شرح المواھب للعلامۃ الزرقانی میں ہے :
اضافۃ تشریف واشعاربانہ خلق عجیب وان لہ شانا لہ مناسبۃ ما الی الحضرۃ الربوبیۃ علی حد قولہ تعالٰی
اضافت تشریفیہ ہے اوریہ بتانا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عجیب مخلوق ہیں اوربارگاہِ ربوبیت میں آپ کو خاص نسبت ہے جیسے
(اور میں اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونک دوں ۔(ت )
(۲شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۶)
(۳القرآن الکریم ۱۵/ ۲۹ و ۳۸ /۷۲)
نورذاتی میں اگر ایک معنٰی معاذاللہ کفرہیں کہ ذاتی کو اصطلاح فن ایسا غوجی پر حمل کریں جو ہرگز قائلوں کی مراد نہیں بلکہ غالباً ان کو معلوم بھی نہ ہوگی تو نور ذات یا نور اللہ کہنے میں جن کا جواز از خود مانع کو مسلّم ہے عیاذاًباللہ متعدد وجہ پر معانی کفر ہیں ۔
ہم نے فتوٰی دیگر میں بیان کیا کہ نور کے دو معنی ہیں : ایک ظاہر بنفسہٖ مظہر لغیرہٖ ، بایں معنٰی اگر اضافت بیانیہ لو تو نور رسالت عین ذات الہٰی ٹھہرے اوریہ کفر ہے ۔ اور اگر لامیہ لو تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ نور کہ آپ بذاب خود ظاہر اورذات الہٰی کا ظاہر کرنے والا ہے ، یہ بھی کفر ہے ۔ دوسرے معنی یہ کیفیت وعرض جسے چمک ، جھلک ، اجالا ، روشنی کہتے ہیں اس معنٰی پر اضافت بیانیہ لو تو کفر عینیت کے علاوہ ایک اورکفر عرضیت عارض ہوگا کہ ذات الہٰی معاذاللہ ایک عرض وکیفیت قرار پائی ، اوراگرالامیہ لو تو کسی کی روشنی کہنے سے غالباً یہ مفہوم کہ یہ کیفیت اس کو عارض ہے جیسے نو رشمس ونور قمر ونور چراغ،یوں معاذاللہ اللہ عزوجل محل حوادث ٹھہرے گا ، یہ بھی صریح ضلالت وگمراہی ومنجربہ کفرلزومی ہے ، ایسے خیالات سے اگر نو رذاتی کہنا ایک درجہ ناجائز ہوگا تو نورذات ونور اللہ کہنا چاردرجے ، حالانکہ ان کا جواز مانع کو مسلّم ہونے کے علاوہ نور اللہ تو خود قرآن عظیم میں وارد ہے :
یریدون لیطفؤا نوراللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولوکرہ الکٰفرون o ۱ یریدون ان یطفؤا نوراللہ بافواھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکٰفرون۲۔
اللہ تعالٰی کے نور کو اپنی پھونکوں سے بچھانا چاہتے ہیں اوراللہ تعالٰی اپنے نور کو تام فرمانے والا ہے اگرچہ کافر ناپسند کریں ۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں اوراللہ نہ مانے گا مگر اپنے نورکا پورا کرنا ، پڑے برامانیں کافر۔ (ت)
(۱القرآن الکریم ۶۱ /۸ )
(۲القرآن الکریم ۹ /۳۲)
اتقوافراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ ۳۔
مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور اللہ سے دیکھتاہے ۔ (ت)
(۳سنن الترمذی کتاب التفسیر حدیث ۳۱۳۸دارالفکر بیروت ۵ /۸۸)
( کنزالعمال حدیث ۳۰۷۳۰موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۸۸)
مضاف ومضاف الیہ میں اگر معائرت شرط ہے تو منسوب ومنسوب الیہ میں کیا شرط نہیں ۔
بلکہ اس طور پر جو مانع نے اختیار کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سب سے پہلے مخلوق الٰہی نہ رہیں گے ، دو چیزیں حضور سے پہلے مخلوق قرار پائیں گی اوریہ خلافت حدیث وخلافت نصوص ائمہئ قدیم وحدیث ۔حدیث میں ارشاد ہوا:
یاجابر ان اللہ خلق قبل الاشیاء نورنبیک من نورہٖ۱۔
اے جابر!اللہ تعالٰی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔
(۱ المواھب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۷۱)
یہاں دو اضافتیں ہیں : نور نبی ونور خدا ۔ اورمشتہر کے نزدیک اضافت میں مغائرت شرط ہے تو نور نبی غیر ہو اورنور خدا یر خدا، اورغیر خدا جو کچھ ہے مخلوق ہے تو نور خدا مخلوق ہوا اور اس نور سے نور نبی بنا، تو ضرر نورخدا نور نبی سے پہلے مخلوق تھا اورنو نبی باقی سب اشیاء سے پہلے بنا، اوراشیاء میں خود نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم بھی ہیں ، تو نور نبی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے پہلے بنا اور اس سے پہلے نور خدا بنا، تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے دو مخلوق پہلے ہوئے ، یہ محض باطل ہے ۔
حل یہ ہے کہ ایسا غوجی میں ذاتی مقابل عرضی ہے بایں معنی اللہ عزوجل نور ذاتی ونور عرضی ، دونوں سے پاک ومنزہ ہے مگر وہ یہاں نہ مراد نہ مفہوم اورعام محاورہ میں ذاتی مقابل صفاتی واسمائی ہے اوریہاں یہی مقصود ، بایں معنٰی اللہ عزوجل کے لئے نور ذاتی ونور صفاتی ونوراسمائی سب ہیں کہ اس کی ذات وصفات وامساء کی تجلیاں ہیں ، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم تجلی ذات اورانبیاء واولیاء وسائر خلق اللہ تجلی اسماء وصفات ہیں جیسا کہ ہم نے فتوائے دیگر میں شیخ محقق سے نقل کیا ،
رحمہ اللہ تعالٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمدواٰلہٖ وسلم۔