Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
20 - 212
گروہِ معتزلہ کہ ملائکہ کرام کو حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے افضل مانتے ہیں وہ بھی حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم وعلٰی آلہٖ اجمعین کو بالیقن مخصوص ومستثنیٰ جانتے ہیں ۔ انکے نزدیک بھی حضور پرنور انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین وخلق اللہ اجمعین سب سے افضل واعلٰی وبلند وبالا علیہ صلٰوۃ المولٰی تعالٰی۔کلماتِ علمائے کرام میں اس کی تصریح اورفقیر کے رسالہ ''اجلال جبریل بجعلہ خادما للمحبوب الجمیل ''میں تحقیق وتوضیح ۔
اما الزمخشری فقد سفہ نفسہ وتبع ھواہ وجھل مذھبہ وتناھی فی الضلال حتی لم یعلم مشربہ کما نبہ علیہ اھل التحقیق، واللہ سبحانہ ولی التوفیق۔
رہا زمخشری ، تو وہ دل کا احمق ، اپنی نفسانی خواہش کا پیروکار ، اپنے مذہب سے جاہل اورگمراہی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے ، یہاں تک کہ اس کے مشرب کا پتا نہیں جیسا کہ اہل تحقیق نے اس پر تنبیہ فرمائی ہے ۔ اوراللہ سبحٰنہ وتعالٰی توفیق کا مالک ہے ۔ (ت)
فقیر کو جہاں ایسے صریح مسئلے پر طلب دلیل نے تعجب دیا وہاں اس کے ساتھ ہی طرز سوال کو دیکھ کر یہ شکر بھی کیا کہ الحمدللہ عقیدہ صحیح ہے ، صرف اطمینان خاطر کو خواہش توضیح ہے ، مگر اس لفظ نے بیشک حیرت بڑھائی کہ قرآن وحدیث میں دلیل نہ پائی ۔ سبحان اللہ مسئلہ ظاہر ، دلیلیں وافر، آیتیں متکاثر ، حدیثیں متواتر ۔ پھرسائل ذی علم ہوتو تو اطلاع نہ ملنے کی کیا صورت۔ اور جاہل بے علم ہوتو اپنے نہ پانے کی بیجا شکایت ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے مسئلہ تفضیل حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما میں دلائل جلائل قرآن وحدیث سے جو اکثر بحمداللہ استخراجِ فقیر ہیں نوے ۹۰جز کے قریب ایک کتاب مسمّٰی بہ ''منتھی التفصیل لمبحث التفضیل ''لکھی جس کے طول کو ممِلِّ خواطر سمجھ کر ''مطلع القمر ین فی ابانۃ سبقۃ العمرین (۱۲۹۷ھ) میں اس کی تلخیص کی، پھرکہاں وہ بحث متناہی المقدار اورکہاں یہ بحر ناپیداکنار،
اللہ اللہ العظمۃ للہ ''
ولوان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحریمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر مانفدت کلمٰت اللہ۱؂۔
اوراگرزمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں بن جائیں اورسمندر اس کی سیاہی ہو ، اس کے پیچھے سات سمندر اور، تواللہ کی باتیں ختم نہ ہوں (ت)
(۱؂ القرآن الکریم    ۳۱ /۲۷)
بلامبالغہ اگرتوفیق مساعد ہو اس عقیدے کی تحقیق مجلدات سے زائد ہو،مگر بقدرحاجت ووقت فرصت ، قلب مؤمن کی تسکین وتثبیت اورمنکر بدباطن کی تحزین وتبکیت کو صر ف دس آیتوں اورسوحدیثوں پر اقتصار مطلب اوراس معجز عجالہ مسمّی بہ
''قلائد نحورالحورمن فرائد بحورالنور''
کو بلحاظ تاریخ
''تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین''
سے ملقب کرتاہے ۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب ، وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ وسراج افقہ واٰلہ وصحبہٖ ومتبعیہ وحزبہ انہ سمیع قریب مجیب۔
اللہ تعالٰی کے بغیر میرے لیے کسی کی توفیق نہیں ، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اوراسی کی طرف رجوع لاتاہوں ۔ اللہ تعالٰی درود نازل فرمائے اس پر جو اس کی تمام مخلوق سے بہتر اور اس کے افق کا سراج ہے ، اورآپ کی آل پر اورآپ کے اصحا ب پر اوراس کے تمام پیروکاروں پر اوراس کی جماعت پر ، بے شک وہ سننے والا ، قریب ، دعاؤں کو قبو ل کرنے والا ہے ۔(ت)
یہ قلائد فرائد دوہیکل پر مشتمل :

ہیکل اول :  میں آیات جلیلہ۔

ہیکل دوم : میں احادیث جمیلہ ۔     یہ ہیکل نور افگن چار تابشوں سے روشن : 

تابش اول :  چند وحی ربانی علاوہ آیات کریمہ قرآنی۔

تابش دوم  : ارشادات عالیہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین۔

اگربعض کلمات انبیاء وملائکہ دیکھئے متبوع کی رکاب میں تابع سمجھئے ۔

تابش سوم  : محض وخالص طر ق وروایات حدیث خصائص ۔

تابش چہارم :  صحابہ کرام کے آثار رائقہ، اقوال علمائے کتب سابقہ، بشرائے ہواتف رؤیائے صادقہ ۔
واللہ سبحانہ ھو المعین والحمدللہ رب العالمین
(اوراللہ سبحٰنہ وتعالٰی ہی مددگار ہے اورتمام خوبیاں اللہ کو جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔ت) ان کے سوا اقوال علماء پر توجہ نہ کی کہ غرضِ اختصار کے منافی تھی ۔ جسے ان کے بعض پر اطلاع پسند آئے ۔
فقیر کے رسائل
''سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الورٰی ''و ''قمر التمام لنفی الظل عن سید الانام ''و''اجلال جبریل بجعلہ خادماً للمحبوب الجمیل''
کی طرف رجوع لائے ۔
واللہ الھادی وولی الایّادی
 (اوراللہ تعالٰی ہی ہدایت دینے والا اورنعمتوں کا مالک ہے ۔ ت)
Flag Counter