Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
190 - 212
تقریظ(عہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللھم لک الحمد فقیر غفرلہ المولی القدیر نے فاضلِ فاضل ، عالم عامل ، حامی السنۃ ، ماحی الفتنہ ، مولٰنا مولوی حبیب علی صاحب علوی ایدہ اللہ تعالٰی بالنور العلوی کی یہ تحریر منیر مطالعہ کی فجزاہ اللہ عنہ نبیہ المصطفٰی الجزاء الاوفٰی ۔
عہ : یہ تقریظ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز نے مولانا حبیب علی علوی کے رسالہ پر لکھی تھی، بریلی کے ذخیرہ مسودات سے مولانا محمد ابراہیم شاہدی پونپوری نے ۸ رجب المرجب ۱۳۶۳ھ کو نقل کی۔ یہ نقل محدث اعظم پاکستان مولانا سرداراحمد رحمہ اللہ تعالٰی کے ذخیرہ کتب سے راقم کو ۲۲ربیع الاول ۱۴۰۴ھ کو دستیاب ہوئی جو پیش نظر مجموعہ رسائل میں شامل کی جارہی ہے ۔

اس مجموعہ میں حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی نورانیت کے موضوع پر ایک  اورسایہ نہ ہونے کے موضوع پر تین رسائل شامل ہیں۔ 	محمد عبدالقیوم قادری ۔
مسئلہ بحمداللہ تعالٰی واضح ومکشوف اورمسلمانوں میں مشہور ومعروف ہے ، فقیر کے اس میں تین رسائل ہیں۔
 (۱) قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام علیہ وعلٰی اٰلہ الصلٰوۃ والسلام ۔

(۲)نفی الفیئ عمن اسننا ربنورہ کل شیء صلی اللہ علیہ وسلم۔

(۳)ھدی الحیران فی نفی الفیئی عن سید الاکوان علیہ الصلٰوۃ والسلام الاتمان الاکملان۔
یہاں جناب مجیب مصیب سلمہ القریب کی تائید میں بعض کلام ائمہ کرام علمائے اعلام کااضافہ کروں۔ امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی خصائص الکبری شریف میں فرماتے ہیں :
باب الاٰیۃ فی انہ لم یکن یری لہ ظل، اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل فی شمس ولا قمر ، قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لایقع علی الارض وانہ کان نورافکان اذ مشٰی فی الشمس اوالقمر لاینظر لہ ظل قال بعضھم ویشہد لہ حدیث ، قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نوراً ۱؂۔
اس نشانی کا بیان کہ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہیں دیکھاگیا ۔ حکیم ترمذی نے حضرت ذکوان سے روایت کی کہ سورج اورچاند کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہیں آتاتھا ۔ ابن سبع نے کہا : آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کیونکہ آپ نور ہیں ، آپ جب سورج اورچاندنی کی روشنی میں چلتے تو سایہ دکھانی نہیں دیتاتھا ۔ بعض نے کہا کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ نے دعا فرماتے ہوئے ہوئے کہا: اے اللہ !مجھے نور بنادے ۔(ت)
(۱؂الخصائص الکبرٰی باب الآیۃ فی انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۶۸)
نیز انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں :
لم یقع ظلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نورا، وقال رزین لغلبۃ انوارہ۲؂ ۔
حضورانور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔نہ ہی سورج اورچاند کی روشنی میں آپ کا سایہ دکھائی دیتاتھا۔ ابن سبع نے کہا آپ کے نور ہونے کی وجہ سے اوررزین نے کہا آپ کے انوارکے غلبہ کی وجہ سے ۔(ت)
(۲؂انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب)
امام ابنِ حجر مکی رحمہ اللہ تعالٰی افضل القرٰی لقراء ام القری زیر قول ماتن رضی اللہ تعالٰی عنہ ؎

لم یساووک فی علاک وقدحا	      ل سنا منک دونھم سنا۱؂
(انبیاء علیہم الصلوات والسلام فضیلت میں آپ کے برابر نہ ہوئے آپ کی چمک اوررفعت آپ تک ان کے پہنچے سے مانع ہوئی ۔ ت)
(۱؂ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶)
فرماتے ہیں :
ھذا مقتبس من تسمیتہ تعالٰی لنبیہ نورا فی نحو قولہ تعالٰی
''قدجاء کم من اللہ نور وکتاب مبین''،
وکان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یکثر الدعاء بان اللہ یجعل کلا من حواسہٖ واعضائہٖ وبدنہٖ نوراً اظہار الوقوع ذٰلک ، وتفضل اللہ تعالٰی علیہ بہ لیزدادشکرہ وشکرامتہ علی ذٰلک ، کما امرنا بالدعاء الذی فی اٰکرسورۃ البقرۃ مع وقوعہ، ، وتفضل اللہ تعالٰی بہ لذٰلک ومما یؤید انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صار نورا انہ کان اذا مشٰی فی الشمس والقمر لم یظھر لہ ظل لانہ لایظھر الا لکثیف وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قد خلصہ اللہ سائر الکثائف الجسامنیۃ وصیرہ نورا صرفالایظھر لہ ظل اصلا ۱؂۔
یہ ماخوذ ہے ان آیات کریمہ سے جن میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کا نام نور رکھاہے ،
جیسے آیت کریمہ
 قد جا ء کم من اللہ نور وکتاب مبین
(تحقیق آیا تمھارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے نور اور روشن کتاب )نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اللہ تعالی آپ کے تمام حواس ،اعضا اور بدن کو نور بنا دے ۔آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ دعا اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے فرماتے کہ اس کا وقوع ہو چکا ہے اور اللہ تعالی نے اپنے فضل سے آپ کو مجسم نور بنا دیا ہے تاکہ آپ اور آپ کی امت اس پر اللہ تعالی کا بکثرت شکریہ ادا کرے ۔جیسا کہ اللہ تعالی نے ہمیں سورہ بقرہ کی آخری آیات میں واقع دعا مانگنے کا حکم دیا ہے باوجودیکہ اللہ تعالی کے فضل سے اس کا وقوع ہو چکا ہے ۔آپ کی نورانیت کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب آپ سورج اور چاند کی روشنی میں چلتے تو آپ کا سایہ ظاہر نہ ہوتا کیونکہ سایہ تو کثیف چیز کا ظاہر نہ ہوتا کیونکہ سایہ تو کثیف چیز کا ظاہر ہوتا ہے جبکہ آپ کو اللہ نے تمام جسمانی کثافتوں سے پاک فرما دیا ہے اور آپ کو خالص نور بنا دیا ہے ،چنانچہ آپ کا سایہ بالکل ظاہر نہیں ہوتا تھا۔
 (۱؂افضل القرٰی لقراء ام القرٰی (شرح ام القرٰی )شرح شعر ۲المجمع الثقافی ابوظبی ۱/۱۲۸و۱۲۹)
علامہ سلیما ن جمل ہمزیہ میں فرماتے ہیں :
لم یکن لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ظل یظہر فی الشمس ولاقمر  ۲؂
سورج اور چاند کی روشنی میں حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا تھا ۔(ت)
 (۲؂الفتوحات الاحمدیہ علی متن الہمزیۃ لسلیمان جمل ،المکتبہ التجاریہ الکبری مصر ،ص۵)
Flag Counter