اے عزز !سلف صالح کی روش اخیتار کر اوران کے قدم پر قدم رکھ، ائمہ دین کا وطیرہ ایسے معاملات میں دائماً تسلیم وقبول رہا ہے ، جب کسی ثقہ معتمد علیہ نے کوئی معجزہ یا خاصہ ذکر کردیا اسے مرحبا کہہ لیا اور حبیب جان میں بہ طیب خاطر جگہ دی ، یہاں تک کہ اگر اپنے آپ احادیث میں اس کی اصل نہ پائی ، قصور اپنی نظر کا جانا، یہ نہ کہا کہ غلط ہے ، باطل ہے ، کسی حدیث میں وارد نہیں ، نہ یہی ہوا کہ جب حدیث سے ثبوت نہ ملا تھا اس کے ذکر سے باز رہتے بلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس کے ذکر سے باز رہتے بلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس ثقہ کے اعتماد پر اسے لکھتے آئے ، اورکیوں نہ ہو، مقتضٰی عقل سلیم کا یہی ہے کہ :
فائدہ جلیلہ :
جب ہم اسے ثقہ معتمد عیہ مان چکے اور وقوع ایسے معجزے کا یا اختصاص ایسے خاصہ کا ذات پاک سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بعید نہیں کہ اس سے عجیب تر معجزات بہ تواتر حضور حضور سے ثابت ، اوران کا رب اس سے زیادہ پر قادر ، اوران کے لئے اس سے بہتر خصائص بالقطع مہیا اوران کی شان اس سے بھی ارفع واعلٰی ، پھر انکار کی وجہ کیا ہے ، تکذیب میں تو اس راوی سے ثقہ معتمد علیہ ہونا ثابت ہوچکا اور وثوق واعتماد اس کا بتاتا ہے کہ اگر من عند نفسہٖ کہہ دیتاخداوررسول پر مفتری ہوتا،
ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۱۔
اوراس سے بڑھ کر ظالم کو ن جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۱۱ /۱۸)
ان وجوہ پر نظر کرکے سمجھ لیجئے کہ بالضرور اس نے حدیث پائی ، گوہماری نظر میں نہ آئی ۔ہر چند کہ فقیر کا یہ دعوٰی اس شخص کے نزدیک بالکل بدیہی ہے جو خدمت حدیث وسِیَرمیں رہا اور اس راہ میں روشِ علماء کو مشاہدہ کیا مگر ناواقفوں کے افہام اورمنکروں پرالزام کے لئے چند مثالیں بیان کرتاہوں:
اولاً:
جسم اقدس ولباس انفس پر مکھی نہ بیٹھنا ۔ علامہ ابن سبع نے خصائص میں ذکر فرمایا علماء نے تصریح کی اس کا راوی معلوم نہ ہوا ، اورباوجود اس کے بلا نکیر اپنی کتابوں میں اسے ذکر فرماتے آئے ۔
شفاءِ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ میں ہے :
وان الذباب کان لایقع علی جسدہٖ ولاثیابہ۱۔
مکھی آپ کے جسم اقدس اورلباس اطہر پر نہ بیٹھی تھی۔
(۱ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذالک ماظہر من الآیات عند مولدہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۲۵)
امام جلال الدین سیوطی خصائص کبرٰی میں فرماتے ہیں :
باب ذکر القاضی عیاض فی الشفاء والعراقی فی مولدہٖ ان من خصائصہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان لاینزل علیہ الزباب ، وذکرہ ابن سبع فی الخصائص بلفظ انہ لم یقع علی ثیابہ ذباب قط و زاد ان من خصائصہ ان القمل لم تکن یؤذیہ۲۔
قاضی عیاض نے شفاء میں اورعراقی نے اپنی مولد میں ذکر کیا کہ حضور کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ مکھی آپ پر نہ بیٹھتی تھی ۔ ابن سبع میں ان لفظوں سے ذکر کیا کہ مکھی آپ کے کپڑوں پر کبھی نہ بیٹھی ۔ اوریہ بھی زیادہ کیا کہ جوئیں آپ کو نہیں ستاتی تھیں۔
(۲الخصائص الکبرٰی باب ذکر القاضی عیاض فی الشفاء والعراقی فی مولدہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۶۸)
شیخ ملا علی قاری شرح شمائل ترمذی میں فرماتے ہیں :
ونقل الفخر الرازی ان الذباب کان لایقع علی ثیابہ وان البعوض لایمتص دمہ۔۳
رازی نے نقل کیا کہ مکھیاں آ پ کے کپڑوں پر نہیں بیٹھتی تھیں اورمچھر آپ کاخون نہیں چوستے تھے ۔
(۳شمائل ترمذی)
علامہ خفاجی نے ''نسیم الریاض ''میں علماء کا وہ قول کہ اس کا راوی نہ معلوم ہوا ، نقل کیا ، اوراس خاصہ کی نسبت لکھا کہ ایک کرامت ہے کہ حق سبحانہ وتعالٰی نے اپنے حبیب کو عطا کی اوراپنے نتائج افکار سے ایک رباعی لکھی کہ اس اس میں بھی اس خاصہ کی تصریح ہے اوربعض علماء عجم نے اسی بناء پر کلمہ محمد رسول اللہ کے سب حروف بے نقطہ ہوتے ہیں ، ایک لطیفہ لکھا کہ آپ کے جسم پر مکھی نہ بیٹھتی تھی، لہذا یہ کلمہ پاک کلی نقطوں سے محفوظ رہا کہ وہ شبیہ مکھیوں کے ہیں ۔
پھر اسی مضمون پردوسری عبارت :
عبارتہ برمتہ : ومن دلائل نبوتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان الذباب کان لایقع علی ثیابہ ھذا مما قالہ ابن سبع الا انھم قالوا لایعلم من روی ھذہٖ والذباب واحدہ ذبابۃ قیل انہ سمی بہ لانہ کلما اذب آب ای کلما طرد رجع وھذا مما اکرمہ اللہ بہ لانہ طھرہ اللہ من جمیع الاقذار وھو مع استقذارہ قدی یجیئ من مستقذر قیل وقد نقل مثلھا عن ولی اللہ العارف بہ الشیخ عبدالقادر الکیلانی ولابعد فیہ لان معجزات الانبیاء قد تکون کرامۃ لاولیاء امتہ وفی رباعیۃ لی ؎
من اکرم مرسل عظیم حلا
لم تدن ذبابۃ اذ ماحلا
ھذ اعجب ولم یذق ذونظر
فی الموجودات من حلاہ احلا
وتظرف بعض علماء العجم فقال محمدرسول اللہ لیس فیہ حرف منقوط لان الموجود ان النقط تشبہ الذباب فصین اسمہ ونعمتہ کما قلت فی مدحہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
لقد ذب الذباب فلیس یعلو
رسول اللہ محمودا محمد
ونقط الحرف یحکیہ بشکل
لذاک الخط عنہ قد تجرد۱۔
ان کی مکمل عبارت یہ ہے : آپ کے دلائل نبوت سے یہ بھی ہے کہ مکھی آپ کے نہ تو ظاہری جسم پر بیٹھتی تھی اورنہ لبا س پر، یہ ابن سبع نے کہا ۔ محدثین نے کہا کہ اس کا راوی معلوم نہیں ۔ذباب کا واحد ذبابۃ ہے ۔ کہتے ہیں اس کا یہ نام اس لئے ہے کہ اس کو جب بھی بھگا یا جاتاہے واپس آجاتی ہے ۔ یہ کرامت آپکو اس لئے عطاہوئی کہ اللہ نے آپ کو پاک رکھا تھا۔شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں یہی کہا جاتاہے اوراس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ جو چیز نبی کا معجزہ ہوتی ہے وہ بطور کرامت ولی کے ہاتھ سے سرز ہوجاتی ہے اور میں (خفاجی )نے ایک رباعی کہی ہے :
''آپ بزرگ ترین ، عظیم ، مٹھاس والے رسول ہیں ، یہ عجیب بات ہے کہ آپ کی مٹھاس کے باوجود مکھی آپ کے قریب نہ جاتی تھی اورکسی بھی صاحب نظر نے موجودات میں آپ کی مٹھاس سے زیادہ مٹھاس نہ چکھی۔''
اوربعض علماء عجم نے کہا کہ محمدرسول اللہ میں کوئی نقطہ نہیں ہے اس لئے کہ نقطہ مکھی کے مشابہ ہوتاہے ، عیب سے بچانے کے لئے اورآپ کی تعریف کے لئے میں نے آپ کی مدح میں کہا ہے :
''بلاشبہ اللہ نے مکھیوں کو آپ سے دور کردیا توآپ پرمکھی نہیں بیٹھتی ہے ، اللہ کے رسول محمود ومحمد ہیں اورحروف کے نقطے جو شکل میں مکھی کی طرح ہیں ان سے بھی اللہ نے اس لئے آپ کو محفوظ رکھا۔''
(۱نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ومن ذٰلک ماظہر من الآیات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۳ /۲۸۲)
ثانیاً :
ابن سبع نے حضور کے خصائص میں کہا جو ں آپ کو ایذا نہ دیتی۔ علامہ سیوطی نے خصائص کبرٰی میں اس طرح ابن سبع سے نقل کیا اوربرقرار رکھا کہ مرّ (جیسا کہ گزرچکا ہے ۔ ت) اورملاعلی قاری شرح شمائل میں فرماتے ہیں :
ومن خواصہ ان ثوبہ لم یقمل۲
آپ کے مبارک کپڑوں میں جوئیں نہیں ہوتی تھیں ۔(ت)
ثالثاً :
ابن سبع نے فرمایا جس جانو رپر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سوار ہوتے عمر بھر ویسا ہی رہتا اور حضور کی برکت سے بوڑھا نہ ہوتا۔
علامہ سیوطی خصائص میں فرماتے ہیں :
باب : قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کال دابۃ رکبہا بقیت علی القدر الزی کانت علیہ ولم تھرم ببرکتہ ۲صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
ابن سبع نے کہا کہ آپ کے خصائص میں سے یہ تھا کہ آپ جس جانور پرسوار ہوتے تو وہ عمر بھر ویسا ہی رہتا اورآپ کی برکت کے باعث بوڑھا نہ ہوتا،صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۲الخصائص الکبرٰی قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۲ /۲۴)