ابو عبدالرحمن بقی بن مخلد قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے ، جو اکابر اعیان مائۃ ثالثہ سے ہیں حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے حکایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جیسا روشنی میں دیکھتے تھے ویسا ہی تاریکی میں ۔ اس حدیث کو بیہقی نے موصولاً مسنداً روایت کیا اورعلامہ خفاجی نے اکابر علماء مثل ابن بشکوال وعقیلی وابن جوزی وسہیلی سے اس کی تضعیف نقل کی، یہاں تک کہ ذہبی نے تو میرزان الاعتدال میں موضوع ہی کہہ دیا۔ بہ ایں ہمہ خود علامہ خفاجی فرماتے ہیں جیسا بقی بن مخلہ وغیرہ ثقات نے اسے ذکر کیا اورحضور والا کی شان سے بعید نہیں تو اس کا انکار کس وجہ سے کیا جائے ۔
وھذا نصہ ملتقطا وحکی بقی ابن مخلد ابوعبدالرحمن مولدہ فی رمضان سنۃ احدٰی ومائتین وتوفی سنۃ ست وسبعین مائتین عن عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا انھا قالت کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یری فی الظلمۃ کما یرٰی فی الضوع وفی روایۃ کما یرٰی فی النور ولا شک انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان کامل الخلقۃ قوی الحواس فوقوع مثل ھذا منہ غیر بعید وقد رواہ الثقات کابن مخلد ھذا فلاوجہ لانکارہ۱۔
اس کی عبارت بالاختصار یہ ہے : بقی بن مخلد ابوعبدالرحمن قرطبی جن کی ولادت رمضان المبارک ۲۰۱ ھ اور وصال ۲۷۶ھ میں ہے ، نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تاریکی میں دیکھا کرتے تھے ۔ او رایک روایت میں جس طرح کہ روشنی مین دیکھتے تھے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، کامل الخلقۃ ، قوی الحواس تھے توآپ سے اس کیفیت کا وقوع بعید نہیں ، پھر اس کو ابن مخلد جیسے ثقات نے روایت کیا ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
(۱نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل اما وفورعقلہ الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۳۷۲و۳۷۳)
خامساً بسم اللہ الرحمن الرحیم ،
اس سب سے زیادہ یہ ہے کہ باوجود حدیث کے شدید الضعف وغیرمتمسک ہونے کے احیاء والدین ، وسعت قدرت وعظمت شان رسالت پناہی پر نظر کر کے گردن تسلیم جھکائی اورسوا سلمنا وصدقنا کچھ بن نہ آئی۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی ہوا ، حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب عقبہ جحون پر گزر ہوا حجور اشکبار ورنجیدہ ومغموم ہوئے ، پھرتشریف لے گئے ، جب لوٹ کر آئے چہر بشاش تھ اورلب تبسم ریز ، میں نے سبب پوچھا ، فرمایا ، میں اپنی ماں کی قبر پر گیا اورخدا سے عرض کیا کہ انہیں زندہ کردے ، وہ قبول ہوئی ، اوروہ زندہ ہوکر ایمان لائیں اورپھر قبر میں آرام کیا۔
اخرج الخطیب عن عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا قالت حج بنارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فمربی علی عقبۃ الجحون وھو باک حزین مغتم ثم ذھب وعاد وھو فرح متبسم فسألتہ فقال ذھبت الی قبرامی فسألت اللہ ان یحییہا فاٰمت بی وردّھا اللہ ۱۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمارے ہمراہ حج کیا، جب عقبہ جحون پر پہنچے تو رو رہے تھے اورغمگین تھے ، پھرآپ کہیں تشریف لے گئے ، جب واپس آئے تو مسرور تھے اورتبسم فرما رہے تھے ۔ فرماتی ہیں میں نے سبب دریافت کیا توآپ نے فرمایا : میں اپنی ماں کی قبر پرگیا تھا، میں نے اپنے اللہ سے سوال کیا، اس نے ان کوزندہ کیا، وہ ایمان لائیں اورپھر انتقال فرماگئیں۔
(۱الخصائص الکبرٰی بحوالہ الخطیب باب ماوقع فی حجۃ الوداع الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۴۰)
امام جلال الدین سیوطی خصائص میں فرماتے ہیں : اس کی سند میں مجاہیل ہیں، اورسہیلی نے ام المومنین سے احیائے والدین ذکر کر کے کہا : اس کے اسناد میں مجہولین ہیں اورحدیث سخت منکر اورصحیح کے معارض ۔
ففی مجمع بحار الانوار روح احیاء ابوی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حتی امنا بہ ، قال فی اسنادہ مجاھیل وانہ ح منکر جدا یعارضہ ماثبت فی الصحیح ۲۔
مجمع بحار الانوار میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین کو زندہ فرمایا وہ آپ پر ایمان لائے ۔ اس کے اسناد میں مجاہیل ہیں اوریہ حدیث سخت منکر اورصحیح کے معارض ہے ۔
بایں ہمہ اسی مجمع بحارالانوار میں لکھتے ہیں :
حاصل یہ مقاصد میں ہے اورکیا خوب کہا، خدا نے نبی کو فضل پر فضل زیادہ عطافرمائے اوران پر نہایت مہربان تھا ، پس ان کے والدین کو ان پرایمان لانے کے لئے زندہ کیا او راپنے فضل لطیف سے ، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ قدیم تو اس پر قدرت رکھتا ہے اگرچہ جو حدیث اس معنٰی میں وارد ہوئی ، ضعیف ہے ۔
(۳مجمع بحار الانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ الخ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۵ /۲۳۶)
اے عزیز ! سنا تو نے ، یہ ہے طریقہ اراکین دین متین واساطین شرح متین ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ومحبت میں ، نہ یہ کہ جو معجزہ وخاصہ حضور کا احادیث صحیحہ سے ثابت اور اکابر علماء برابراپنی تصانیف معتبرہ مستندہ میں ، جن کا اعتبار واستناد آفتاب نیمروز سے روش تر ہے ، بلانکیر ومنکر اس کی تصریح کرتے آئے ہوں اور اس کے ساتھ عقل سلیم نے ان پر وہ دلائل ساطعہ قائم کئے ہوں جن پرکوئی حرف نہ رکھ سکے،بایں ہمہ اس سے انکار کیجئے اور حق ثابت کے ردپر اصرار ، حالانکہ نہ ان حدیثوں میں کوئی سقم مقبول وجرح معقول مے دارو، نہ ان ائمہ کے مستند بادلائل معتمدہونے میں کلام کرسکو، پھر اس مکابارہ کج بحثی اورتحکم وزبردستی کا کیا علاج، زبان ہر ایک کی اس کے اختیار میں ہے چاہے دن کو رات کہہ دے یا شمس کو ظلمات ۔
آخر تم جو انکار کرتے ہو تو تمہارے پا س بھی کوئی دلیل ہے یا فقط اپنے منہ سے کہہ دینا ، اگربفرض محال جو حدیثیں اس باب میں وارد ہوئیں نامعتبرہوں اور جن جن علماء نے اس کی تصریح فرمائی انہیں بھی قابل اعتماد نہ مانو اورجو دلائل قاطعہ اس پر قائم ہوئے وہ بھی صالح التفات نہ کہے جائیں ، تاہم انکار کا کیا ثبوت اوروجود سایہ کا کس بناء پر ، اگر کوئی حدیث ا س بارے میں آئی ہو تو دکھاؤ یا گھر بیٹھے تمہیں الہام ہوا ہو تو بتاؤ ، مجرد ماومن پر قیاس تو ایمان کے خلاف ہے ع
چہ نسبت خاک را عالم پاک
(مٹی کو عالم پاک سے کیا نسبت ۔ت)
وہ بشر ہیں مگر عالم علوی سے لاکھ درجہ اشرف واحسن ، وہ انسان ہیں مگر ارواح وملائکہ سے ہزار درجہ الطف ، وہ خود فرماتے ہیں :
لست کمثلکم ''
میں تم جیسا نہیں
''رواہ الشیخان ۱
(اسے امام بخاری اورامام مسلم نے روایت کیا۔ت)
(۱صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۳)
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۱و۳۵۲)
ویروٰی لست کھیئتکم۲۔''
میں تمہاری ہیئت پر نہیں ۔''
(۲صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۳و۲۶۴)
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۱و۳۵۲)
ویروٰی ایک مثلی۳''
تم میں کون مجھ جیسا ہے ۔''
(۳صحیح البخاری کتاب الصوم باب الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۳)
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب النہی عن الوصال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۱)
آخر علامہ خفاجی کو فرماتے سنا: آپ کا بشر ہونا اورنور ودرخشندہ ہونا منافی نہیں کہ اگرمجھے تو وہ نورعلی نورہیں، پھر اس خیال فاسد پ رکہ ہم سب کا سایہ ہوتاہے ان کا بھی ہوگا توثبوت سایہ کا قائل ہونا عقل وایمان سے کس درجہ دورپڑتاہے ؎
محمد بشر لاکالبشر بل ھو یاقوب بین الحجر۱
(محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسے بشر ہیں جن جیسا کوئی بشر نہیں ، بلکہ وہ پتھروں کے درمیان یاقوت ہیں۔ت)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین۔
(۱ افضل الصلاۃ علی سید السادات فضائل درود مکتبہ نبویہ لاہور ۱۵۰)