Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
184 - 212
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی ، مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :
انبیاء مخلوق انداز اسمائے ذاتیہ حق واولیاء از اسمائے صفاتیہ وبقیہ کائنات از صفات فعلیہ وسید رسل مخلو ق است از ذات حق وظہور حق دروے بالذات است۳؂۔
انبیاء اللہ کے اسماء ذاتیہ سے پیداہوائے اوراولیاء اسمائے صفاتیہ سے ، بقیہ کائنات صفات فعلیہ سے ، اورسید رسل ذات حق سے ، اور حق کا ظہور آپ میں بالذات ہے ۔ (ت)
 (۳؂مدارج النبوۃ تکملہ درصفات کاملہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۶۰۹)
ہاں عین ذاتِ الٰہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذاللہ ذاتِ الٰہی ذاتِ رسالت کیلئے مادہ ہے جیسے مٹی سے انسان پیداہو، یا عیاذاً باللہ ذات الٰہی کا کوئی حصہ یا کُل ، ذاتِ نبی ہوگیا۔ اللہ عزوجل حصے اورٹکڑے اورکسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شَئے میں حلول فرماتے سے پاک ومنزہ ہے ۔ حضو رسیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی شے جزء ذاتِ الٰہی خواہ کسی مخلوق کو عین ونفس ذاتِ الٰہی ماننا کفر ہے ۔
اس تخلیق کے اصل معنی تو اللہ ورسول جانیں ، جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عالم میں ذاتِ رسول کو تو کوئی پہچانتا نہیں ۔ حدیث میں ہے :
 یا ابابکر لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی ۱؂۔
اے ابُوبکر!مجھ جیسا میں حقیقت میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ جانا۔
 (۱؂مطالع المسرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آبادص۱۲۹)
ذاتِ الٰہی سے اس کے پیداہونے کے حقیقت کسے مفہوم ہومگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جنتا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت حق عزجلالہ، نے تمام جہان کو حضور پرنورمحبوب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایا، حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔
لولاک لما خلقت الدنیا۲؂۔
اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو نہ بناتا۔(ت)
 (۲؂تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۷)
آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ارشادہوا:
 لولا محمد ماخلقتک ولا ارضا ولا سماء ۳؂۔
اگر محمد نہ ہوتے تو میں نہ تمہیں بناتا نہ زمین وآسمان کو۔(ت)
 (۳؂المواہب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۷۰) 

(مطالع المسرات الحزب الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۶۴)
توساراجہان ذات الٰہی سے بواسطہ حضور صاحب لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پیدا ہوا یعنی حضور کے واسطے حضور کے صدقے حضور کے طفیل میں ۔
لاانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم استفاض الوجود میں حضرۃ العزۃ ثم ھو افاض الوجود علی سائر البریۃ کما تزعم کفرۃ الفلاسفۃ من توسیط العقول ، تعالٰی اللہ عما یقول الظالمون علواکبیر ا، ھل من خلاق غیر اللہ۔
یہ بات نہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اللہ سے جود حاصل کیا پھر باقی مخلوق کو آپ نے وجود دیا جیسے فلاسفہ کافر گمان کرتے ہیں کہ عقول کے واسطے دوسری چیزیں پیداہوتی ہیں ، اللہ تعالٰی ان ظالموں کے اس قول سے بلند وبالا ہے ، کیا اللہ تعالٰی کے علاوہ بھی کوئی خالق ہوسکتاہے ۔(ت)
بخلاف ہمارے حضور عین النور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ وہ کسی کے طفیل میں نہیں، اپنے رب کے سوا کسی کے واسطے نہیں تو وہ ذات الٰہی سے بلاواسطہ پیدا ہیں ۔
زرقانی شریف میں ہے :
ای من نورھو ذاتہ لابمعنی انھا مادۃ خلق نورہ منہا بل بمعنی تعلق الارادۃ بہ بلاواسطۃ  شیئ فی وجودہ۱؂۔
یعنی اس نور سے جو اللہ کی ذات ہے ، یہ مقصد نہیں کہ وہ کوئی مادہ ہے جس سے آپ کا نور پیدا ہوا بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارادہ آپ کے نورسے بلا کسی واسطہ فی الوجود کے متعلق ہوا۔ (ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول دارالمعرفت بیروت ۱ /۴۶)
یازیادہ سے زیادہ بغرض توضیح ایک کمال ناقص مثال یوں خیال کیجئے کہ آفتاب نے ایک عظیم وجمیل وجلیل آئینہ پر تجلی کی ، آئینہ چمک اٹھا اور اس کے نور سے اورآئینے اورپانیوں کے چشمے اورہوائیں اورسائے روشن ہوئے آئینوں اورچشموں میں صرف ظہور نہیں بلکہ اپنی اپنی استعداد کے لائق شعاع بھی پیداہوئی کہ اورچیز کو روشن کر سکے کچھ دیواروں پر دھوپ پڑی، یہ کیفیتی نور سے متکیف ہیں اگرچہ اورکوروشن نہ کریں جن تک دھوپ بھی نہ پہنچی ، وہ ہوائے متوسط نے ظاہرکیں جیسے دن میں مسقّف دالان کی اندرونی دیواریں ان کا حصہ صرف اسی قدر ہوا کہ ، کیفیت نور سے بہر نہ پایا، پہلا آئینہ خود ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے اورباقی آئینے چشمے اس کے واسطے سے اوردیواریں وغیرہا واسطہ درواسطہ پھر جس طرح وہ نور کہ آئینہ اول پر پڑا بعینہٖ آفتاب کا نور ہے بغیر اس کے آفتاب خود یا اس کا کوئی حصہ آئینہ ہوگیا ہو، یونہی باقی آئینے اور چشمے کہ اس آئینے سے روشن ہوئے اوردیوار وغیرہ اشیاء پر ان کی دھوپ پڑی یا صرف ظاہر ہوئیں ، ان سب پر بھی یقیناآفتاب ہی کا نور اور اسی سے ظہور ہے ، آئینے اورچشمے فقط واسطہ وصول ہیں ، ان کی حد زات میں دیکھو تو یہ خود نور تو نور ، ظہور سے بھی حصہ نہیں رکھتے ؎
یک چراغ ست دریں خانہ کہ از پر توآں  

ہرکجا می نگری انجمنے ساختہ اند
 (اس گھرمیں ایک چراغ سے جس کی تابش سے تو جہاں دیکھتا ہے انجمن بنائے ہوئے ہیں۔)
یہ نظر محض ایک طرح کی تقریب فہم کے لئے ہے جس طرح ارشاد ہوا:
مثل نورہ کمشکوٰۃ فیہا مصباح۲؂ ۔
 (اس کے نور کے مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے ۔ت)
(۲؂القرآن الکریم ۲۴ /۳۵)
ورنہ کجا چراغ اورکجاوہ نور حقیقی ،
وللہ المثل الاعلی ۳؂
 (اوراللہ کی شان سب سے بلند ہے ۔ت)
(۳؂القرآن الکریم ۱۶/۶۰)
توضیح صرف ان دوباتوں کی منظور ہے ایک یہ کہ دیکھو آفتاب سے تمام اشیاء منورہوئیں بے اسکے آفتاب خود آئینہ ہوگیا یا اس میں سے کچھ جدا ہوکر آئینہ بنا، دوسرے یہ کہ ایک آئینہ نفس ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے باقی بوسائط ، ورنہ حاشاکہاں مثال اورکہاں وہ بارگاہ جلال۔ باقی اشیاء سے کہ مثال میں بالواسطہ منور مانیں آفتاب حجاب میں ہے اوراللہ عزوجل ظاہر فوق کل ظاہر ہے ، آفتاب ان اشیاء تک اپنے وصول نور میں وسائط کا محتاج ہے اوراللہ عزوجل احتیاج سے پاک، غرض کسی بات میں نہ تطبیق مراد نہ ہرگز ممکن، حتی کہ نفس وساطت بھی یکساں نہیں ،
کما لایخفٰی وقد اشرنا الیہ
(جیسا کہ پوشیدہ نہیں اورہم نے اس کی طرف اشارہ کردیاہے ۔ت)
Flag Counter