بیشک اس مہرِ سپہرِ اصطفاء ، ماہِ منیرِ اِجتباء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا اوریہ امر احادیث واقوالِ ائمہ کرام سے ثابت، اکابر ائمہ وعلماء فضلاء کہ آج کل کے مدعیانِ خام کا رکو ان کی شاگردی بلکہ انکے کلام کے سمجھنے کی لیاقت نہیں، خلفاً ، سلفاً ، دائماً اپنی تصانیف میں اس معنٰی کی تصریح فرماتے آئے اوراس پر دلائلِ باہرہ وحُجَجِ قاہرہ قائم، جن پرمفتیِ عقل وقاضی نقل نے باہم اتفاق کر کے ان کی تاسیس وتشیید کی ۔آج تک کسی عالم دین اسے اس کا انکار منقول نہ ہوا یہاں تک کہ وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوںنے دین میں ابتداع اورنیا مذہب اختراع اورہوائے نفس کا اتباع کیا اوربہ سبب اس سوء رنجش کے جوانکے دلوں میں اس رؤف ورحیم نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے تھی ، انکے محو فضائل ورد معجزات کی فکر میں پڑے حتی کہ معجزئہ شق القمر جو بخاری ومسلم کی احادیث صحیحہ بلکہ خود قرآن عظیم ووحی حکیم کی شہادت حقہ اور اہل سنت وجماعت کے اجماع سے ثابت ، ان صاحبوں میں سے بعض جری بہادروں نے اسے بھی غلط ٹھہرایا اوراسلام کی پیشانی پر کلف کا دھبہ لگایا۔ فقیر کو حیرت ہے کہ ان بزرگواروں نے اس میں اپنا کیا فائدہ دینی یا دنیاوی سمجھاہے ۔
اے عزیز!ایمان ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت سے مربوط ہے اورآتش جاں سوز جہنم سے نجات انکی الفت پرمنوط (منحصرہے۔ت) جو ان سے محبت نہیں رکھتا، واللہ کہ ایمان کی بو اس کے مشام (ناک) تک نہ آئی،
وہ خود فرماتے ہیں :
لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہٖ والناس اجمعین۱۔
تم میں سے کسی کو ایمان حاصل نہیں ہوتا جب تک میں اس کے ماںباپ اوراولاد ، سب آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔
(۱صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷)
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹)
اورآفتاب نیم روز کی طرح روشن کہ آدمی ہمہ تن اپنے محبوب کے نشرِ فضائل وتکثیرِ مدائح میں مشغول رہتاہے اورجو بات اس کی خوبی اورتعرفی یف کی سنتاہے کیسی خوشی اورطیبِ خاطر سے اظہار کرتاہے ، سچی فضیلتوں کا مٹانا اورشام وسحر نفیِ اوصاف کی فکر میں رہنا کام دشمن کا ہے نہ کہ دوست کا ۔
جانِ برادر!تُو نے کبھی سُنا ہے کہ جس کو تجھ سے اُلفت سادقہ ہے وہ تیری اچھی بات سن کر چیں بہ جبیں ہو اوراس کی محو کی فکر میںرہے اورپھر محبوب بھی کیسا ، جانِ ایمان وکانِ احسان ، جس کے جمالِ جہاں آراء کا نظیر کہیں نہ ملے گااورخامہ قدرت نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گا، کیسا محبوب، جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا ۔ کیسا محبوب، جس نے اپنے تن پر ایک عالم کا بار اٹھالیا ۔ کیسا محبوب ، جس نے تمہارے غممیں دن کاکھانا ، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اورلہو ولعب میں مشغول ہو اوروہ تمہاری بخشش کے لئے شب وروز گریاں وملول ۔
شب ، کہ اللہ جل جلالہ، نے آسائش کے لئے بنائی، اپنے تسکین بخش پر دے چھوڑے ہوئے موقوف ہے ، صبح قریب ہے ، ٹھنڈی نسیموں کا پنکھا ہو رہا ہے ، ہر ایک کاجی اس وقت آرام کی طرف جھکتاہے ، بادشاہ اپنے گرم بستروں ، نرم تکیوں میں مست خواب ناز ہے اورجو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دوگز کی کملی میں دراز، ایسے سہانے وقت ، ٹھنڈے زمانہ میں ، وہ معصوم ، بے گناہ، پاک داماں ، عصمت پناہ اپنی راحت وآسائش کو چھوڑ، خواب وآرام سے منہ موڑ ، جبین نیاز آستانہ عزت پر رکھے ہے کہ الہٰی !میری امت سیاہ کارہے ، درگزرفرما، اورانکے تمام جسموں کو آتش دوزخ سے بچا۔
جب وہ جانِ راحت کان رافت پیداہوابارگاہ الہٰی میں سجدہ کیا اور
فرمایا، جب قبر شریف میں اتارا لبِ جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا آہستہ آہستہ
فرماتے تھے ۔ قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤں، زبانیں پیاس سے ، باہر ، آفتاب سروں پر ، سائے کا پتہ نہیں ، حساب کا دغدغہ ، مَلِکِ قہار کا سامنا ،عالَم اپنی فکر میں گرفتارہوگا ، مجرمانِ بے یار دامِ آفت کے گرفتار، جدھر جائیں گےسو ا
نفسی نفسی اذھبوا الی غیری۳
(۱تا ۳صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱)
اس وقت یہی محبوبِ غمگسار کام آئے گا ، قفل شفاعت اس کے زورِ بازو سے کُھل جائے گا ، عمامہ سراقدس سے اتاریں گے اورسربسجود ہوکر
(۴صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۱)
وائے بے انصافی !ایسے غم خوار پیارے کے نام پر جان نثار کرنا اورمدح وستائش ونشر فضائل سے اپنی آنکھوں کو روشنی اوردل کو ٹھنڈک دینا واجب یا یہ کی حتی الوسع چاند پر خاک ڈالے اوران روشن خوبیوں میں انکار کی شاخیں نکالے۔
مانا کہ ہمیں احسان شناسی سے حصہ نہ ملا ، نہ قلب عشق آشنا ہے کہ حُسن پسند یا احسان دوست، مگر یہ تو وہاں چل سکے جس کا احسان اگرنہ مانئے ، اس کی مخالفت کیجئے تو کوئی مَضرت نہ پہنچے اوریہ محبوب تو ایسا ہے کہ بے اِس کی کفش بوسی کے جہنم سے نجات میسر،نہ دنیا وعقبٰی میں کہیں ٹھکانا متصور ، پھر اگر اس کے حسن واِحسان پر والہ وشیدانہ ہوتو اپنے نفع وضرر کے لحاظ سے عقیدت رکھو۔
اے عزیز!چشمِ خِرد میں سرمہئ انصاف لگا اورگوشِ قبول سے پنبہ انکار نکال ، پھرتمام اہلِ اسلام بلکہ ہر مذہب وملت کے عقلاء سے پُوچھتا پھر عُشاق کا اپنے محبوب کے ساتھ کیا طریقہ ہوتا ہے اورغلاموں کو مولٰی کے ساتھ کیا کرناچاہیے ، آیا نشرِ فضائل وتکثیرِ مدائح اوران کی خوبیِ حسن سن کر باغ باغ ہوجانا، جامے میں پُھولا نہ سمانا یا رَدِمحاسِن ، نفیِ کمالات اوران کے اوصافِ حمیدہ سے بہ انکار وتکذیب پیش آنا ، اگر ایک عاقل منصف بھی تجھ سے کہہ دے کہ نہ وہ دوستی کا مقتضی نہ یہ غلامی کے خلاف ہے تو تجھے اختیار ہے ورنہ خدا ورسول سے شرما اوراس حرکت بے جا سے باز آ، یقین جان لے کہ محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خوبیاں تیرے مٹائے سے نہ مِٹیں گی۔
جانِ برادر! اپنے ایمان پر رحم کر، خدائے قہار وجبار جل جلالہ، سے لڑائی نہ باندھ ، وہ تیرے اورتمام جہان کی پیدائش سے پہلے ازل میں لکھ چکا تھا
یعنی ارشاد ہوتا ہے اے محبوب ہمارے !ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کیا کہ جہاں ہماری یا دہوگی تمہارا بھی چرچاہوگا اور ایمان بے تمہاری یاد کے ہرگز پورا نہ ہوگا،
آسمانوں کے طبقے اورزمینوں کے پردے تمہارے نام نامی سے گونجیں گے ، مؤذن اذانوں اورخطیب خطبوں اورذاکرین اپنی مجالس اور واعظین اپنے منابِر پر ہمارے ذکر کے ساتھ تمہاری یا د کریں گے ۔ اشجار واحجار، آہُو وسوسمارودیگر جاندار واطفال شیرخوار ومعبودان کفار جس طرح ہماری توحید بتائیں گے ویسا ہی بہ زبان فصیح وبیان صحیح تمہارامنشور رسالت پڑھ کر سنائیں گے ، چار اکناف عالم میں لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ کاغلغلہ ہوگا، جز اشقیائے ازل ہر ذرہ کلمہ شہادت پڑھتا ہوگا، مسبحانِ ملاء اعلٰی کو ادھر اپنی تسبیح وتقدیس میں مصروف کروں گا اُدھر تمھارے محمود درودِ مسعود کا حکم دوں گا ۔عرش وکرسی، ہفت اوراق سردہ ، قصور جناں، جہاں پر اللہ لکھوں گا ۔ محمد رسول اللہ بھی تحریر فرماؤں گا ، اپنے پیغمبروں اوراولوالعزم رسولوں کو ارشاد کروں گا کہ ہر وقت تمہار ادم بھریں اورتمہاری یاد سے اپنی آنکھوں کو روشنی اورجگر کو ٹھنڈک اورقلب کو تسکین اوربزم کو تزئین دیں ۔ جو کتاب نازل کروں گا اس میں تمہاری مدح وستائش اورجمال صورت وکمال سیرت ایسی تشریح وتوضیح سے بیان کروں گا کہ سننے والوں کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھک جائیں اورنادیدہ تمہارے عشق کی شمع ان کے کانوں ، سینوں میں بھڑک اٹھے گی ۔ ایک عالم اگر تمہارادشمن ہوکر تمہاری تنقیص شان اورمحو فضال میں مشغول ہوتو میں قادر مطلق ہوں ، میرے ساتھ کسی کا کای بس چلے گا۔ آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں سے ان کا ذکر نکالتے اورچاند پر خاک ڈالتے ہیں تو اہل ایمان اس بلند آواز سے ان کی نعت سناتے ہیں کہ سامع اگر انصاف کرے بے ساختہ پکار اٹھے ۔ لاکھوں بے دینوں نے ان کے محو فضائل پر کمر باندھی ، مگر مٹانے والے خود مٹ گئے اور ان کی خوبی روز بروز مترقی رہی ، پھر اپنے مقصود سے تو یاس ونا امیدی کرلینا مناسب ہے ورنہ برب کعبہ ان کا کچھ نقصان نہیں ، بالآخر ایک دن تو نہیں ، تیرا ایمان نہیں۔