Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
183 - 212
مسئلہ ۴۱ :از کلکتہ ۹گووند چند دھرسن لیں مرسلہ حکیم محمد ابراہیم صاحب بنارسی ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ کے نور سے پیداہیں یا نہیں ؟اگر اللہ کے نور سے پیدا ہوئے نور ذاتی سے یا نورصفاتی سے یا دونوں سے ؟ او ر نورکیا چیز ہے ؟بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤگے ۔ت)
الجواب : جواب مسئلہ سے پہلے ایک اورمسئلہ گزارش کرلوں ،
لقولہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من رأی منکم منکر افلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ۱؂۔ الحدیث۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مطابق: ''تم میں سے کوئی آدمی برائی دیکھے تو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے بد ل دے اگرایسا نہ کرسکے تو اپنی زبان سے بدل دے ۔ الحدیث ''(ت)
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۱)
حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر کریم کے ساتھ جس طرح زبان سے درود شریف پڑھنے کا حکم ہے
اللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ ابدا
 (اے اللہ !آپ پر اورآپ کی آل اورآپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرما۔ت) درودشریف کی جگہ فقط صاد یا عم یا صلع یا صللم کہنا ہرگز کافی نہں بلکہ وہ الفاظ بے معنٰی ہیں اور
فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم۲؂
میں داخل ،کہ ظالموں نے وہ بات جس کا انہیں حکم تھا ایک اورلفظ سے بدل ڈالی
فانزلنا علی الذین ظلموا رجزاً من السماء بما کانوا یفسقون۳؂
 (۲؂القرآن الکریم ۲/ ۵۹)

  (۳؂ القرآن الکریم ۲/ ۵۹ )
تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکم کا۔ 

یونہی تحریر میں
 القلم احداللسانین
(قلم دو زبانوں مین سے ایک ہے ۔ت)

بلکہ فتاوٰی تاتارخانیہ سے منقول کہ اس میں اس پر نہایت سخت حکم فرمایا اور اسے معاذاللہ تخفیف شان نبوت بتایا۔

 طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
یحافظ علی کتب الصلٰوۃ والسلام علی رسول اللہ ولا یسأم من تکرارہٖ وان لم یکن فی الاصل ویصلی بلسانہ ایضا،ویکرہ الرمز بالصلاۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذٰلک کلہ بکمالہٖ ، وفی بعض المواضع عن التتارخانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف وتخفیف الانبیاء علیم الصلٰوۃ والسلام کفر بلا شک ، ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصدہ والا فالظاھر انہ لیس بکفر ، نعم الاحتیاط فی الاحتراز عن الایھام والشبھۃ ۱؂اھ مختصراً۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود وسلام لکھنے کی محافظت کی جائے اور اس کی تکرار سے تنگ دل نہ ہواگرچہ اصل میں نہ ہو اوراپنی زبان سے بھی درود پڑھے ۔ درود یا رضی اللہ عنہ کی طرف لکھنے میں اشارہ کرنا مکروہ ہے بلکہ پورا لکھناچاہیے ۔ تاتارخانیہ کے بعض مقامات پر ہے کہ جس نے علیہ السلام ہمزہ اورمیم سے لکھا ، کافر ہوگیا کیونکہ یہ تخفیف ہے اورانبیاء کی تخفیف بغیر کسی شک کے کفر ہے ، اور یہ نقل صحیح ہے تو اس میں قصدکی قید ضرورہوگی ورنہ بظاہر یہ کفر نہیں ہے ، ہاں احتیاط ایہام اورشبہ سے بچنے میں ہے ۔(ت)
(۱؂حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختارخطبۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۶)
اس کے بعد اصل مسئلہ کا جواب بعون الملک الوھاب لیجئے ۔ نور عرف عامہ میں ایک کیفیت ہے ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراک کرتی ہے اوراس کے واسطے سے دوسری اشیائے دیدنی کو۔
قال السید فی تعریفاتہ النور کیفیۃ تدرکہا الباصرۃ اولا وبواسطتہا سائر المبصرات۲؂۔
علامہ سید شریف جرجانی نے فرمایا : نور ایک ایسی کیفیت ہے جس کا ادراک قوت باصرہ پہلے کرتی ہے پھر اس کے واسطے سے تمام مبصرات کا ادراک کرتی ہے ۔(ت)
 (۲؂التعریفات للجرجانی تحت اللفظ ''النور''۱۵۷۷       دارالکتاب العربی بیروت ص۱۹۵)
اورحق یہ کہ نور اس سے اجلٰی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

یہ جو بیان ہوا تعریف الجلی بالخفی ہے
کمانبہ علیہ فی المواقف وشرحھا
 (جیسا کہ مواقف اور اس کی شرح میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے ۔ ت) نور بایں معنٰی ایک عرض وحادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ ۔ محققین کے نزدیک نوروہ کہ خود ظاہر ہو اوردوسروں کا مظہر ،
کما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی الی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ
 (جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی نے پھر شرح مواہب شریف میں علامہ زرقانی نے ذکر فرمایا ہے ۔ ت) بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اورآیہ کریمہ
اللہ نور السمٰوٰت والارض ۱؂
 (اللہ تعالٰی نور ہے آسمانوں اورزمین کا۔ ت) بلاتکلف وبلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔
 (۱؂ القرآن الکریم ۲۴/ ۳۵)
فان اللہ عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت والارض ومن فیھن وسائر المخلوقات۔
کیونکہ اللہ عزوجل بلاشبہ خود ظاہر ہے او راپنے غیر یعنی آسمانوں ، زمینوں ، ان کے اندر پائی جانے والی تمام اشیاء اوردیگر مخلوقات کو ظاہر کرنے والا ہے ۔(ت)

حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلاشبہ اللہ عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں ۔ 

حدیث شریف میں وارد ہے :
ان اللہ تعالٰی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہٖ ۔ رواہ عبدالرزاق ۲؂ونحوہ عندالبیہقی۔
اے جابر!بیشک اللہ تعالٰی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا ۔(اس کو عبدالرزاق نے روایت کیا اوربیہقی کے نزدیک اس کے ہم معنٰی ہے ۔ ت)
 (۲؂ المواہب اللدنیۃ بحوالہ عبدالرزاق المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۷۱)
حدیث میں ''نورہ''فرمایا جس کی ضمیر اللہ کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے
من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ
(اپنے جمال کے نور سے یا اپنے علم کے نور سے یا اپنی رحمت کے نور سے ۔ت) وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں :
 (من نورہٖ) ای من نورھوذاتہ۳؂
یعنی اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الٰہی ہے ، یعنی اپنی ذات سے بلاواسطہ پیدا فرمایا ،
کما سیأتی تقریرہ
 (جیسا کہ اس کی تقریر عنقریب آرہی ہے ۔ ت)
 (۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفہ بیروت ۱ /۴۶)
امام احمد قسطلانی مواہب شریف میں فرماتے ہیں :
لما تعلقت ارادۃ الحق تعالٰی بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوھا وسفلھا۱؂۔
یعنی جب اللہ عزوجل نے مخلوقات کو پیدا کرنا چاہا صمدی نوروں سے مرتبہ ذات صرف میں حقیقت محمدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ظاہر فرمایا ، پھر اس سے تما م علوی وسفلی نکالے۔
 (۱؂ المواہب اللدنیۃ المقصد الاول المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۵۵)
شرحِ علامہ میں ہے :
 والحضرۃ الاحدیۃ ھی اول تعینات الذات واول رتبہا الذی لااعتبارفیہ لغیر الذات کما ھو المشار الیہ بقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان اللہ ولا شیئ معہ ذکرہ الکاشی۲؂۔
یعنی مرتبہ احدیتِ ذات کا پہلا تعین اورپہلا مرتبہ ہے جس میں غیر ذات کا اصلاً لحاظ نہیں جس کی طرف نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالٰی تھا اوراس کے ساتھ کچھ نہ تھا، اسے سیدی کاشی قدس سرہ، نے ذکر فرمایا ۔
(۲؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۷)
Flag Counter