Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
192 - 212
رسالہ

نفی الفیئ عمن استنا ربنورہ کل شیئ(۱۲۹۶ھ)

(ا س ذات اقدس کے سائے کی نفی جس کے نور سے ہر مخلوق منور ہوئی)
مسئلہ۴۳ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول  اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے لئے سایہ تھایانہیں ؟ بینواتوجروا (بیان فرمائیے اجردئے جاؤ۔ت)
الجواب 

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط الحمدللہ الذی خلق قبل الاشیاء نور نبینا من نورہ وفلق الانوار جمیعا من لمعات ظھورہ فھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورالانواروممد جمیع الشموس والاقمارسماہ ربہ فی کتابہ الکریم نورا وسراجا منیرا فلولا انارتہ لما استنارت شمس ولا تبین یوم من امس ولا تعین وقت للخمیس صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی المستنیرین بنورہ المحفوظین عن الطمس جعلنا اللہ تعالٰی منھم فی الدنیا ویوم لا یسمع الا ھمس۔
ہم اللہ کی حمدبیان کرتے ہیں اوراس کے رسول کریم پر درود بھیجتے ہیں ۔ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کیلئے ہیں جس نے تمام اشیاء سے قبل ہمارے نبی کے نور کو اپنے نور سے بنایا ، اورتمام نوروں کے آپ کے ظہور کے جلووں سے بنایا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام نوروں کے نور اورہر شمس وقمر کے ممدہیں ۔ آپ کے رب نے اپنی کتاب کریم میں آپ کانام نور اورسراج منیر رکھا ہے ۔ اگر آپ جلوہ فگن نہ ہوتے تو سورج روشن نہ ہوتا ، نہ آج کل سے ممتاز ہوتااورنہ ہی خمس کے لئے وقت کا تعین ہوتا۔ اللہ تعالٰی آپ پر درودنازل فرمائے اور آپ کے نور سے مستنیر ہونے والوں پر جو مٹ جانے سے محفوظ ہیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں ان سے بنائے دنیا میں اوراس دن جس میں نہیں سنائی دے گی مگر بہت آہستہ آواز۔(ت)
بیشک اس مہر سپہر اصطفاء ماہ منیر اجتباء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا،اور یہ امر احادیث واقوال علماء کرام سے ثابت اوراکابر ائمہ وجہابذفضلاء مثل حافظ رزین محدث وعلامہ ابن سبع صاحب شفاء الصدور وامام علامہ قاضی عیاض صاحب کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی وامام عارف باللہ سیدی جلال الملۃ والدین محمد بلخی رومی قدس سرہ، وعلامہ حسین بن دیار بکری واصحاب سیرت شامی وسیرت حلبی وامام علامہ جلال الملّۃ والدین سیوطی وامام شمس الدین ابوالفرج ابن جوزی محدث صاحب کتاب الوفاء وعلامہ شہاب الحق والدین خفاجی صاحب نسیم الریاض وامام احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب مواہب لدنیہ ومنہج محمدیہ وفاضل اجل محمد زرقانی مالکی شارح مواہب وشیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وجناب شیخ مجدد الف ثانی فاروقی سرہندی وبحرالعلوم مولانا عبدالعلی لکھنوی وشیخ الحدیث مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی وغیرہم اجلہ فاضلین ومقتدایان کہ آج کل کے مدعیان خام کا رکوان کی شاگردی بلکہ کلام سمجھنے کی بھی لیاقت نہیں ، خلفاً عن سلف دائماً اپنی تصنیف میں اس کی تصریح کرتے آئے اورمفتی عقل وقاضی نقل نے باہم اتفاق کر کے اس کی تاسیس وتشیید کی۔
فقد اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل فی شمس ولا قمر ۱؂۔
حکیم ترمذی نے ذکوان سے روایت کی کہ سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا تھا دھوپ میں نہ چاندنی میں ۔
 (۱؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ الحکیم الترمذی باب الآیۃ فی انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۶۸)
سیدنا عبداللہ بن مبارک اورحافظ علامہ ابن جوزی محدث رحمہمااللہ تعالٰی حضرت سیدنا وابن سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں :
قال لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل ، ولم یقم مع شمس قط الاغلب ضؤوہ ضوء الشمس ، ولم یقم مع سراج قط الاغلب ضوؤہ علی ضوء السراج۱؂۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا ، اور نہ کھڑے ہوئے آفتاب کے سامنے مگر یہ ان کا نور عالم افروز خورشید کی روشنی پر غالب آگیا، اورنہ قیام فرمایا چراغ کی ضیاء میں مگر یہ کہ حضورکے تابش نور نے اس کی چمک کو دبالیا۔
 (۱؂الوفاء باحوال المصطفٰی الباب التاسع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۰۷)
امامِ علام حافظ جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی نے کتاب خصائصِ کُبرٰی میں اس معنی کے لئے ایک باب وضع فرمایا اوراس میں حدیث ذکوان ذکر کے نقل کیا:
قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لایقع علی الارض وانہ کان نورا فکان اذا مشٰی فی الشمس اوالقمر لاینظر لہ ظل قال بعضھم ویشھد لہ حدیث قول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا۲؂۔
یعنی ابن سبع نے کہا حضور کے خصائص کریمہ سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا اورآپ نو رمحض تھے ، تو جب دھوپ یا چاندنی میں چلتے آپ کا سایہ نظر نہ آتا ۔ بعض علماء نے فرمایا اس کی شاہد ہے وہ حدیث کہ حضور نے اپنی دعا میں عرض کیا کہ مجھے نور کردے۔
(۲؂الخصائص الکبرٰی باب الآیۃ انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۶۸)
نیز انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باب ثانی فصل رابع میں فرماتے ہیں :
لم یقع ظلہ علی الارض ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نوراقال رزین لغلبۃ انوارہ۳؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہ پڑا ، حضور کا سایہ نظر نہ آیا نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں ۔ ابن سبع نے فرمایا اس لئے کہ حضور نور ہیں ۔امام رزین نے فرمایا اس لئے کہ حضور کے انوار سب پر غالب ہیں۔
(۳؂انموذج اللبیب)
امام علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی شفاء شریف میں فرماتے ہیں :
وما ذکر من انہ کان لاظل لشخصہ فی شمس ولا قمر لانہ کان نوراً ۱؂۔
یعنی حضور کے دلائل نبوت وآیات رسالت سے ہے وہ بات جو مذکور ہوئی کہ آپ کے جسم انور کا سایہ نہ دھوپ میں ہوتا نہ چاندنی میں اس لئے کہ حضور نور ہیں۔
 (۱؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذٰلک ماظہر من الآیات دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱ /۲۲۵)
علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اللہ تعالٰی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں : دھوپ اورچاندنی اورجو روشنیاں کہ ان میں بسبب اس کے کہ اجسام ، انوار کے حاجب ہوتے ہیں لہذا ان کا سایہ نہیں پڑتا جیساکہ انوار حقیقت میں مشاہدہ کیا جاتاہے ۔ پھر حدیث کتاب الوفاء ذکر کر کے اپنی ایک رباعی انشاد کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سایہ احمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دامن بسبب حضور کی کرامت وفضیلت کے زمین پر نہ کھینچا گیا اورتعجب ہے کہ باوجود اس کے تمام آدمی ان کے سایہ میں آرام کرتے ہیں ۔ پھر فرماتے ہیں : بہ تحقیق قرآن عظیم ناطق ہے کہ آپ نور روشن ہیں اورآپ کا بشر ہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا، اگر تو سمجھے تو وہ نور علی نور ہیں۔
وھذا ما نصّہ الخفاجی
 (خفاجی کی عبارت یہ ہے ) :
(و) ومن دلائل نبوتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (ماذکر) بالبناء للمجہول والذی ذکرہ ابن سبع (من انہ) بیان لما الموصولۃ (لاظل لشخصہ )ای لجسدہ الشریف اللطیف اذا کان (فی شمس ولاقمر)مما ترٰی فیہ الظلال لحجب الاجسام ضوء النیراین ونحوھما وعلل ذٰلک ابن سبع بقولہ (لانہ ) صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (کان نورا)والانوار شفافۃ لطیفۃ لاتحجب غیر ھا من الانوار فلاظل لھا کما ھو مشاھد فی الانوار الحقیقۃ وھذا رواہ صاحب الوفاء عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع شمس الا غلب ضوؤہ ضوئھا ولا مع سراج الا غلب ضوؤہ ضوؤہ وقد تقدم ھٰذا والکلام علیہ ورباعیتھافیہ

 وھی : ؎ ماجر لظل احمد اذیال 

فی الارض کرامۃ کما قد قالوا

ھذا عجب وکم بہ من عجب 

والناس بظلہ جمیعا قالوا''

وقالواھذا من القیلولۃ وقد نظق القراٰن بانہ النورالبمین وکونہ بشرا لا ینافیہ کما توھم فان فھمت فھو نور علی نور فان النور ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ وتفصیلہ فی مشکوٰۃ الانوار ۱؂ انتھٰی۔
حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دلائل نبوت سے ہے وہ جو کہ مذکورہوا ، اوروہ جو ابن سبع نے ذکر فرمایا کہ آپ کے تشخص یعنی جسم اطہر ولطیف کا سایہ نہ ہوتا جب آپ دھوپ اورچاندنی میں تشریف فرماہوتے یعنی وہ روشنیاں جن میں سائے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اجسام، شمس وقمر وغیرہ کی روشنی کے لئے حاجب ہوتے ہیں ۔  ابن سبع نے اس کی علت یہ بیان کی کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نور ہیں اورانوار شفاف ولطیف ہوتے ہیں وہ غیر کے لئے حاجت نہیں ہوتے اوران کا سایہ نہیں ہوتا جیسا کہ انوار حقیقت میں دیکھاجاتاہے ۔ اس کو صاحب وفاء نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا ، نہ کھڑے ہوئے آپ کبھی سورج کے سامنے مگر آپ کا نور سورج پر غالب آگیا، اورنہ قیام فرمایا آپ نے چراغ کے سامنے مگر آپ کا نور چراغ کی روشنی  پر غالب آگیا۔یہ اوراس پر کلام پہلے گزر چکا ہے اوراس سلسلہ میں رباعی جو کہ یہ ہے : ''حضرت امام الانبیاء احمد مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سایہئ اقدس نے آپ کی کرامت وفضیلت کی وجہ سے دامن زمین پر نہیں کھینچاجیسا کہ لوگوں نے کہا ۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ عدم سایہ کے باوجود سب لوگ آپ کے سایہ رحمت میں آرام کرتے ہیں ۔''

یہاں قالوا، قیلولہ سے مشتق ہے (نہ کہ قول سے ) تحقیق قرآن عظیم ناطق ہے کہ آپ نور روشن ہیں اورآپ کا بشرہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا ۔ اگر تو سمجھے توآپ نور علی نور ہیں ،کیونکہ نور وہ ہے جو خود ظاہر ہوں اوردوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔ اس کی تفصیل مشکوۃ الانوار میں ہے ۔ (ت)
 (۱؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۲۸۲)
Flag Counter