(چنانچہ میں کہتاہوں اورتوفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔ت)
حادیث صحیحہ سے ثۤبت کہ صحابہ کرام رجوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین حضور رسالت میں نہایت ادب ووقار سے سرجھکائے ، آنکھیں نیچی کئے بیٹھے ، رعب جلال سلطانی ان کے قلوب صافیہ پر ایسا مستولی ہوتاکہ اوپر نگاہ اٹھانا ممکن نہ تھا۔
خ عن مستور بن مخرمۃ ومروان ابن الحکم فی حدیث طویل فی قصۃ الحدیبیۃ ثم ان عروۃ جعل یرمق اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعینیہ قال فواللہ ما تنخم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نخامۃ الاوقعت فی کف رجل منہم فدلک بہا وجہہ وجلدہ واذا امرھم ابتدروا اامرہ واذا توضأ کادو ایقتتلون علی وجوئہٖ واذاتکلم خفضوا اصواتھم عندہ وما یحدون النظر الیہ تعظیما لہ فرجع عمروۃ الی اصحاب فقال ای قوم واللہ لقد وفدت علی الملولک قیصر و کسرٰی والنجاشی واللہ ان مارأیت ملکا قط یعظمہ اصحابہ مایعطم اصحاب محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۱۔
مسور بن مخرمہ اورمروان بن الحکم حدیبیہ کے طویل قصے میں ذکر کرتے ہیں کہ عروہ اصحاب نبی کو گھور رہا تھا ، اس نے کہا کہ بخدا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جب بھی ناک سُنکی تو کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ میں پڑی اور اس نے اپنے چہرے پر مَلی اوراپنے جسم پر لگائی، جب آپ نے حکم دیا تو انہوں نے ماننے میں جلدی کی ، جب آپ وضو فرماتے تو وہ وضو کا پانی لینے پر لڑنے کے قریب ہوجاتے ، اورجب گفتگوفرماتے تو صحابہ اپنی آوازیں پست کرلیتے اورآپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نگاہ نہ کر پاتے تھے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کی طر ف لوٹ آیا اور کاہ میں قیصروکسرٰی ونجاشی کے درباروں میں آیا مگر ایسا کوئی بادشاہ نہ دیکھا جس کی تعظیم اس کے ساتھی ایسے کرتے ہوں جیسی محمد کی ان کے صحابی کرتے ہیں۔
(۱صحیح البخاری باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۹)
(الخصائص الکبرٰی باب ماوقع عام الحدیبیۃ من الآیات مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۲۴۰ و ۲۴۱)
اسی وجہ سے حلیہ شریف میں اکثر اکابر صحابہ سے حدیثیں وارد ہیں کہ وہ نگاہ بھر کر نہ دیکھ سکتے بلکہ نظر اوپر نہ اٹھاتے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔ت)بلکہ اس معنٰی میں کسی حدیث کے ورود کی بھی حاجت کیاتھی، عقل سلیم خود گواہی دیتی ہے کہ ادنٰی ادنٰی نوابوں اور والیوں کے حاضرین دربار ان کے ساتھ کس ادب سے پیش آتے ہیں ، اگرکھڑے ہیں تو نگاہ قدموں سے تجاوز نہیں کرتی ، بیٹھے ہیں تو زانو سے آگے قدم نہیں رکھتے ، خود اس حاکم سے نگاہ چار نہیں کرتے ، پس وپیش یادائیں بائیں دیکھنا تو بڑی بات ہے حالانکہ اس ادب کو صحابہ کرام کے ادب سے کیا نسبت ، ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے زیادہ گراں تھا اور دربار اقدس کی حاضری ان کے نزدیک ملک السمٰوٰت والارض کا سامنااورکیوں نہ ہوتا کہ خود قرآن عزیز نے انہیں صدہا جگہ کان کھول کھول کر سنا دیا کہ ہمارا اورہمارے محبوب کا معاملہ واحدہے ،اس کا مطیع ہمارا فرمانبردار اوراس کا عاصی ہمارا گنہگار ، ان سے الفت ہمارے ساتھ محبت اوران سے رنجش ہم سے عداوت ، ان کی تکریم ہماری تعظیم اوران کے ساتھ گستاخی ہماری بے ادبی ، لہذا جب ملازمت والا حاصل ہوئی قلب ان کے خوف خدا سے ممتلی اورگردنیں خم اورآنکھیں نیچی اور آوازیں پست اوراعضاء ساکن ہوجاتے ۔ ایسی حالت میں نظراین وآں کی طرف کب ہوسکتی ہے جو سیاہ کے عدم یا وجود کی طرف خیال جائے اوربالضرور ایسے سراپا ادب ، ہمہ تن تعظیم لوگوں کی نگاہ اپنے عرش پائے گا ہ کی طرف بے غرض مہم نہ ہوگی ، اس حالت میں نفس کو اس مقصود کی طرف توجہ ہوگی، مثلاً نظارہ جمال باکمال یا حضور کا مطالعہ افعال واعمال ، تاکہ خود ان کا اتباع کریں اور غائبین تک روایت پہنچائیں کہ وہ حاملان شریعت تھے اور راویان ملت اورحاضری دربار اقدس سے ان کی غرض اعطم یہی تھی ، جب نگاہ اس رعب وہیبت اوراس ضرورت وحاجت کے ساتھ اٹھے تو عقل گواہ ہے کہ ایسی حالت میں ادھرادھردھیان نہیں جائے گا کہ قامت اقدس کاسایہ ہمیں نظر نہ آیا ، آخر نہ سنا کہ ایک ان کا نماز میں مصروف ہوتا، تکبیر کے ساتھ دونوں جہان سے ہاتھ اٹھاتا، کوئی چیز سامنے گزرے اطلاع نہ ہوتی ، اورکیس اہی شوروغوغاہوا، انہیں مطلق خبر نہ ہوئی ، یہی حالت صحابہ کی حضور رسالت میں تھی اور دربار نبوت میں بارگاہ عزت باری ۔
اے عزیز ! زیادہ خوض بیکار ہے ، تو اپنے ہی نفس کی طرف رجوع کر ، اگر کسی مقام پر عالم رعب وہیبت میں تیرا گزرہوا ہو ، وہاں جو کچھ پیش نظر آتا ہے اسے بھی اچے طور پر ادراک کا مل نہیں کرسکتا ، نہ امر معدوم کی طرف خیال کیاجائے کہ مثلاً اگر تجھے کسی والی ملک سے ایسی ضرورت پیش آئے جس کی فکر تجھے دنیا ومافیہا پر مقد ہوا اوراس کے دربارتک رسائی کر کے اپنا عرض حال کرے تو تجھے اول تو رعب سلطانی ، دوسرے اپنی اس ضرورت کی طرف قلب کو نگرانی ہر چیز کی طرف توجہ سے مانع ہوں گے ۔ پھر اگر تو واپس آئے اورتجھ سے سوال ہو وہاں دیواروں میں سنگ موسٰی تھا یا سنگ مرمر اورتخت کے پائے سِیمیں تھے یا زریں اورمسند کارنگ سبز تھا یا سرخ؟ہرگز ایک بات کا جواب نہ دے سکے گا بلکہ خود اسی بات کو پوچھا جائے کہ بادشا ہ کا سایہ تھا یا نہ تھا، تو اگرچہ اس قیاس پر کہ سب آدمیوں کے لئے ظل ہے ، ہاں کہہ دے مگر اپنے معائنے سے جواب نہ دے سکے گا۔
صحابہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تو اول روز ملامت سے تاآخر حیات جو کیفیت رعب وہیبت کی طاری رہی ، ہماری عقول ناقصہ اس کی مقدار کے ادراک سے بھی عاجز ہیں، پھر ان کی نظر اوپر اٹھ سکتی اورچپ وراست دیکھ سکتی کہ سائے کے عدم یا جود پر اطلاع ہوتی ۔
(پھر میں کہتاہوں ۔ت)اپنے نفس پر قیاس کر کے گمان نہ کرنا چاہیے کہ بعد مرورزمان وتکررحضور کے ،ان کی اس حالت میں کمی ہوجاتی بلکہ بالیقین روز بہ روز زیادہ ہوتی کہ باعث اس پر دو امر ہیں: ایک خوف کہ اس عظمت کے تصور سے پیدا ہوا جو اس سلطانِ دوعالم کو بارگاہِ ملک السمٰوٰت والارض جل جلالہ میں حاصل ہے ۔ دوسری محبتِ ایمانی کہ مستلزم خشوع کو اورمنافیِ جرأت وبیباکی ، اوریہ ظاہر کہ جس قدر درباروالا میں حضوری زائد ہوتی۔
یہ دونوں امر جو اس پر باعث ہیں بڑھتے جاتے ، حضو رکے اخلاق وعادات اوررحمت والطاف معائنے میں آتے ، حسن واحسان کے جلوے ہر دم لطف تازہ دکھاتے ، قرآن آنکھوں کے سامنے نازل ہوتا اور طرح طرح سے اس بارگاہ کے آداب سکھاتا اورظاہر فرماتا کہ :
آدابِ بارگاہ : ہمارا ان کا معاملہ واحد ہے ، جو ان کا گلام ہے ہمارا قائد ہے ، انکے حضورآواز بلند کرنے سے عمل حبط ہوجاتے ہیں ، انہیں نام لے کر پکارنے والے سخت سزائیں پاتے ہیں، اپنے جان ودل کا انہیں مالک جانو، ان کے حضو رزندہ بدست مردہ ہوجاؤ ، ہمارا ذکر انکی یاد کے ساتھ ہے ، ان کا ہاتھ بعینہٖ ہمارا ہاتھ ہے ، ان کی رحمت ہماری مہر، ان کا غضب ہمار اقہر ،جس قدر ملازمت زیادہ ہوتی حضور کی عظمت ومحبت ترقی پاتی اور وہ حال مذکور یعنی خشوع وخضوع ورعب ہیبت روزافزوں کرتی
(اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ آیات ان کے ایمان کو زیادہ کرتی ہیں ۔ ت)
اور ایمان حضور کی تعظیم ومحبت کا نام ہے ،