فقیر کہتاہے غفراللہ لہ، استدلال ابن سبع کا حضور کے سراپا نور ہونے سے جس پر بعض علماء نے
حدیث واجعلنی نورا
(مجھے نور بنادے ۔ ت) سے استشہاد اورعلمائے لاحقین نے اسے اپنے کلمات میں بنظر احتجاج یاد کیا۔
ہمارے مدعا پر دلالتِ واضحہ یہ ہے ، دلیل شکل اول بدیہی الانتاج دو مقدموں سے مرکب ، صغرٰی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور ہیں ، اورکبرٰی یہ کہ نور کے لئے سایہ نہیں ، جوان دونوں مقدموں کو تسلیم کرے گا نتیجہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا ، آپ ہی پائے گا: مگر دونوں مقدموں میں کوئی مقدمہ ایسا نہیں جس میں مسلمان ذی عقل کو گنجائش گفتگو ہو، کبرٰی توہرعاقل کے نزدیک بدیہی اورمشاہد ہ بصروشہادت بصیرت سے ثابت، سایہ اس جس کا پڑے گا جو کثیف ہو اور انوار کو اپنے ماوراء سے حاجب ، نور کا سایہ پرے تو تنویر کون کرے۔ اس لئے دیکھو آفتاب کے لئے سایہ نہیں ، اور صغرٰی یعنی حضور والا کا نورہونا مسلمان کا تو ایمان ہے ، حاجت بیان حجت نہیں مگر تبکیت معاندین کے لئے اس قدر اشارہ ضرور کہ حضرت حق سبحانہ، وتعالٰی فرماتاہے :
اے نبی ! ہم نے تمہیں بھیجاگواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ چمکتا۔
(۲القرآن الکریم ۳۳ /۴۵)
یہاں سراج سے مراد چراغ ہے یا ماہ یا مہر ، سب صورتیں ممکن ہیں ، اور خود قرآن عظیم میں آفتاب کو سراج فرمایا :
وجعل القمر فیھن نورا وجعل الشمس سراجا ۳۔
اوربنایا پروردگار نےچاند کو نور آسمانوں میں اوربنایا سورج کو چراغ۔(ت)
(۳القرآن الکریم ۷۱ /۱۶)
اورفرماتاہے :
قدجاء کم من اللہ نور وکتاب مبین ۱۔
بتحقیق آیا تمہارے پاس خدا کی طرف سے ایک نور اورکتاب روشن ۔
(۱القرآن الکریم ۵ /۱۵)
علماء فرماتے ہیں : نور سے مراد محمدمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔
اسی طرح آیہ کریمہ
والنجم اذا ھوٰی۲۔
(اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔ ت)میں امام جعفر صادق اورآیہ کریمہ
وما ادرٰک ما الطارق النجم الثاقب۳۔
(اورکچھ تم نے جانا وہ رات کو آنے والا کیاہے ، چمکتا تارا۔ت) میں بعض مفسرین نجم اور نجم الثاقب سے ذات پاک سید لولاک مراد لیتے ہیں ۴صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۲القرآن الکریم ۵۳ /۱)
(۳القرآن الکریم ۸۶/ ۲و۳)
(۴الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۰)
بخاری ومسلم وغیرہما کی احادیث میں بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک دعا منقول جس کا خلاصہ یہ ہے :
اللھم اجعل فی قلبی نور اوفی بصری نوراً وفی سمعی نوراً وفی عصبی نور اوفی لحمی نورًا وفی دمی نورا وفی شعری نورا وفی بشری نورا وعن یمینی نور ا وعن شمالی نورا وامان می نورا وخلفی نور ا وفوقی نورا وتختی نورا واجعلنی نوراً۵۔
الہٰی!میرے دل اور میری جان اورمیر ی آنکھ اورمیرے کان اورمیرے گوشت وپوست وخون واستخوان اورمیرے زیر وبالا وپس وپیش وچپ وراست اورہرعضو میں نور اورخود مجھے نور کردے ۔
(۵صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۵)
( صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب صلٰوۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۱)
(جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷۸)
جب وہ یہ دعا فرماتے اوران کے سننے والے نے انہیں ضیائے تابندہ ومہر درخشندہ ونور الٰہی کہا پھر اس جناب کے نور ہونے میں مسلمان کو کیا شبہ رہا ، حدیث ابن عباس میں ہے کہ ان کا نور چراغ وخوشید پر غالب آتا ۔ اب خدا جانے غالب آنے سے یہ مراد کہ ان کی روشنیاں اس کے حضور پھیکی پڑ جائیں جیسے چراغ پیش مہتاب یا یکسر ناپدید وکالعدم ہوجاتیں جیسے ستارے حضور آفتاب۔
ابن عباس کی حدیث میں ہے :
واذاتکلم رئی کالنور یخرج من بین ثنایاہ ۱۔
جب کلام فرماتے دانتوں سے نور چھنتا نظر آتا۔
(۱تاریخ دمشق الکبیر باب ماروی فی فصاحۃ لسانہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۸ ،۹)
( الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل وان قلت اکرمک اللہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۶)
( شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۳)
وصاف کی حدیث میں وارد ہے :
یتلأ لؤ وجھہ تلألؤالقمر لیلا البدراقنی العرنین لہ نوریعلوہ یحسبہ من لم یتأملہ اشم انور المتجرد۲۔
یعنی حضور کا چہر ہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ، بلند بینی تھی اوراس پر ایک نور کا بُکّامتجلی رہتاکہ آدمی خیال نہ کرے تو ناک ماس روشن نور کے سبب بہت اونچی معلوم ہو، کپڑوں سے باہر جو بدن تھا یعنی چہر ہ اورہتھیلیاں وغیرہ، نہایت روشن وتابندہ تھا۔
صلی ا للہ تعالٰی علٰی کل عضو من جسمہ الانوار الاعطر وبارک وسلم
(اللہ تعالٰی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم انور معطر کے ہر عضو پر درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے ۔ ت)
(۲شمائل الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امین کمپنی دہلی ص۲)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
کان الشمس تجری فی وجھہ۳۔
گویاآفتاب ان کے چہرے میں رواں تھا۔
(۳الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل ان قلت اکرمک اللہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۶)
اورفرماتے ہیں :
واذاضحک یتلألؤفی الجدر ۴۔
جب حضور ہنستے دیواریں روشن ہوجاتیں۔
(۴الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثانی فصل ان قلت اکرمک اللہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۶)
ربیع بنت معوذ فرماتی ہیں :
لورأیت لقلت الشمس طالعۃ۱۔
اگر تو انہیں دیکھتا ، کہتا آفتاب طلوع کر رہا ہے ۔
(۱المواھب اللدنیۃ عن ربیع بنت معوذ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۳)
ابو قرصافہ کی ماں اور خالہ فرماتی ہیں :
رأینا کان النور یخرج من فیہ۲۔
ہم نے نور سانکلے دیکھا ان کےدہان پاک سے۔
(۲مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب علامات النبوۃ باب صفۃ صلی اللہ علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ۸ /۲۸۰)
احادیث کثیرہ مشہورہ میں وارد، جب حضور پیداہوئے ان کی روشنی سے بصرہ اورروم وشام کے محل روشن ہوگئے ۔
(۴الخصائص الکبرٰی باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم من المعجزات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۷)
آمنہ حضور کی والدہ فرماتی ہیں :
رأیت نور اساطعا من رأسہ قد بلغ السماء ۵۔
میں نے ان کے سر سے ایک نور بلند ہوتا دیکھا کہ آسمان تک پہنچا۔
(۵الخصائص الکبرٰی باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم من المعجزات الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۹)
ابن عساکر نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی : ''میں سیتی تھی ، سوئی گر پڑی ، تلاش کی ، نہ ملی ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف لائے ، حضور کے نور رُخ کی شعاع سے سوئی ظاہر ہوگئی ۶۔''
(۶ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن عساکر باب الآیۃ فی وجہہ الشریف صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات ہند۱/۶۲و۶۳)
علامہ فاسی مطالع المسرات میں ابن سبع سے نقل کرتے ہیں :
کان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یضیئ البیت المظلم من نورہ۱
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے خانہ تاریک روشن ہوجاتا۔
(۱مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۳۹۳)