مسئلہ ۴۲ : از کلکتہ ، مچھوابازار، اسٹریٹ نمبر ۲۱، متصل چولیا مسجد ، مرسلہ حکیم اظہر علی صاحب ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
بحضور اقدس جناب مولانا مدظلہ العالی !یہ اشہتار ترسیل خدمت ہے ، اگر صحیح ہوتو اس پر صادر کردیا جائے ۔ والا جواب مفصل ترقیم فرمائیں والادب۔اظہر علی عفی عنہ
نقل اشتہار
رب زدنی علما
(اے میرے رب !میرے علم میں اضافہ فرما۔ ت) نور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اللہ تعالٰی کا ذاتی نور جزء ذات یا عین ذات کا ٹکڑا نہیں بلکہ پیدا کیا ہوا، نور مخلوق ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
اول ما خلق اللہ نوری ، اول ماخلق اللہ القلم ، اول ما خلق اللہ العقل ۔ کذا فی تاریخ الخمیس۱ وسرالاسرار۔
سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے میرے نور کو پیدافرمایا، سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے قلم کو پیدا فرمایا ، سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے عقل کو پیدا فرمایا، تاریخ خمیس اورسرالاسرار میں یونہی ہے ۔ (ت)
(۱تاریخ الخمیس مطلب اول المخلوقات مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ /۱۹)
(مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان تحت الحدیث ۹۴المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۹۱)
اورذاتی نور کہنے سے نور رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو جزء ذات یا عین ذات یا ٹکڑا ذات خدائے تعالٰی کا کہنا لازم آتاہے ، یہ کلام کفر ہے اورنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قدیم ہونا لازم آتاہے کیونکہ ذاتی کے معنی اگر اصطلاحی لئے جائیں تو جز خدایا عین خدا یا ٹکڑا ذات خدا کا ہونا لازم آتاہے ، یہی کلام کفر ہے اورعقائد بعض جہّال کے یہی ہیں ، اس سبب سے نور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نور ذاتی یا ذاتی نور یا اللہ تعالٰی کی ذات کا ٹکڑا نہ کہنا چاہیے ، اگر نور رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نور خدا یا نور مخلوق خدا یا نور ذات خدایا نور جمال خدا کہے تو کہنا جائز ہے جیسا کہ حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے پنی کتاب سرالاسرار میں فرمایا ہے :
لما خلق اللہ تعالٰی روح محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اولا من نور جمالہ۲۔
سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے روح محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے نور جمال سے پیدا فرمایا۔(ت)
اورحدیث قدسی میں آیا ہے :
خلقت روح محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من نور وجھی ۳کما قال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اول ماخلق اللہ روحی اول ماخلق اللہ نوری۴۔
میں نے روح محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنی ذات کے نور سے پیدافرمایا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے میری روح کو پیدافرمایا ، سب سے پہلے اللہ تعالٰی نے میرے نور کو پیدا فرمایا ۔(ت)
(۳تاریخ الخمیس مطلب اول المخلوقات مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۱۹)
کیونکہ ایک چیز کو دوسرے کی طرف اضافت کرنے سے جزء اس کا یا عین اس کا لازم نہیں آتا ہے کیونکہ مضاف ومضاف الیہ کے درمیان مغائرت شرط ہے ۔ چنانچہ بیت اللہ وناقۃ اللہ ونوراللہ وروح اللہ ، پس ثابت ہوا کہ نور رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورمخلوق خدا یا نور ذات خدا یا نور جمال خدا ہے ، نور ذاتی یعنی اللہ تعالٰی کی ذات کا ٹکڑا وجزو عین نہیں ہے ، واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔
المشتہر : عبدالمہیمن قاضی علاقہ تھانہ بہوبازار وغیرہ کلکتہ
الجواب
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نور بلا شبہ اللہ عزوجل کے نورذاتی یعنی عین ذات الہٰی سے پیدا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے فتوے میں تصریحات علمائے کرام سے محقق کیا اوراس کے معنی بھی وہیں مشرّح کردیے ۔ حاش للہ ! یہ کسی مسلمان کا عقیدہ کیا گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نور رسالت یا کوئی چیز معاذاللہ ذات الٰہی کا جز یا اس کا عین ونفس ہے ، ایسا اعتقاد ضرور کفر وارتداد۔
ای ادعاء الجزئیۃ مطلقاً والعینیۃ بمعنی الا تحاد ای ھو ھو فی مرتبۃ الفرق اما ان الوجود واحد والموجود واحد فی مرتبۃ الجمع والکل ظلالہ وکعوسہ فی مرتبۃ الفرق فلاموجود الا ھو فی مرتبۃ الحقیقۃ الذاتیۃ اذلاحظ لغیرہ فی حد ذاتہ من الجود اصلاجملۃ واحدۃ من دونہ ثنیا فحق واضح لاشک فیہ۔
یعنی جزئیت کا دعوٰی کرنا مطلقاً اورعینیت بمعنی اتحاد کا دعوٰی کرنا یعنی مربہ فرق میں نور محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عین ذات خدا ہے (کفر ہے )لیکن یہ اعتقادکہ بے شک وجود ایک ہے اورموجود ایک ہے مرتبہ جمع میں اورتمام موجودات مربہ فرق میں اسی کے ظل اورعکس ہیں۔ چنانچہ مرتبہ حقیقت ذاتیہ میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں کیونکہ حد ذات میں اس کے ماسوا کسی کے لئے بغیر کسی استثناء کے بالکل وجود سے کوئی حصہ نہیں، (یہ اعتقاد)خالص حق ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ (ت)
مگر نور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا نور ذاتی کہنے سے نہ عین ذات یا جزء ذات ہونا لازم ، نہ مسلمانوں پربدگمانی جائز ، نہ عرف عام علماء وعوام میں اس سے یہ معنی مفہوم ، نہ نورذات کہنے کو نورذاتی کہنے پر کچھ ترجیح جس سے وہ جائز اور یہ ناجائزہو۔
اولاً :
ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عین ذات یا جز ء ماہیت ہو، خاص ایسا غوجی کی اصطلاح ہے ، علامء عامہ کے عرف عام میں نہ یہ معنے مراد ہوتے ہیں نہ ہرگز مفہوم ، عام محاورہ میںکہتے ہیں یہ میں اپنے ذاتی علم سے کہتاہوں یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں ۔ یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنائی ہے یعنی چندہ وغیرہ مال غیر سے نہیں۔ ائمہ اہل سنت جن کا عقیدہ ہے کہ صفات الہیہ عین ذات نہیں ، اللہ عزوجل کے علم وقدرت وسمع وبصر وارادہ وکلام وحیات کو اس کی صفت ذاتی کہتے ہیں ۔
حدیقہ ندیہ میں ہے :
اعلم بان الصفات التی ھی لاعین الذات ولا غیرھا انما ھی الصفات الذاتیۃ ۱الخ۔
بیشک وہ صفات جو اللہ تعالٰی کے نہ عین اورنہ غیر ہیں ،صرف وہ ذاتی صفات ہیں۔ (ت)
(۱ الحدیقۃ الندیۃ الباب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۲۵۴)
علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف رسالہ ''تعریفات''میں فرماتے ہیں :
الصفات الذاتیۃ ھی مایوصف اللہ تعالٰی بھا ولا یوصف بضدھا نحو القدرۃ والعزۃ والعظمۃ وغیرھا۲۔
ذاتی صفات وہ ہیں جن سے اللہ تعالٰی موصوف ہے اوران کی ضد سے موصوف نہیں جیسے قدرت ، عزت، عظمت وغیرہا۔(ت)
وجوب ذاتی وامتانع ذاتی وامکان ذاتی کا نام حکمت وکلام وفلسفہ وغیرہا میں سنا ہوگا یعنی
ان الذات تقتجی لذاتھا الوجود او العدم
(یعنی بلاشبہ ذات اپنی ذات کے اعتبارسے وجود یا عدم کا تقاضا کرتی ہے ۔ ت)
اولاً : ان میں کوئی بھی اپنے موصوف کا نہ عین ذات ہے نہ جزء بلکہ مفہومات اعتبار یہ ہیں جن کےلئے خارج میں وجود نہیں کام حقق فی محلہ (جیسا کہ اس کے محل میں اس کی تحقیق کردی گئی ہے ۔ ت)یونہی اصلین اعنی علم کلام وعلم اصول فقہ میں افعل کے حسن ذاتی وقبح ذاتی کا مسئلہ اورا سمیں ہمارے آئمہ ماتریدیہ کا مذہب سنا ہوگا حالانکہ بداہۃً حسن وقبح نہ عین فعل ہیں نہ جزء فعل۔
محقق علی الاطلاق تحریر الاصول میں فرماتے ہیں :
مما اتقفقت فیہ العراض والعادات واستحق بہ المدح والذم فی نظر العقول جمیعا لتعلق مصالح الکل بہ لا یفید بل ھو المراد بالذاتی للقطع بان مجرد حرکۃ الید قتلا ظلما لاتزید حقیقتہا علی حقیقتہاعدلا ، فلو کان الذاتی مقتضی الذات اتحد لازمھما حسنا وقبحا ، فانما یراد (ای بالذاتی ) ما یجزم بہ العقل لفعل من الصفۃ بمجرد تعقلہ کائناعن صفۃ نفس من قام بہ فباعتبارھا یوصف بانہ عدل حسن اوضدہٖ ۱اھ
جس میں اغراض وعادات متفق ہوں اوراس کے سبب سے مدح وذم کا استحقاق ہوکیونکہ سب کے مصالح اس سے متعلق ہیں یہ قول غیر مفید ہے بلکہ ذاتی سے مراد وہی ہے ، اس لئے کہ یہ بات قطعی ہے کہ قتل کے لئے بطور ظلم محض حرکت یدکی حقیقت بطور عدل اس کی حرکت کی حقیقت سے زائد نہیں ۔ اگر ذاتی مقتضائے ذات ہوتا تو ان دونوں کا لازم حسن وقبح کے اعتبار سے متحدہوجاتا کیونکہ ذاتی سے مراد وہ ہے کہ عقل اس کے ساتھ جزم کرے کسی فعل کے لئے صفت سے ، محض اس کے متعقل ہونے کی وجہ سے اس ذات کی صفت سے جس کے ساتھ وہ قائم ہے اسی کے اعتبار سے اس کو عدل وحسن یا اس کی ضد کے ساتھ متصف کیا جاتاہے اھ (ت)
(۱تحریر الاصول المقالۃ الثانیہ الباب الاول الفصل الثانی مصطفی البابی مصر ص ۲۲۵و۲۲۶)
ثانیاً :
ذاتی میں یائے نسبت ہے ، ذاتی منسوب بہ ذات اورمتغائرین میں ہراضافت مصح نسبت جو چیز دوسرے کی طرف مضاف ہوگی وہ ضرور اس کی طرف منسوب ہوگی کہ اضافت بھی ایک نسبت ہی ہے ، تو جب نور ذات کہنا صحیح ہے تو نور ذاتی کہنا بھی قطعاً صحیح ہوگا ورنہ نسبت ممتنع ہوگی تو نورذات کہنا بھی باطل ہوجائے گا ھذا خلف۔