Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
191 - 212
علامہ حسین بن محمد دیار بکری کتاب الخمیس فی احوال انفس نفیس میں لکھتے ہیں :
لم یقع ظلہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی الارض ولا رئی لہ ظل فی شمس ولاقمر ۳؂۔
حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی سورج وچاند کی روشنی میں نظر آتا تھا (ت)
 (۳؂تاریخ الخمیس ،القسم الثانی النوع الرابع ۔موسسۃ شعبان۔بیروت ،ص ۱ /۲۱۹)
بعینہ اسی طرح نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی الاطہار میں ہے ۔
علامہ سیدی محمد زرقانی شرح مواہب شریف میں فرماتے ہیں :
لم یکن لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ظل فی شمس ولاقمر لانہ کان نورا کما قال ابن سبع وقال رزین لغلبۃ انوارہ وقیل حکمۃ ذلک صیانتہ عن یطاء کافر علی ظلہ رواہ الترمذی الحکیم عن ذکوان ابی صالح السمان الزیات المدنی او ابی عمر والمدنی مولی عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا وکل منھا ثقۃ من التابعین فھو مرسل لکن روی ابن المبارک وابن الجوزی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما لم یکن للنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع الشمس قط الا غلب ضوء ضو ء السراج۱؂۔
حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سایہ شمس وقمر کی روشنی میں نمودار نہ ہوتا تھا بقول ابن سبع آپ کی نورانیت کی وجہ سے ۔اور کہا گیا ہے کہ عدم سایہ کی حکمت یہ ہے کہ کوئی کافر آپ کے سایہ پر پاؤں نہ رکھے ۔اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے ذکوان ابو صالح السمان زیات مدنی سے یا ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کے آزاد کرادہ غلام ابو عمرومدنی سے ، اوروہ دونوں ثقہ تابعین میں سے ہیں، لہذا یہ حدیث مرسل ہے ۔ لیکن ابن مبارک اورابن جوزی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ آپ کا سایہ نہ تھا آپ جب سورج کی روشنی یا چراغ کی روشنی میں قیام فرماتے تو آپ کی چمک سورج اورچراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔ (ت)
(۱؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ ،المقصد الثالث ،الفصل الاول ،دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۲۰)
فاضل محمد بن صبان اسعاف الراغبین میں ذکر خصائص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں لکھتے ہیں :
وانہ لافیئ لہ ۲؂ ۔
(بے شک آپ کا سایہ نہ تھا ۔ ت)
(۲؂اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی واہل بیتہ الطاہرین الباب الاول مصطفی البابی مصر ص۷۹)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں : ؎
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود 

اومحمد دار  بے سایہ شود۳؂
 (جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے ۔ ت)
(۳؂مثنوی معنوی درصفت آں بیخود کہ دربقائی حق فانی شدہ است الخ نورانی کتب خانہ پشاور ص۱۹)
ملک العلماء بحرالعلوم مولانا عبدالعلی قدس سرہ، اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
در مصرع ثانی اشارہ بہ معجزہ آن سرورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم است کہ آں سرور راسایہ نمی افتاد۴؂۔
دوسرے مصرع میں سرورعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر واقع نہیں ہوتا تھا۔
یہاں اس مسئلہ مسلمہ کے منکر وہابیہ ہیں اور اسمٰعیل دہلوی کے غلام اوراسمٰعیل کو غلامی حضرت مجدد کا ادعاء اورحضرت شیخ مجدد جلد ثالث مکتوبات ، مکتوب صدم میں فرماتے ہیں :
 اورا  صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم سایہ نبود ودرعالم شہادت سایہ ہر شخص لطیف ترست وچوں لطیف ترازوے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نباشد اوراسایہ چہ صورت داردعلیہ وعلٰی آلہ الصلوات والتسلیمات ۱؂۔
رسول انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔عالم شہادت میں ہرشخص کا سایہ اس سے زیادہ لطیف ہوتاہے۔چونکہ آپ سے بڑھ کر کوئی شئے لطیف نہیں ہے لہذا آپ کے سایہ کی کوئی صورت نہیں بنتی۔ آپ پر اور آپ کی آل پر درودوسلام ہو۔(ت)
(۱؂مکتوبات امام ربانی مکتوب صدم نولکشور لکھنؤ جلد سوم ص۱۸۷)
اسی کے مکتوب ۱۲۲میں فرمایا :
واجب راتعالی چر اظل بودکہ ظل موہم تولید بہ مثل ست ومنبی از شائبہ عدم کمال لطافت اصل،ہرگاہ محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم را از لطافت ظل نبود خدائے محمدرا چگونہ ظل باشد۲؂ اھ ۔ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
واجب تعالٰی کا سایہ کیسے ہوسکتاہے کہ سایہ تو مثل کے پیدا ہونے کا وہم پیدا کرتاہے اورعدم کمال لطافت کے شائبہ کی خبر دیتاہے ۔ جب محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ بوجہ آپ کی لطافت کے نہ تھا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خدا جل وعلاکا سایہ کیونکر ہوسکتاہے ۔(ت)
(۲؂مکتوبات امام ربانی مکتوب ۱۲۲نولکھشور لکھنؤ جلدسوم ص۲۳۷)
اقول : (میں کہتاہوں۔ت) مطالع المسرات شریف میں امام اہلسنت سیدنا ابوالحسن اشعری رحمہ الہ تعالٰی سے :
انہ تعالٰی نورلیس کالانوار والروح النبویۃ القدسیۃ لمعۃ من نورہٖ والملٰئکۃ شررتلک الانوار۳؂ ۔
اللہ تعالٰی نور ہے مگر انوار کی مثل نہیں اورنبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روح اقدس اللہ تعالٰی کے نور کا جلوہ ہے اورملائکہ ان انوار کی جھلک ہیں۔ (ت)
(۳؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۲۶۵)
پھر اس کی تائید میں حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اول ماخلق اللہ نوری ومن نوری خلق کل شیئ۴؂ ۔
اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے میرا نور بنایا اورمیرے نور سے تمام اشیاء کو پیدا فرمایا (ت)
 (۴؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۲۶۵)
جب ملائکہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے بنے ، سایہ نہیں رکھتے توحضور کہ اصل نور ہیں جن کی ایک جھلک سے سب ملک بنے کیونکر سایہ سے منزہ نہ ہوں گے ۔ جب کہ ملائکہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے بنے ، بے سایہ ہوں ، اورمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ نورالہٰی سے بنے ، سایہ رکھیں۔

حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں چا انگل جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے سجدہ میں نہ ہو، ملائکہ کے سایہ ہوتا تو آفتاب کی روشنی ہم تک کیونکر پہنچتی یا شاید پہنچتی تو ایسی جیسے گھنے پیڑ میں سے چھن کر خال خال بندکیاں نور کے سائے کے اندر نظر آتی ہیں، ملائکہ تو لطیف تر ہیں، نار کے لئے سایہ نہین بلکہ ہوا کے لئے سایہ نہیں بلکہ عالم نسیم کی ہوا کہ ہوائے بالا سے کثیف تر ہے اس کا بھی سایہ نہیں ورنہ روشنی کبھی نہ ہوتی بلکہ ہوا میں ہزاروں لاکھوں ذرے اور قسم قسم کے جانور بھرے پڑے ہیں کہ خوردبین سے نظر آتے ہیں اوربعض بے خوردبین بھی ، جبکہ دھوپ کسی بند مکان میں روزن سے داخل ہو ان میں کسی کے سایہ نہیں۔ یہ سب تو قبول کرلیں گے مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے تن اقدس کی ایسی لطافت کس دل سے گوارا ہوکہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا۔ جانے دو، یہاں ان ذروں کی باریکی جسم کا حیلہ لوگے ، آسمان میں کیا کہوگے ؟اتنا بڑا جسم عظیم کہ تمام زمین کو محیط اوراس کا ایک ذرا سا ٹکڑا جس میں آفتاب ہے سارے کرہ زمین سے تین سو چھبیس حصے بڑا ہے ، اسی کا سایہ دکھا دیجئے ، اس کا سایہ پڑتا تو قیامت تک تمہیں دن کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوتا ، ہاں ہاں یہی جو نیلگوں چھت ہمیں نظر آتی ہے ، یہی پہلا آسمان ہے ،
قرآن عظیم یہی بتاتاہے :
قال تعالٰی
افلم ینظر وا الی السماء فوقھم کیف بنینہا وزینہا وما لہا من فروج۱؂۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا : )کیا نہیں دیکھتے اپنے اوپر آسمان کو ، ہم نے اسے کیسے بنایا اور آراستہ کیا اوراس میں کہیں شگاف نہیں ۔
(۱؂القرآن الکریم ۵۰ /۶)
اورفرماتاہے :
وزینّٰہا للنّٰظرین۲؂۔
ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا۔
 (۲؂القرآن الکریم ۱۵ /۱۶)
اوراگر فلاسفہ  یونانی کی فضلہ خوری سے یہی مانئے کہ جو نظر آتاہے فلک نہیں ، کرہ بخار ہے۔

جب ہمارا مطلب حاصل کہ اتنا بڑا جسم عظیم عنصری سایہ نہیں رکھتا ، اسے آسمان کہو یا کرہ بخار، ہیئات جدیدہ کا کفراوڑھو کہ آسمان کچھ ہے ہی نہیں ، یہ جو نظر آتاہے محض موہوم وبے حقیقت حد نگاہ ہے ، توایک بات ہے مگر آسمانی کتاب پر ایمان لاکر آسمان سے انکار کرنا ناممکن۔
غرض جب دلیل قاہر سے ثابت کہ جسم عنصری کے لئے سایہ ضروری نہیں ، تو نیچریوں کی طرح خلاف نیچر ہونے کا جو ہمیانہ استبعاد تھا وہ اوڑھ لیا، پھر کیا وجہ کہ ائمہ کرام طبقۃً فطبقۃً جو فضیلت ہمارے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے نقل فرماتے ہیں اور مقبول ومقرر رکھتے آئے اورعقل ونقل سے کوئی اس کا واقع نہیں ، تسلیم نہ کیا جائے یا اس میں چون وچرابرتی جائے اسے سوائے مرض قلب کے کیا کہئے ، محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل کو بیمار دل گوارا نہیں کرتا
یشرح صدرہ للاسلام۱؂۔
 (اللہ تعالٰی اس کا سینہ اسلام کے لیے  کھول دیتا ہے ) کی دولت نہ ملی کہ اللہ تعالٰی اس کا سینہ قبول و تسلیم کے لیے کھول دیتا  ، ناچار
یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد  فی السمآء ۲؂
 (اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتاہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے ۔ت )کے آڑے آتی ۔
(۱؂القرآن الکریم ۶ /۱۲۵)

(۲؂القرآن الکریم ۶ /۱۲۵)
دل تنگ ہوکر گورکافر کے مثل ہوجاتااور فضیلت کا منکر کلیجہ چار چار اچھلتا گویا آسمان کو چڑھا جاتاہے
کذٰلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لایؤمنون ۳؂
والعیاذباللہ رب العٰلمین۔ واللہ سبحٰنہ تعالٰی اعلم
 (اللہ یوں ہی عذاب میں ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو۔ اوراللہ رب العالمین کی پناہ ۔ اوراللہ سبحٰنہ تعالٰی خوب جانتاہے ۔ت)
(۳؂القرآن الکریم ۶ /۱۲۵)
رسالہ

صلات الصفاء فی نور المصطفٰی
ختم ہوا
Flag Counter