امام ابن حجرمکی افضل القرٰی میں زیر قول ماتن قدس سرہ، : ؎
لم یساووک فی علاک وقدحا
ل سنا منک دونھم وسناء۲
انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام فضائل میں حضور کے برابر نہ ہوئے حضور کی چمک اوررفعت حضور تک ان کے پہنچنے سے مانع ہوئی ۔
(۲ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶)
فرماتے ہیں:
ھذا مقتبس من تسمیتہ تعالٰی لنبیہ نورا فی نحو
''قدجاء کم من اللہ نور وکتب مبین ''
وکان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یکثر الدعا بان اللہ تعالٰی یجعل کلا من حواسہ واعضائہ وبدنہ نوراً اظہار الوقوع ذٰلک وتفضل اللہ تعالٰی علیہ بہ لیز داد شکرہ وشکر امتہ علی ذٰلک کما امرنا بالدعاء الذی فی اٰخر سورۃ البقرۃ مع وقوعہ وتفضل اللہ تعالٰی بہ لذٰلک ومما یؤیدانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صارنورا انہ کان اذا مشٰی فی الشمس اوالقمر لم یظھر لہ ظل لانہ لایظھر الالکثیف وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قد خلصہ اللہ من سائر الکثائف الجسمانیۃ وصیرہ نورا صرفا لایظھر لہ ظل اصلا ۱۔
یعنی یہ معنٰی اس سے لئے گئے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام نور رکھا مثلاً اس آیت میں کہ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور تشریف لائے اورروشن کتاب ۔ اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بکثرت یہ دعا فرماتے کہ الہٰی !میرے تمام حواس واعضاء سارے بدن کو نور کردے ۔ اوراس دعاسے یہ مقصود نہ تھا کہ نور ہونا ابھی حاصل نہ تھا اس کا حصول مانگتے تھے بلکہ یہ دعا اس امر کے ظاہر فرمانے کے لئے تھی کہ واقع میں حضور کا تمام جسم پاک نور ہے اوریہ فضل اللہ عزوجل نے حضور پر کردیا تاکہ آپ اورآپ کی امت اس پر اللہ تعالٰی کا زیادہ شکر ادا کریں ۔جیسے ہمیں حکم ہوا کہ سورہ بقرشریف کے آخر کی دعا عرض کریں وہ بھی اسی اظہار وقوع وحصول فضل الہٰی کے لئے اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور محض ہوجانے کی تائید اس سے ہے کہ دھوپ یا چاندنی میں حضور کا سایہ نہ پیدا ہوتا اس لئے کہ سایہ تو کثیف کا ہوتاہے اورحضو راللہ تعالٰی نے تمام جسمانی کثافتوں سے خالص کر کے نرانور کردیا لہذا حضور کے لئے سایہ اصلاً نہ تھا۔
(۱افضل القرٰی لقراء ام القرٰی (شرح ام القرٰی) شرح شعر ۲ المجمع الثقانی ابوظبی ۱ /۱۲۸و۱۲۹)
علامہ سلیمان جمل فتوحات احمدیہ شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں :
لم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل یظھر فی شمس ولا قمر۲ ۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ دھوپ میں ظاہر ہوتا نہ چاندنی میں ۔
(۲ الفتوحات الاحمدیۃ علی متن الہمزیۃ سلیمان جم المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۵)
مجمع البحار میں برمزش یعنی زبدہ شرح شفاء شریف میں ہے :
من اسمائہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قیل من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذا مشٰی فی الشمس والقمر لایظھر لہ ظل۴۔
حضور کا ایک نام مبارک ''نور''ہے ، حضور کے خصائص سے شمار کیا گیا کہ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ نہ پیداہوتا۔
(۴مجمع بحار الانوار باب نون تحت لفظ ''النور''مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۴ /۸۲۰)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :
ونبودمرآنحضرت را صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سایہ نہ در آفتاب ونہ در قمر رواہ الحکیم الترمذی عن ذکوان فی نوادر الاصول وعجب است ایں بزرگان کہ کہ ذکر نکر دند چراغ راونور یکے از اسمائے آنحضرت است صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ونور راسایہ نمی باشد انتہٰی۱۔
سرکاردوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ سورج اورچاند کی روشنی میں نہ تھا ۔ بروایت حکیم ترمذی از ذکوان ، اورتعجب یہ ہے ان بزرگوں نے اس ضمن میں چراغ کا ذکر نہیں کیا اور ''نور''حضور کے اسماء مبارکہ میں سے ہے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔ (ت)
(۱مدارج النبوۃ باب اول بیان سایہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۲۱)
جناب شیخ مجدد جلد سوم مکتوبات ، مکتوبات صدم میں فرماتے ہیں :
او را صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سایہ نبود درعالم شہادت سایہ ہرشخص از شخص لطیف تر است وچوں لطیف ترے ازوے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم درعالم نباشد اورا سایہ چہ صورت دارد ۲
آں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، عالم شہادت میں ہر شخص کا سایہ اس سے بہت لطیف ہوتاہے ، اورچونکہ جہان بھر میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کوئی چیز لطیف نہیں ہے لہذا آپ کا سایہ کیونکر ہوسکتاہے!(ت)
(۲مکتوبات امام ربانی مکتوب صدم نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۸۷)
نیز اسی کے آخر مکتوب ۱۲۲میں فرماتے ہیں :
واجب راتعالٰی چراظل بود کہ ظل موہم تولید بہ مثل است ومنبی از شائبہ عدم کمال لطافت اصل ، ہرگاہ محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم را از لطافت ظل نبود خدائے محمدراچگونہ ظل باشد۳۔
اللہ تعالٰی کا سایہ کیونکر ہو، سایہ تو وہم پیدا کرتاہے کہ اس کی کوئی مثل ہے اور یہ کہ اللہ تعالٰی میں کمال لطافت نہیں ہے ، دیکھئے محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا لطافت کی وجہ سے سایہ نہ تھا تو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ کیونکر ممکن ہے۔(ت)
(۳مکتوبات امام ربانی مکتوب ۱۲۲ نولکشورلکھنؤ ۳ /۲۳۷)
مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی سورہ والضحٰی میں لکھتے ہیں :
سایہ ایشاں برزمیں نمی افتاد۱۔
آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑا۔
(۱فتح القدیر (تفسیر عزیزی)پ عم سورۃ الضحٰی مسلم بک ڈپو، لا ل کنواں ، دہلی ص۳۱۲)