Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
186 - 212
اس تقریر منیر سے مقاصدِ مذکورہ کے سِوا چند فائدے اورحاصل ہوئے :
اولاً :
یہ بھی روشن ہوگیا کہ تمام عالم نور محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کیونکر بنا۔ بے اس کے کہ نور حضور تقسیم ہوا یا اس کا کوئی حصہ این وآں بنا ہو۔ اوریہ کہ وہ جو حدیث میں ارشاد ہوا کہ پھر اس نور کے چار حصے کئے ، تین سے قلم ولوح وعرش بنائے ، چوتھے کے پھر چار حصے کئے الی آخرہٖ، یہ اس کی شعاوں کا انقسام جیسے ہزار آئینوں میں آفتاب کا نور چمکے تو وہ ہزار حصوں پر منقسم نظرآئے گا ، حالانکہ آفتاب منقسم نہ ہوا نہ اس کا کوئی حصہ آئینوں میں آیا۔
واند فع مااستشکلہ العلامۃ الشبراملسی ان الحقیقۃ الواحدۃ لاتنقسم ولیست الحقیقۃ المحمدیہ الا واحدۃ من تلک الاقسام والباقی ان کان منہا ایضا فقد اقسمت وان کان غیرھا فما معنی الا قسام وحاول الجواب وتبعہ فیہ تلمیذہ العلامۃ الزرقانی بان المعنی انہ زادفیہ ''لا انہ قسم ذٰلک النور الذی ھو نور المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا الظاھر انہ حیث صورہ بصورۃ مما ثلۃ لصورۃ التی سیصیر علیھما لایقسمہ الیہ والٰی غیرہ۲؂ اھ۔ ''
اس (مذکورہ بالا تقریرسے )علامہ شبر املسی کا اعتراض ختم ہوا(اعتراض)حقیقۃ واحدہ تقسیم نہیں ہوتی کیونکہ حقیقت محمدیہ ان اقسام میں ایک قسم ہے ، اوراگر باقی اقسام اسی (حقیقت)سے ہیں تو یہ حقیقت تقسیم ہوگئی اوراگر باقی چیزیں اس حقیقت کی غیر ہیں تو انقسام کا کیا مطلب، پھر انہوں نے (علامہ شبر املسی )نے خود ہی جواب دیا اورعلامہ زرقانی شاگرد رشید علامہ شبراملسی نے ان کی اتباع کی۔ (جواب) حقیقت یہ ہے کہ الہ نے اس میں اضافہ کیا نہ کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور کو تقسیم کیا کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ اللہ نے ان کو ایک ایسی صورت مثالی عطا کی جس پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تخلیق ہونی تھی تو اسے تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
(۲؂ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاو ل دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۶)
وحاصل جوابہ کما قررۃ تلمیذہ العیاشی وان معنی الانقسام زیادۃ نور علی ذٰلک النور المحمدی فیؤخذ ذٰلک الزائد ثم یزادعلیہ نوراٰخر ثم کذٰلک الی اٰخر الاقسام ، قال العیاشی وھذا جواب مقنع بحسب الظاھر والمتحقیق واللہ تعالٰی اعلم  وراء ذٰلک اھ ۱ ؎ ثم ذکر مانقلنا عنہ اٰنفاوراأیتنی کتبت علی ھامش الزرقانی مانصہ۔
ان کے جواب کا خلاصہ جسے ان کے شاگرد علامہ عیاشی نے بیان کیا ہے کہ انقسام کا معنٰی نور محمدی اپر اضافے کے ہیں، پھر اس زائد کو لے لیا اس پر ایک دوسرے نور کا اضافہ کیا۔ اسی طرح آخری تقسیم تک سلسلہ جاری رہا۔
عیاشی نے کہا کہ ظاہر کے لحاظ سے یہ جواب کافی ہے اورتحقیق اس کے علاوہ اللہ جانتاہے اھ ۔ پھر اس نے وہی ذکر کیا جو ابھی ہم نے اس سے نقل کیاہے ۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے زرقانی پر حاشیہ لکھا جس کی نص یہ ہے ۔
اقول : تبع فیہ شیخہ الشبرملسی الحق انہ لا معنی لہ فانہ اذن لایکون التخلیق من نورہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وھو خلاف المنصوص والمراد۲؂اھ
اقول: (میں (احمد رضا خاں)کہتاہوں)کہ اس (عیاشی)نے اس مسئلہ میں اپنے شیخ شبراملسی کی پیروی کی لیکن حق یہ ہے کہ یہ ایک بے معنٰی بات ہے کیونکہ اس صورت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے تخلیق نہ ہوگی ، یہ نص اورماد کے خلاف ہے ۔
 (۲؂حاشیۃ امام احمد رضا علی شرح الزرقانی )
اقول : ویمکن الجواب بان المراد انہ تعالٰی کساہ شعاعا اکثرمما کان ثم فصل من شعاعہ شیئا فقسمہ کما تأخذہ الملٰئکۃ شیئا من الا شعۃ المحیطۃ بالکواکب فترمی بہ مسترقی السمع ویقال بذٰلک ان النجوم لھا رجوم  ولٰکن منح المولٰی تعالٰی من ذٰلک التقریر المنیر ما اغنی عن کل تکلف وللہ الحمد وقد کان منح للعبد الضعیف ثم رأیت فی شرح العشماوی جزاہ اللہ تعالٰی عنی وعن المسلمین خیراً کثیرًا اٰمین!
اقول: (میں کہتاہوں )اس کا جواب یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ نے آپ کے نور کو پہلی شعاع سے زائد شعاع عطا کی پھر اس سے کچھ جدا کیا، پھر اس کی تقسیم کی جیسے فرشتے ان شعاعوں میں سے جو ستاروں کو محیط ہیں، لے کر چھپ کر سننے والے شیطانوں کو مارتے ہیں اس لئے کہا جاتاہے کہ نجوم کے لئے رجوم ہے ۔ اس روشن تقریر سے مولٰی تعالٰی نے ہر تکلیف سے بے نیازی عطافرمائی ۔ اورتمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے یہ تقریر اس عبدضعیف کو القاء فرمائی پھر میں نے اس کو عشماوی کی شرح میں دیکھا۔ اللہ تعالٰی میری طرف سے اورتمام مسلمانوں کی طرف سے انکو بہت زیادہ جزاء خیر عطافرمائے ۔ آمین ۔(ت)
ثانیاً اقول:
(میں کہتاہوں ) اس کا جواب یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ نے آپ کے نور کو پہلی شعاع سے زائد شعاع عطا کی پھر اس سے کچھ جدا کیا، پھر اس کی تقسیم کی جیسے فرشتے ان شعاعوں میں سے جو ستاروں کو محیط ہیں، لے کر چھپ کر سننے والے شیطانوں کو مارتے ہیں اس لئے کہا جاتاہے کہ نجوم کے لئے رجوم ہے ۔ اس روشن تقریر سے مولٰی تعالٰی نے ہر تکلیف سے بے نیازی عطافرمائی ۔ اورتمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے یہ تقریر اس عبدضعیف کو القاء فرمائی پھر میں نے اس کو عشماوی کی شرح میں دیکھا۔ اللہ تعالٰی میری طرف سے اورتمام مسلمانوں کی طرف سے ان کو بہت زیادہ جزاء خیر عطافرمائے ۔ آمین ۔(ت)

یہ شبہ بھی دفع ہوگیا کہ خلق میں کفار ومشرکین بھی ہیں ، وہ محض ظلمت ہیں تو نور مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کیونکر بنے اورنرے نجس ہیں تو اس نور پاک سے کیونکر مخلوق مانے گئے ۔ وجہ اند فاع ہماری تقیر سے روشن ، ظلمت ہو یا نور ، جس نے خلعت وجود پایاہے اس کے لئے تجلی آفتاب وجود سے ضرور حصہ ہے اگرچہ نورنہ ہو صرف ظہور ہوکما تقدم (جیساکہ آگے آئے گا۔ ت)اورشعاع شمس ہر پاک وناپاک جگہ پڑتی ہے وہ جگہ فی نفسہٖ پاک ہے اس سے دھوپ ناپاک نہیں ہوسکتی۔
ثالثاً  اقول:
یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ جس طرح مرتبہ وجود میں سرف ایک ذات حق ہے باقی سب اسی کے پر تو وجود سے موجود ، یونہی مرتبہ ایجاد میں صرف ایک ذات مصطفٰی ہے باقی سب پراسی کے عکس کا فیضان وجود، مرتبہ کون میں نور احدی آفتاب ہے اورتمام عالم اس کے آئینے اور مرتبہ تکوین میں نور احمدی آفتاب ہے اورساراجہان اس کے آبگینے ، وفی ھذا اقول (اوراسی سلسلہ میں میں کہتاہوں ): ؎
خالق کل الورٰی ربک لاغیرہ 

نورک کل الورٰی غیرک لم لیس لن

ای لم یوجد ولیس موجود اولن یوجدابدا۔۱؂
 (کل مخلوق کا پیدا کرنے والا آپ کا رب ہی ہے ، آپ ہی کا نور کل مخلوق ہے اورآپ کا غیر کچھ بھی نہ تھا، نہ ہے ، نہ ہوگا۔ ت)
(۱؂بستان الغفران مجمع بحوث الامام احمد رضا کراچی ص۲۲۳)
رابعاً اقول :
نور اَحَدی تو نوراحدی ، نور احمدی پر بھی یہ مثال منیر مثال چراغ سے احسن و اکمل ہے ، ایک چراغ سے بھی اگرچہ ہزاروں چراغ روشن ہوسکتے ہیں بے اس کے کہ ان چراغوں میں اس کا کوئی حصہ آئے مگر دوسرے چراغ صرف حصول نو ر میں اسی چراغ کے محتاج ہوئے ، بقاء میں اس سے مستغنی ہیں، اگر انہیں روشن کر کے پہلے چراغ کو ٹھنڈا کر دیجئے ان کی روشنی میں فرق نہ آئے گا نہ روشن ہونے کے بعد ان کو اس سے کوئی مدد پہنچ رہی ہے مع ہذا کسب نور کے بعد ان میں اوراس چراغ اول میں کچھ فرق نہیں رہتاسب یکساں معلوم ہوتے ہیں بخلاف نور محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ عالم جس طرح اپنی ابتدائے وجود میں اس کا محتاج تھا کہ وہ نہ ہوتا تو کچھ نہ بنتا یونہی ہر شے اپنی بقا میں اس کی دست نگر ہے ، آج اس کا قدم درمیان سے نکال لیں تو عالم دفعۃً فنائے محض ہوجائے ؎

وہ جو نہ تھے کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے۱؂
 (۱؂حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی حصہ دوم ص۷۹)
نیزجس طرح ابتدائے وجود میں تمام جہان اس سے مستفیض ہوا بعد وجود بھی ہر آن اسی کی مدد سے بہرہ یاب ہے ، پھر تمام جہان میں کوئی اس کے مساوی نہیں ہوسکتا ۔ یہ تینوں باتیں مثال آفتاب سے روشن ہیں، آئینے اس سے روشن ہوئے اورجب تک روشن ہیں اسی کی مددپہنچ رہی ہے اورآفتاب سے علاقہ چھوٹتے ہیں فوراً اندھیرے ہیں پھر کتنے ہی چمکین سورج کی برابری نہیں پاتے ۔ یہی حال ایک ذرہ عالم عرش وفرش اورجو کچھ ان میں ہے اوردنیاوآخرت اوران کے اہل اورانس وجن وملک وشمس وقمر وجملہ انوار ظاہر وباطن حتی کہ شموس رسالت علیہم الصلٰوۃ والتحیۃ کا ہمارے آفتاب جہاں تاک بعالم مآب علیہ الصلٰوۃ والسلام من الملک الوہاب کے ساتھ ہے کہ ہر ایک ایجاد امداد وابتداء وبقاء میں ہر حال ، ہر آن ان کا دست نگر ، ان کا محتاج ہے وللہ الحمد (اورسب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں ۔ ت) ؎

امام اجل محمد بوصیری قدس سرہ، ام القرٰی میں عرض کرتے ہیں : ؎
کیف ترقٰی رقیک الانبیاء             		یاسماء ماطاولتہا سماء ،

لم یساووک فی علاک وقدحا		             ل سنا منک دونھم وسناء ،

انما مثلوا صفاتک للنا 	      	س کما مثل النجوم الماء ۲؂،
 (یعنی انبیاء حضور کی سی ترقی کیونکر کریں ، اے وہ آسمان رفعت جس سے کسی آسمان نے بلندی میں مقابلہ نہ کیا ، انبیاء حضور کے کمالات عالیہ میں حضور کے ہمسر نہ ہوئے ، حضور کی جھلک اوربلندی نے ان کو حضور تک پہنچنے سے روک دیا، وہ توحضور کے صفتوں کی ایک شبیہ لوگوں کو دکھاتے ہیں جیسے ستاروں کا عکس پانی دکھاتاہے ۔)
 (۲؂ام القرٰی فی مدح خیرالورٰی الفصل الاول حزب القادریۃ لاہور ص۶)
یہ وہی تشبیہ وتقریر ہے جو ہم نے ذکر کی ، وہاں ذات کریم وافاضہ انوار کا ذکر تھا لہذا آفتاب سے تمثیل دی، یہاں صفات کریمہ کا بیان ہے لہذا ستاروں سے تشبیہ مناسب ہوئی ۔
مطالع المسرات میں ہے :
 اسمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم محی حیٰوۃ جمیع الکون بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فھو روحہ وحٰیوتہ وسبب وجودہٖ وبقائہٖ۱؂۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک محی ہے ، زندہ فرماتے والے ، اس لئے کہ سارے جہان کی زندگی حضورسے ہے تو حضور تمام عالم کی جان وزندگی اوراس کے وجود وبقاء کے سبب ہیں۔
 (۱؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۹۹)
اسی میں ہے :
ھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روح الاکوان وحیاتہا وسروجودھا ولولاہ لذھبت وتلاشت کما قال سید عبدالسلام رضی اللہ تعالٰی عنہ ونفعنا بہ ولا شیئ الا ھو بہ منوط اذلولا الواسطۃ لذھب کما قیل الموسوط۲؂۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تمام عالم کی جان وحیات وسبب وجود ہیں حضور نہ ہوں تو عالم نیست ونابود ہوجائے کہ حضرت سیدی عبدالسلام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ عالم میں کوئی ایسا نہیں جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ نہ ہو، اس لئے کہ واسطہ نہ رہے تو جو اس کے واسطہ سے تھا آپ ہی فنا ہوجائے ۔
 (۲؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۶۳)
ہمزیہ شریف میں ارشاد فرمایا : ؎
کل فضل فی العٰلمین فمن فضل

النبی استعارۃ الفضلاءٖ۳؂
(جہان والوں میں جو خوبی جس کسی میںہے وہ اس نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فضل سے مانگے کرلی ہے ۔)
 (۳؂ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل السادس حز ب القادریۃ لاہور ص۱۹)
امام ابن حجر مکی افضل القرٰی میں فرماتے ہیں :
  لانہ الممدلھم اذھو الوارث للحضرۃ الا لٰہیۃ والمستمد منہا بلا واسطۃ دون غیرہ فانہ لایستمد منہا الا بواسطتہ فلا یصل لکامل منہا شیئ الا وھو من بعض مددہ وعلٰی یدیہ۱؂۔
تمام جہان کی امداد کرنے والے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اس لئے کہ حضور ہی بارگاہ الٰہی کے وارث ہیں بلاواسطہ خدا سے حضور ہی مدد لیتے ہیں اورتمام عالم مدد الٰہی حضور کی وساطت سے لیتاہے تو جس کامل کو خوبی ملی وہ حضور ہی کی مدد اورحضور ہی کے ہاتھ سے ملی ۔
 (۱؂افضل القرٰی لقراء ام القری (شرح ام القرٰی))
شرح سیدی عشماوی میں ہے :
  نعمتان ماخلا موجود عنہما نعمۃ الا یجاد ونعمۃ الامداد وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الواسطۃ فیھما اذلو لاسبقۃ وجودہ ماوجد موجود ولو لا وجود نورہ فی ضمائر الکون لتھد مت دعائم الوجود فھو الذی وجد اولا ولہ تبع الوجود وصار مرتبطابہ لااستغناء لہ عنہ۲؂۔
کوئی موجود ،دو نعمتوں سے خالی نہیں ، نعمت ایجاد ونعمت امداد۔ اوران دونوں میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہی واسطہ ہیں کہ حضور پہلے موجود نہ ہولیتے تو کوئی چیز وجود نہ پاتی اور عالم کے اندر حضور کا نور موجود نہ ہوتو وجود کے ستون ڈھے جائیں تو حضور ہی پہلے موجود ہوئے اورتمام جہان حضور کا طفیلی اورحضور سے وابستہ ہوا جسے کسی طرح حضور سے بے نیازی نہیں۔
 (۲؂شرح مقدمۃ العشماوی)
ان مضامین جمیلہ پر بکثرت ائمہ وعلماء کے نصوص جلیلہ فقیر کے رسالہ
''سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی ''
میں ہیں ، وللہ الحمد۔
Flag Counter