Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
181 - 212
امام ابن الصلاح کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں :
قول المصنفین من الفقہاء وغیرہم ''قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کذا وکذا''ونحو ذٰلک کلہ من قبیل المعضل وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض وکلامہ مرسلا وذٰلک علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلاً۱؂۔
فقہاء وغیرہ ومصنفین کا قول کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے یا اس کی مثل کوئی کلمہ یہ سب معضل کے قبیل سے ہے ۔ خطیب ابو بکر حافظ نے اس کا نام مرسل رکھا ہے اوریہ اس کے مذہب کے مطابق ہے جو ہر غیر متصل کا نام مرسل رکھتاہے ۔(ت)
 (۱؂معرفۃ انواع علم الحدیث النوع الحادی عشر   دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۳۸)
تلویح وغیرہ میں ہے :
ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل۲؂۔
اگر واسطہ بالکل مذکور نہ ہوتو وہ مرسل ہے ۔(ت)
 (۲؂التوضیح والتلویح الرکن الثانی فی السنۃ فصل فی الانقطاع نورانی کتب خانہ پشاور ص۴۷۴)
مسلم الثبوت میں ہے :
 المرسل قول العدل قال علیہ الصلٰوۃ والسلام کذا۳؂۔
مرسل یہ ہے عادل کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔(ت)
(۳؂مسلم الثبوت مسئلہ تعریف المرسل مطبع انصاری دہلی ص۲۰۱)
فواتح الرحموت میں ہے :
الکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول۴؂۔
اصولیوں کے نزدیک سب مرسل میں داخل ہیں۔(ت)
 (۴؂فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲ /۱۷۴)
انہیں میں ہے :
المرسل ان کان من صحابی یقبل مطلقا اتفاقا وان کان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفۃ والامام مالک والامام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہم قالو یقبل مطلقا اذا کان الراوی ثقۃ ۵؂الخ۔
مرسل اگر صحابی سے ہو مطلقاً مقبول ہے اوراگر غیر صحابی سے ہو تو اکثرائمہ بشمول امام اعظم،امام مالک اورامام احمد رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ مطلقامقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو الخ۔ (ت)
 (۵؂فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲ /۱۷۴)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے :
 لایضرذٰلک فی الاستدلال بہ ھٰھنا لان المقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا۱؂۔
اس سے استدلال کرنا یہاں مضر نہیں کیونکہ فضائل میں منقطع بالاجماع قابل عمل ہے ۔(ت)
  (۱؂ مرقاۃ المفاتیح باب الرکوع الفصل الثانی تحت الحدیث ۸۸۰المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۶۰۲)
شفائے امام قاضی عیاض میں ہے :
اخبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لقتل علی وانہ قسیم النار۲؂۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قتل کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ بیشک وہ قسیم النار ہیں۔(ت)
 (۲؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذلک مااطلع علیہ من الغیوب المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۸۴)
نسیم الریاض میں فرمایا :
ظاھر ھذان ھذا مما اخبربہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا انھم قالوا لم یروہ احدمن المحدثین الا ان ابن الاثیر قال فی النہایۃ الا ان علیا رضی اللہ تعالٰی عنہ قال انا قسیم النار قلت ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرائ فھو فی حکم المرفوع ۳؂ اھ ملخصاً۔
ظاہر اس کا یہ ہےکہ بیشک یہ ان امور میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خبر دی مگر انہوں نےکہاکہ اس کو محدثین میں سے کسی نے روایت نہیں کیا مگر ابن اثیر نے نہایہ میں کہا: بیشک حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں قسیم نار ہوں ۔ میں کہتاہوں کہ ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ذکر فرمایا وہ قیاس سے نہیں کہا جاسکتا لہذ ا وہ مرفوع کے حکم میں ہے اھ تلخیص(ت)
(۳؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۳)
امام ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
عدم النقل لاینفی الوجود۱؂۔
 عدم نقل وجود کی نفی نہیں کرتا۔ (ت)واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؂ فتح القدیر      کتاب الطہارت        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر       ۱ /۲۰)
رسالہ

منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش والرؤیۃ
ختم ہوا۔
Flag Counter