Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
185 - 212
سید ی ابو سالم عبداللہ عیاشی ، ہم استاذ علامہ محمد زرقانی تلمیذ علامہ ابوالحسن شبراملسی اپنی کتاب ''الرحلہ''پھر سید ی علامہ عشماوی رحمہم اللہ تعالٰی جمیعاً ''شرح صلاۃ''حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں :
انما یدرکہ علی حقیقتہ من عرف معنی قول تعالی  :
اللہ نور السمٰوٰت والارض
وتحقیق ذٰلک علی ماینبغی لیس مما یدرک ببضاعۃ العقول ولا مما تسلط علیہ الاوھام وانما یدرک بکشف الٰھی واشراق حقہ من اشعۃ ذٰلک النور فی قلب العبد فیدرک نوراللہ بنورہ واقرب تقریر یعطی القرب من فھم۔
اس کا ادراک حقیقۃً وہی شخص کرسکتاہے جو اللہ تعالٰی کے ارشاداللہ نورالسمٰوٰت والارض کا معنی جانتاہے کیونکہ وہم او رعقل کے ذرائع اس کا حقیقی ادراک نہیں کرسکتے ، اس کو توصرف بندے کے دل میں اس نور کو اللہ تعالٰی کی عطاکردہ شعاؤں سے ہی سمجھا جاسکتاہے ، پس ''نوراللہ''کو اس نور ہی کے ذریعے سے سمجھا جاسکتاہے ۔
معنی الحدیث انہ لما کان النور المحمدی اول الانوار الحادثۃ التی تجلی بھا النور القدیم الازلی وھو اول التعینات للوجود المطلق الحقانی وھو مدد کل نور کائن اویکون وکما اشرق النور الاول فی حقیقتہ فتنورت بحیث صارت ھو نورا  اشرق نورہ المحمدی علی حقائق الموجودات شیئافشیئا فہی تستمد منہ علی قدر تنورھا بحسب کثرۃ الوسائط وقلتہا وعدمہا وکلما اشرق نورہ علی نوع من انواع الحقائق ظہر النور فی مظہر الاقسام فقد کان النور الحادث اولا شیئا واحد اثم اشرق فی حقیقۃ اخری فاستنارت بنورہ تنورا کاملا یحسب ما تققتضیہ حقیقتہا فحصل فی الوجود الحادث نوران  مفیض ومفاض وفی نفس الامر لیس ھناک الا نورا  واحدا اشرق فی قابل الاستنارۃ یتنوربتعددات المظاھر والظاھر واحدثم کذٰلک کلما اشرق فی محل ظھر بصورۃ الانقسام وقد یشرق نور المفاض علیہ ایضاً بحسب قوتہٖ علی قوابل اخر فتنوربنورہ فیحصل انقسام اخر بحسب المظاھر وکلہا راجعۃ الی النور الا ول الھادث اما بواسطۃ او بدونھا۔
حدیث کے معنٰی کو سمجھنے کے لئے قریب ترین یہ ہے کہ نو رمحمدی جب قدیم اورازلی نور کی پہلی تجلی ہے تو کائنات میں بھی اللہ تعالٰی کے وجود کا وہی سب سے پہلا مظہر ہے اوروجود میں آنے والے تمام نوروں کی اصل قوت ہے ۔ جب یہ نو راول چمکا اورمنور ہوا تو اس نور محمدی نے تمام موجودات پر درجہ بدرجہ اپنی چمک ڈالی تو بلاواسطہ یا واسطوں کی کمی بیشی کے اعتبار سے ہر چیز اپنی استعداد کے مطابق چمک اٹھی اورتما م حقائق واقسام اس نور کی چمک سے اس کے مظہر بن گئے ، یوں وجود میں آنے والا پہلا نور ایک تھا لیکن ا سکی چمک سے دوسرے حقائق بھی اپنی حقیقت کے مطابق اس نور سے منور ہوتے چلے گئے اورکائنات میں نور در نور بن گئے جبکہ وجود میں نور کی سرف دو ہی قسمیں ، ایک فیض دینے والا اور دوسرا فیض پانے والا، حالانکہ نفس الامری حقیقت میں یہ دونوں نور ایک ہی ہیں، یہ ایک حقیقی نور ہی قابل اشیاء مین چمک پیدا کرکے متعدد مظاہر میں ہوتاہے اورتمام اقسام میں ہر قسم کی صورت میں چمکتاہے اسی طرح فیض یافتہ نور بھی اپنی استعداد کے مطابق دوسری قابل اشیاء میں چمک پیدا کر کے ان کو منور کرتاہے جس سے مزید مظاہرات کی اقسام حاصل ہوتی ہیں جبکہ یہ تمام انوار بالواسطہ یا بلاواسطہ سب سے پہلے نور سے ہی مستفیض ہیں۔
قال وھذا غایۃ ما اتصل الیہ العبارۃ فی ھذا التقریر ومثل فی قصر باعہ وعدم تضلعہ من العلوم الا لٰھیۃ ان زاد فی التقریر خشی علی واقرب مثال یضرب لذٰلک نور المصباح تصبح منہ مصابیح کثیرۃ وھو فی نفسہ باق علی ما ھوا علیہ لم ینقص منہ شیئ واقرب من ھذا المثال الی التحقیق وابعد عن الافھام نورالشمس المشرق فی الاھلۃ والکواکب علی القول بان الکل مستنیر بنورہ ولیس لہا نور من ذاتھا فقد یقال بحسب النظر الاول ان نور الشمس منقسم فی ھذہ الاجرام العولیۃ وفی الحقیقۃ لیس ھذا  الا نور ھا وھو قائم بھا لم ینقص منہ شیئ ولم یزایلہا منہ شیئ ولٰکنہ اشرق فی اجرام قابلۃ الاستنارۃ فاستنارت ۔
اس تقریر کے لئے یہ انتہائی محتاط عبارت ہے جو علوم الٰہیہ کے موافق ہے ، اس سے زائد عبارت خطرناک ہوسکتی ہے ۔ اس تقریر کی مناسب مثال وہ چراغ ہے جس سے بے شمار چراغ روشن ہوئے ، اس کے باوجود وہ اپنی اصل حالت پر باقی ہے اوراس کے نور میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ، مزید واضح مثال سورج ہے جس سے تمام سیارے روشن ہیں جن کا اپناکوئی نور نہیں ہے ۔ بظاہر یوں معلوم ہوتاہے کہ سورج کا نوران سیاروں میں منقسم ہوگیا ہے جبکہ فی الواقع ان سیاروں میں سورج ہی کا نور ہے جو سورج سے نہ تو جدا ہوا اورنہ ہی کم ہوا، سیارے تو صرف اپنی قابلیت کی بناپر چمکتے ہیں اورسورج کی روشنی سے منور ہوئے ۔
واقرب من ھذا الالفھم مایحصل فی الاجرام السفلیۃ من اشراق اشعۃ الشمس علی الماء اوقوار الزجاج فیستنیر مایقابلہا من الجدران بحیث یلمح فیہا نور کنور الشمس مشرق باشراقہ ولم ینفصل شیئ من نور المشس عن محلہ الی ذٰلک المحل ومن کشف اللہ حجاب الغفلۃ عن قلبہ واشرقت الانوار المحمدیۃ علی قلبہ یصدق اتباعہ لہ ادرک الامر ادراکا اخر لا یحتمل شکا ولا وھما۔
مزید سمجھ کے لئے پانی اورشیشے پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں کو دیکھا جائے جن کا عکس پانی یا شیشے کے بالمقابل دیوار پر پڑتاہے جس سے دیوار روشن ہوجاتی ہے ، دیوار پر یہ روشنی سورج ہی کا نور ہے جو بالواسطہ دیوار پر پڑاکیونکہ براہ راست دیوار پر سورج کا نہیں پڑا اورنہ ہی یہ نور سورج سے جداہوا ، اس کے باوجود یہ نور سورج کا ہی ہے ، جب اللہ تعالٰی کسی کے قلب کو حجاب غفلت سے پاک کرتاہے اوروہ دل انوار محمدیہ سے منور ہوتاہے تو پھر اس کا ادراک ایسا کامل ہوتاہے کہ اس میں شک اوروہم کا احتمال نہیں ہوتا۔
نسأل اللہ تعالٰی ان ینوربنورالعلم الالٰھی بصائر نا ویحجب عن ظلمات الجل سرائرنا ویغفرلنا ما اجترأنا علیہ من الخوض فیما لسنالہ باھل ونسألہ ان لایؤاخذنا بما تقتضیہ العبارۃ من تقصیر فی حق ذٰلک الجناب۱؂ اھ مختصراً۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہماری بصیر ت کو اپنے علم کے نور سے منور فرمائے اورہمارے باطن کو جہالت کے اندھیروں سے محفوظ فرمائے ،اورجن امورمیں ہم غور کرنے کے اہل نہیں ان پر ہماری جسارت کو معاف فرمائے اوراس جناب میں ہماری کی کوتاہیوں پر مواخذہ نہ فرمائے آمین !اھ مختصراً (ت)
 (۱؂ الرحلۃ لعلی بن علی الشبر املسی)
Flag Counter