Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
193 - 212
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی دفتر پنجم مثنوی شریف میں فرماتے ہیں : ؎
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود

اومحمد داربے سایہ شود۱؂
(جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے ۔ت)
 (۱؂مثنوی معنوی درصفت آں بیخود کہ دربقای حق فانی شدہ است دفترپنجم نورانی کتب خانہ پشاور ص۱۹)
مولانا بحرالعلوم نے شرح میں فرمایا :
درمصرع ثانی اشارہ بمعجزئہ آن سرور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ آن سرور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راسایہ نمی افتاد۲؂۔
دوسرے مصرعے میں سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے معجزے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔(ت)
امام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمہ اللہ تعالٰی مواہب لدنیہ ومنہج محمدیہ میں فرماتے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندی میں ۔ اسے حکیم ترمذی نے ذکوان سے پھر ابن سبع کا حضور کے نور سے استدلال اور
حدیث اجعلنی نوراً
 (مجھے نور بنادے ۔ ت) سے استشہادذکر کیا۔
حیث قال
(امام قسطلانی نے فرمایا۔ت) :
لم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ذکوان ،  وقال ابن سبع کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نوراً فکان اذا مشٰی فی الشمس اوالقمر لایظھر لہ ظل قال غیرہ ویشھد لہ قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا۳؂۔
دھوپ اورچاندنی میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاسایہ نہ ہوتا ۔ اس کو ترمذی نے ذکوان سے روایت کیا۔ ابن سبع نے کہا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور تھے ، جب آپ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ ظاہر نہ ہوتا ۔ اس کے گیر نے کہا اس کا شاہد نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وہ قول ہے جو آپ دعا میں کہتے کہ اے اللہ ! مجھے نور بنادے۔(ت)
 (۳؂المواھب اللدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت   ۲ /۳۰۷)
اسی طرح سیرت شامی میں ہے :
وزاد عن الامام الحکیم قال معناہ لئلایطأعلیہ کافر فیکون مذلۃ لہ۱؂۔
یعنی امام ترمذی نے یہ اضافیہ کیا: اس میں حکمت یہ تھی کہ کوئی کافر سایہ  اقدس پر پاؤں نہ رکھے کیونکہ اس میں آپ کی توہین ہے۔
 (۱؂سبل الہدٰی والرشادالباب العشرون فی مشیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۹۰)
اقول : سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما تشریف لئے جاتے تھے ، ایک یہودی حضرت کے گرد عجب حرکات اپنے پاؤں سے کرتاجاتاتھااس سے دریافت فرمایا،بولا :بات یہ ہے کہ اورتوکچھ قابو ہم تم پر نہیں پاتے جہاں جہاں تمہاراسایہ پڑتاہے اسے اپنے پاؤں سے روندتا چلتاہوں۔ ایسے خبیثوں کی شرارتوں سے حضرت حق عزجلالہ، نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو محفوظ فرمایا۔ نیز اسی طرح سیرت حلبیہ میں قدرمافی شفاء الصدور۔

محمد زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں : حضور کے لئے سایہ نہ تھا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حضور نور ہیں ، جیسا کہ ابن سبع نے کہا اورحافظ رزین محدث فرماتے ہیں :سبب اس کا یہ تھا کہ حضور کا نور ساطع تمام انوار عالم پر غالب تھا ، اور بعض علماء نے کہا کہ حکمت اس کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بچانا ہے اس سے کہ کسی کافر کا پاؤں ان کے سایہ پر نہ پڑے ۔
وھذا کلامہ برمہ (زرقانی کی اصل عبارت) : (ولم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل فی شمس ولاقمر لانہ کان نورا کما قال ابن سبع وقال رزین لغلبۃ انوارہ قیل وحکمۃ ذالک صیانتہ عن ان یطأکافر علی ظلہ (رواہ الترمذی الحکم عن ذکوان )ابی صالح السمان الزیات المدنی اوابی عمرو المدنی مولی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وکل منھما ثقۃ من التابعین فھو مرسل لکن روی ابن المبارک وابن الجوزی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما لم یکن للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع الشمس قط الاغلب ضوؤہ ضوء الشمس ولم یقم مع سراج قط الا غلب ضوؤہ ضوء السراج (وقال ابن سبع کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور افکان اذا مشٰی فی الشمس والقمر لایظھر لہ ظل) لان النور لا ظل لہ (قال غیرہ ویشھدلہ قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ)لما سئل اللہ تعالٰی ان یجعل فی جمیع اعضائہ وجہاتہ نوراً ختم بقولہ (واجعلنی نورا)والنور لاظل لہ وبہ یتم الا ستشہاد ۱؂ انتہٰی ۔)
حضورانور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا نہ دھوپ میں اورنہ ہی چاندنی میں ، کیونکہ آپ نور ہیں جیسا کہ ابن سبع نے فرمایا ۔ رزین نے فرمایا عدم سایہ کا سبب آپ کے انوار کا غلبہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس کی حکمت آپ کو بچانا ہے اس بات سے کہ کوئی کافر آپ کے سایہ پر اپنا پاؤں رکھے ۔ اس کو حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے زکوان ابوصالح السمان زیات المدنی سے یاسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو عمروالمدنی سے اوروہ دونوں ثقہ تابعین میں سے ہیں ، چنانچہ یہ حدیث مرسل ہوئی ، مگر ابن مبارک اورابن جوزی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا ، آپ کبھی بھی سورج کے سامنے جلوہ افروز نہ ہوئے مگر آپ کا نور سوج کے نور پر غالب آگیا اور نہ ہی کبھی آپ چراغ کے سامنے کھڑے ہوئے مگر آپ کی روشنی چراغ کی روشنی پرغالب آگئی ۔ابن سبع نے کہا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور تھے۔ آپ جب دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نمودار نہ ہوتا کیونکہ نور کا سایہ نہیں ہوتا ، اس کے غیر نے کہا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دعائیہ کلمات اس کے شاہد ہیں جب آپ نے اللہ تعالٰی سے سوال کیا کہ وہ آپ کے تمام اعضاء اورجہات کو نور بنادے ، اورآخر میں یوں کہا اے اللہ ! مجھے نور بنادے اور نور کا سایہ نہیں ہوتا۔  اسی کے ساتھ استدلال تام ہوا۔ (ت)
(۱؂شرح الزرقانی المواھب اللدنیۃ المقصد الثالث الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۲۰)
علامہ حسین بن محمد دیار بکری کتاب الخمیس فی احوال انفس نفیس ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )النوع الرابع ما اختص صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بہ من الکرامات
میں فرماتے ہیں  :
لم یقع ظلہ علی الارض ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر۲؂ ۔
حضور کا سایہ زمین پر نہ پڑتا ، نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں نظر آتا۔
 (۲؂تاریخ الخمیس القسم الثانی النوع الرابع مؤسسۃ الشعبان بیروت ۱ /۲۱۹)
بعینہٖ اسی طرح کتاب
''نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی الاطہار ''
میں ہے ۔
اما م نسفی تفسیر مدارک شریف میں زیر
قولہٖ تعالٰی :
لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنٰت بانفسھم خیرا۳؂۔
(کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیاہوتا۔ت)
 (۳؂القرآن الکریم ۲۴ /۱۲)
فرماتے ہیں :
قال عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ان اللہ مااوقع ظلک علی الارض لئلایضع انسان قدمہ علی ذٰلک الظل۱؂ ۔
امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی بے شک اللہ تعالٰی نے حضور کا سایہ زمین پر نہ ڈالا کہ کوئی شخص اس پر پاؤں نہ رکھ دے ۔''
 (۱؂مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)تحت الآیۃ  ۲۴ /۱۲ دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۱۳۵)
Flag Counter