی انگلیاں پانچ ہیں اگر چہ ہم نے کبھی اس قصد سے اس کے ہاتھوں کو نہیں دیکھا ہے مگر ہم نے اس کے ہاتھوں کو بارہا دیکھاہے ، وہ صورت خزانہ میں محفوظ ہے ، نفس اسے اپنے حضور حاضر کر کے بتاسکتاہے لیکن ہم مقدمہ اولٰی میں ثابت کرآئے ہیں کہ یہ طریقہ اداراک وہاں معدوم تھا کہ رعب وہیبت اورامور مہمہ کی طرف توجہ اورحضور کے استماع اقوال ومطالعہ افعال ہمہ تن صرف ہمت اورنگاہ کابسبب غایت ادب وخوف الٰہی کے اپنے زانو وپشت پاسے تجاو نہ کرنا اس ادراک بلا قصہ سے مانع قوی تھا علی الخصوص کسی شے کا عدم کہ وہ تو کوئی امر محسوس نہیں جس پر بے ارادہ بھی نگاہ پڑجائے اورنفس اسے یاد رکھے ، یہاں تو جب تک خیال نہ کیا جائے علم عدم حاصل نہ ہوگا ، آدمی جب ایسے مقام رعب وہیبت اورقلب کی مشغولی ومشغوفی میں ہوتا ہے توکسی چیز کا عدم رؤیت سے اس کے عدم پر استدلال نہیں کرتا اور جب اذہان میں بنا ء برعادت اس کا عموم وشمول متمکن ہوتا ہے تو برخلاف عادت اس کے معدوم ہونے کی طرف خیال نہیں جاتا بلکہ اس سے اگر تفتیش کی جائے اور اس امر کی طرف خیال دلایا جائے تو خواہ مخواہ اس کا گمان اس طرف مسارَعَت کرتاہے کہ جب یہ امر عام ہے تو ظاہرً ایہاں بھی ہوگا۔ میرا نہ دیکھان کچھ نہ ہونے پر دلیل نہیں ، میری نظر میں نہ آنا اس وجہ سے تھا کہ اول میری نگاہ ادھر ادھر نہ اٹھتی تھی اورجو اٹھی بھی تو ہزار رعب ، ہیبت اورنفس کے امور دیگر کی طرف صرف ہمت کے ساتھ ایسی حالت میں کیسے کہہ سکوں گا کہ تھا یا نہ تھا۔
ثم اقول :
یہ کیفیت تو اس وقت کی تھی جب صحابہ کرام حضور سے ملاقی ہوتے اورجو ہرماہ رکاب سعادت انتساب ہوتے تو وہاں باوجود ان وجوہ کے ایک وجہ اوربھی تھی کہ غالب اوقات صحابہ کرام کو آگے چلنے کا حکم ہوتا اورحضور ان کے پیچھے چلتے ۔
ترمذی نے شمائل کی حدیث طویل میں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا :
یسوق اصحابہ۱
یعنی حضور والا صحابہ کرام کو اپنے آگے چلاتے ۔
(۱شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۲)
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالٰی عنہما سے رایت کیا:
مارأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یطأعقبہ رجلان۲۔
حاصل یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ دو آدمی بھی حضور کے پیچھے چلے ہوں۔
(۲مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۵)
( سنن ابن ماجہ باب من کرہ ان یوطأعقباہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۲)
جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا :
کان اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یمشون امامہ ویکون ظھرہ للملٰئکۃ ۱۔
اصحاب ، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آگے چلتے اورپشت اقدس فرشتوں کے لئے چھوڑتے ۔
(۱سنن ابن ماجہ باب من کرہ ان یوطا عقباہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۲)
( مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۰۲)
( موارد الظلمان کتاب علاماۃ نبوۃ نبیناصلی اللہ تعالٰی علیہ حدیث ۲۰۹۹ المطبعۃ السلفیۃ ص۵۱۵)
دارمی نے بہ اسناد صحیح مرفوعاً روایت کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےفرمایا:
خلوا ظھری للملٰئکۃ۲۔
میری پیٹھ فرشتوں کےلئے چھوڑدو۔
(۲سنن الدارمی تحت الحدیث ۴۶ دارالمحاسن للطباعۃ قاہرہ ۱ /۲۹)
بالجملہ ہمای راس تقیرر سے جو بالکل وجدانیات پر مشتمل ہے ، کوئی شخص اگر مکا برہ نہ کرے ، بالیقین اس کا دل ان سب کیفیات کے صدق پر گواہی دے ، بخوبی ظاہر ہوگیا کہ ظاہراً اکثر صحابہ کرام کا خیال اس طرف نہ گیا اوراس معجزے کی انہیں اطلاع نہ ہوئی اوراگر یہ برسبیل تنزل ثابت ومبرہن ہوجانا نہ مانئے توان تقریروں کی بناء پر یہ توکہہ سکتے ہیں کہ عدم اطلاع کا احتمال قوی ہے ، قوت بھی جانے دو اتنا ہی سہی کہ شک واقع ہوگیا، پھر یہی استدلال سن کر کہ اگر ایساہوتا تو مثل حدیث ستون حنانہ مشہور ومستفیض ہوتا، کب باقی رہا ، خصم کہہ سکتاہے کہ ممکن ہے عدم شہرت بسبب عدم اطلاع کے ہو
کما ذکرنا وباللہ التوفیق
(جیسا کہ ہم نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہا ۔ ت)
مقدمہ ثالثہ :
ہماری تنقیح سابق سے یہ لازم نہیں آتا کہ بالکل کسی کو اس معجزے پر اطلاع نہ ہو اورکوئی اسے روایت نہ کرے ، صغیر السن بچوں کو بعض اوقات اس قسم کی جرأتیں حاصل ہوتی ہیں اوروہ اسی طریقہ سے جو ہم نے مقدمہئ ثانیہ میں ذکر کیا ادراک کر سکتے ہیں ، اسی سبب سے اکثر احادیث حلیہ شریفہ ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مشتہر ہوئیں نہ کہ اکابر صحابہ سے ۔
ترجمہ ابن ابی ہالہ میں علامہ خفاجی فرماتے ہیں :
وکان ربیب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اخالفا طمۃ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) وخال الحسنین رضی اللہ تعالٰی عنہم فکان لصغرۃ یتشبع من النظر لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ویدیم النظر لو جھہ الکریم لکونہ عندہ داخل بیتہ فلذا اشتھر وصف النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عنہ دون غیرہ من کبارالصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم فانھم لکبرھم کانوا یھابون اطالۃ النظر الیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاحاط بہ نظرہ احاطۃ الھالۃ بالبدر والاکمام بالثمر ھنیئا لہ مع ان ماقالہ قطرۃ من بحر۱۔
ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زیر سایہ پرورش پانے والے تھے ۔آپ سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اللہ تعالٰی عنہاکے بھائی ( اخیافی ) اورحسنین کریمین رضی اللہ تعالی تعالی عنہما کے ماموں تھے ۔ آپ صغر سنی میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سیر ہو کر دیکھتے اور چہرہ اقدس پر ہمیشہ نگاہ ٹکائے رکھتے کیونکہ آپ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر میں رہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ حلیہ رسول اللہ تعالی علیہ وسلم کا وصف ہند بن ابی ہالہ سے مشتہر ہوا نہ کہ اکابر صحابہ سے ، رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔ کیونکہ صحابہ کبار شان وعظمت رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ہیبت کے با عث آپ پر نظریں نہیں ٹکاسکتے تھے ۔ ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نظر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یوں احاطہ کرتی تھی جیسا کہ ہالہ چودھویں کے چاند کا اور کلیاں کھجوروں کا احاطہ کرتی ہیں ۔ آپ کو یہ سعادت مبارک ہو ۔ مگر اس کے با وجود جو کچھ ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمایا وہ ایسے ہی ہے جیسے سمند ر سے ایک قطرہ ۔ (ت)
(۱نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۱ /۳۲۷)