| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
رسالہ تجلی الیقین بانّ نبیّناسید المرسلین (۱۳۰۵ھ) (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۳۳: از مونگیر لعل دروازہ معرفت حضرت مرزا غلام قادر بیگ غرہ شوال ۱۳۰۵ھ حضرت اقدس دام ظلہم ! یہاں وہابیہ نے ایک تازہ شگوفہ اظہار کیا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے افضل المرسلین ہونے سے انکار کیا۔ ہر چند کہا گیا کہ مسئلہ واضح ہے ، مسلمانوں کا ہر بچہ جانتاہے ، مگر کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث سے دلیل لاؤ۔ یہاں کوشش کی ، قرآن وحدیث میں دلیل نہ پائی ، لہذا مسئلہ حاضر خدمتِ والا ہے، امید ہے کہ بہ ثبوت آیات واحادیث مسلمانوں کو ممنون فرمائیں گے، فقط
الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھر ہ علی الدین کلہٖ ط ولو کرہ المشرکون تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہٖ لیکون للعٰلمین نذیر ا والی اقوامھم خاصۃ ارسل المرسلون ھوالذی ارسل نبینا رحمۃ للعٰلمین فادخل تحت ذیل رحمۃ الانبیآء والمرسلین ، والملٰئکۃ المقربین وخلق اللہ اجمعین ، وجعلہ خاتم النبیین فنسخ الادیان ولاینسخ لہ دین ، وادخل فی امتہ جمیع المرسلین اذ اخذ اللہ میثاق النبیین، سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الی السمٰوٰت العلٰی الی العرش الاعلٰی،ثم دنا فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنیٰ ، فاوحیٰ الٰی عبدہٖ ما اوحٰی ماکذب الفؤٰاد ماراٰی افتمٰرونہ علی مایرٰی ولقد راٰہ نزلۃ اُخرٰی، مازاغ البصروماطغٰی وان الٰی ربک المنتھٰی وان علیہ النشأۃ الاخرٰی یوم لایجد ون شفیعاً الا المصطفٰی فلہ الفضل فی الاولٰی والاخرٰی ، والغایۃ القصوٰی والوسیلۃ العظمٰی والشفاعۃ الکبرٰی والمقام المحمود والحوض المورود ومال لایحصٰی من الصفات العلٰی والدرجات العلیاء فصلی اللہ تعالٰی وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ وکل منتم الیہ دآئما ابدًاکما یحب ویرضیٰ ھو وربہ العلی الاعلٰی ۔
سب خوبیاں اسے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اورسچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اورپڑے بُرامانیں مشرک ، بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا کہ وہ سارے جہان کو ڈرسنانے والا ہو۔ اورسب رسول خاص اپنی ہی قوموں کی طرف بھیجے گئے ۔ اس نے ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سارے جہان کے لیے رحمت بھیجا، تو ان کے دامنِ رحمت کے نیچے انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین اورتمام مخلوقِ الہٰی کو داخل فرمایا، اوران کو سب نبیوں کا خاتم کیا، تو انہوں نے اوردین نسخ فرمائے ، اوران کے دین کا کوئی حرف منسوخ نہ ہوگا۔اللہ نے ا ن کی امت میں تمام رسولوں کو داخل کیا، جبکہ خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے لے گیا مسجد اقصیٰ تک بلند آسمانوں تک عرش اعلٰی تک ، پھر نزدیک ہوا تو تجلی فرمائی ، تو دوکمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا۔ پس اپنے بندے کو وحی کی ،دل نے جودیکھا اس میں شک نہ کیا تو کیاتم ان کے دیدار میں جھگڑتے ہو۔ اورقسم ہے بے شک انہوں نے اسے دوبار ہ دیکھا۔ آنکھ بیجا نہ چلی اورنہ حد سے بڑھی ۔ اوربے شک تیرے رب ہی کی طرف انتہا ہے ۔ اوربے شک اسے سب کو دوبارہ پیدا کرنا ضرور ہے جس دن کوئی شفیع نہ پائیں گے سوائے مصطفی کے ، تو دنیا اورآخرت میں انہیں کیلئے فضیلت ہے اورسب سے پرلے سرے کی نہایت اورسب سے بڑا وسیلہ اورسب سے اعظم شفاعت اوروہ مقام جس میں سب اگلے پچھلے ان کی حمد کریں اوروہ حوض جس پر تشنگان امت آکر سیراب ہوں گے اوربے گنتی بلند صفتیں اورسب سے اونچے درجے ، تو اللہ تعالٰی درود وبرکت اتارے ان پر اور ان کے آل واصحاب اورہر ان کے نام لیوا پر ہمیشہ ہمیشہ جیسی انہیں اوران کے بلند وبالا تر رب کو پسند ومحبوب ہے ۔
حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا افضل المرسلین وسید الاولین والآخرین ہونا قطعی ایمانی، یقینی ، اذعانی ، اجماعی ، ایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہ کرے گا مگر گمراہ بد دین بندہ شیاطین والعیاذباللہ رب العٰلمین کلمہ پڑھ کر اس میں شک عجیب ہے ، آج نہ کھلا تو کل قریب ہے ، جس دن تمام مخلوق کو جمع فرمائیں گے ، سارے مجمع کا دولھا حضور کو بنائیں گے ، انبیائے جلیل تاحضرت خلیل سب حضور ہی کے نیاز مند ہوں گے ، موافق ومخالف کی حاجتوں کے ہاتھ انہیں کی جانب بلند ہوں گے ، انہیں کا کلمہ پڑھا جاتا ہوگا، انہیں کی حمد کا ڈنکا بجتا ہوگا، جو آج بیاں ہے کل عیاں ہے ، اس دن جو مومن ومقِرّ ہیں نور بارعشرتوں سے شادیاں رچائیں گے ،
الحمدللہ الذی ھدٰنا لھٰذا۱
(سب خوبیاں اللہ کوجس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ۔ت)
(۱ القرآن الکریم ۷ /۴۳)
اورجو مبطل ومنکر ہیں دلفگارحسرتوں سے ہاتھ چبائیں گے،
یالیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسول۲
ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم ماناہوتا ۔
(۲ القران الکریم ۳۳ / ۶۶)
اللھم اجعلنا من المھتدین ولاتجعلنا فتنۃ للقوم الظٰلمین۔
اے اللہ !ہم کو ہدایت پانے والوں میں سے بنادے اورہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنا۔(ت)