Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
187 - 212
خامساً :
ہماری تقریرسے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضور خود نو رہیں تو حدیث مذکور میں نور بنیک کی اضافت بھی من نورہٖ کی طرح بیانیہ ہے ۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اظہار نعمت الٰہیہ کے لئے عرض کی
واجعلنی نوراً۳؂
 (اوراے اللہ !مجھے نور بنادے ۔ ت)
 (۳؂الخصائص الکبرٰی باب الآیۃ فی انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۶۸)
اور خود رب العزۃ عزجلالہ، نے قرآن عظیم میں ان کو نور فرمایا:
قد جاء کم من اللہ نور وکتاب مبین۱؂۔
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نورآیا اورروشن کتاب۔ (ت)
(۱؂القرآن الکریم ۵/۱۵)
پھر حضور کے نور ہونے میں کیا شبہ رہا ۔
اقول :
اگر نور نبیک میں اضافت بیانیہ نہ لوبلکہ نور سے وہی معنی مشہور یعنی روشنی کہ عرض وکیفیت ہے مراد لو تو سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اول مخلوق نہ ہوئے بلکہ ایک عرض وصفت ، پھر وجود موصوف سے پہلے صفت کا وجود کیونکر ممکن؟ لاجرم حضور ہی خود وہ نور ہیں کہ سب سے پہلے مخلوق ہوا۔
فلاحاجۃ الی ماقال العلامۃ الزرقانی رحمہ اللہ من انہ لایشکل بان النور عرض لایقوم بذاتہ لان ھذا من خرق العوائد۲؂ اھ  ورأیتنی کتبت یلیہ لم لایقال فیہ کما ستقولون فی قرینہ من نورہٖ ان الاضافۃ بیانیۃ۔ اھ۔
تو اب علامہ زرقانی کے اس قول کی حاجت نہ رہی اوریہ اعتراض نہ کیا جائے کہ نور عرض ہے ، قائم بذاتہٖ نہیں ہے کیونکہ یہ خرق عادت ہے ۔ میں نے اس پر لکھا کہ یہ اعتراض کیوں نہ کیاجائے کہ آپ من نورہٖ میں اضافت بیانیہ نہیں مانتے ۔
 (۲؂ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۶)
اقول : خرق العوائد لاکلام فیہ والقدرۃ متسعۃ ولکن وجود الصفۃ بدون الموصوف مما لا یعقل لانہا ان قامت بغیرہ لم تکن صفۃ لہ بل لغیرہ او بنفسھا لم تکن صفۃ اصلا اذا لا صفۃ الا المعنی القائم بیرہ فاذا قام بنفسہ لم یکن صفۃ وعرضابل جوھرا وکونہ عرضا مع قیامہ بنفسہ جمع للضدین والقدرۃ تعالیۃ عن التعلق بالمحالات العقلیۃ و وزن الاعمال بمعنی وزن الصحف والبطاقات کما فی حدیث احمد والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وصححہ وابن مردویۃ واللا لکلائی والبیہقی فی البعث عن عبداللہ بن عمرو بان عاص رضی اللہ تعالٰی عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  : "ان اللہ سیخلص رجلاً من امتی علی رأس الخلائق یوم القیٰمۃ فینشر علیہ تسعۃ وتسعین سجلا کل سجل مثل مدالبصر ثم یقول اتنکر من ھذا شیئا اظلمک کتبتی الحافظون فیقول لا یارب ، فیقول  افلک عذر ،قال لا یا رب ۔فیقول بلٰی ان لک عندنا حسنۃ وانہ لاظلم علیک الیوم فتخرج بطاقۃ فیہا اشہد ان لاالٰہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ فیقول احضر وزنک ۔ فیقول یارب ماھٰذہ البطاقۃ مع ھذہ السجلات، فیقول انک لاتظلم ۔ قال فتوضع السجلات فی کفۃ والبطاقۃ فی کفۃ فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ فلا یثقل مع اسم اللہ شیئ ۱؂۔
اقول : (میں (احمد رضا خاں)کہتاہوں)کہ خرق عادت میں تو کوئی کلام نہیں اورخدا کی قدرت بہت وسیع ہے لیکن صفت کا وجود بغیر موصوف کے سمجھ میں نہیں آسکتا (کیونکہ ایسی صفت کی دو ہی صورتیں ہیں)موصوف کے غیر کے ساتھ قائم ہوت وموصوف کی صفت نہ ہوگی بلکہ غیر کی ہوگی اوراگر قائم بنفسہا ہوتو صفت ہی نہ ہوئی کیونکہ صفت کہتے اسے ہیں جو غیر کے ساتھ قائم ہو، جب وہ قائم بنفسہا ہوتو وہ نہ صفت ہوئی اورنہ ہی عرض بلکہ جو ہر ہوئی اوریہ (کہنا )کہ عرض اور قائم بنفسہٖ بھی ہے تو یہ اجتماع ضدّین لازم آتاہے (اوراجتماع ضدین باطل ہے )اور قدرت الٰہیہ محالات عقلیہ سے متعلق نہیں ہوتی وزن اعمال (جو کہاجاتاہے )بایں معنٰی ہے کہ کاغذ اورصحیفے تو لے جائینگے جیسے کہ حدیث میں آیا ہے جسے احمد، ترمذی، ابن حبان ، حاکم نے صحیح قراردیاہے ۔ ابن مردویہ ، امام لالکائی اوربیہقی نے قیامت کی بحث میں عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی میری امت میں سے ایک شخص کو چن لے گا، پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے اور ہر رجسٹر حد نگاہ تک ہوگا، پھر اسے کہا جائے گا تو اس سے انکار کرتا ہے یا میرے فرشتوں (کراماً کاتبین ) نے تم پر ظلم کیاہے ؟وہ کہے گا:اے میرے رب ! نہیں ۔ اللہ فرمائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟بندہ کہے گا : نہیں ۔ اللہ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے ، آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ پھر ایک کاغذ نکالاجائے گا جس پرکلمہ شہادت لکھاہوگا۔ اللہ فرمائے گا : جا اس کا وزن کرا۔ بندہ عرض کرے گا کہ ان رجسٹروں کے سامنے اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے ۔ اللہ فرمائے گا تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر ایک پلڑے میں ننانوے رجسٹر رکھے جائیں گے اوردوسرے میں وہ کاغذ (جس پرکلمہ شریف لکھا ہوگا)چنانچہ رجسٹروں کا پلڑا ہلکا ہوگا اور کاغذ کا بھاری ، اوراللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔(ت)
(۱؂جامع الترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی من یموت وھو یشہد الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۸۸)

( المستدرک للحاکم کتاب الایمان فضیلۃ الشہادۃ لاالہ الا اللہ دارالفکر بیروت ۱ /۶)

(مواردالظماٰن الی زوائد ابن حبان حدیث ۲۵۲۳المطبعۃ السلفیۃ ص۶۲۵)

(کنزالعمال حدیث ۱۰۹و۱۴۲۱   مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ /۴۴و۲۹۶)

(سنن ابن ماجۃ ابواب الزہد باب مایرجٰی من رحمۃ اللہ یوم القیٰمۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۸)

( مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت   ۲ /۲۱۳)
بالجملہ حاصل حدیث شریف یہ ٹھہرا کہ اللہ تعالٰی نے محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات پاک کو اپنی ذات کریم سے پیدا کیا یعنی عین ذات کی تجلی بلاواسطہ ہمارے حضور ہیں باقی سب ہمارے حضور کے نور وظہور ہیں ،
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وکرم۔ واللہ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter