Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
180 - 212
حضرت سیدی شیخ اکبرامام محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ فتوحاتِ مکیہ شریف باب ۳۱۶میں فرماتے ہیں :
اعلم ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما کان خلقہ القراٰن وتخلق بالاسماء وکان اللہ سبحٰنہ وتعالٰی ذکر فی کتاب العزیز انہ تعلاٰی استوی علی العرش علی طریق التمدح والثناء علی نفسہ اذ کان العرش اعظم الاجسام فجعل لنبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ھذا الاستواء نسبۃ علی طریق التمدح والثناء علیہ بہ حیث کان اعلی مقام ینتہی الیہ من اسری بہ من الرسل علیھم الصلٰوۃ والسلام وذٰلک یدل علی انہ اسری بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بجسمہ ولو کان الاسراء بہ رؤیا لما کان الاسراء ولا الوصلو الی ھذا المقام تمدحا ولا وقع من الاعرافی حقہ انکار علی ذٰلک۲؂۔
تو جان لے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا خلق عظیم قرآن تھا اورحضور اسماء الٰہیہ کی خووخصلت رکھتے تھے اوراللہ سبحٰنہ وتعالٰی قرآن کریم میں اپنی صفات مدح سے عرش پر استواء بیان فرمایا تو اس نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بھی اس سفت استواعلی العرش کے پر تو سے مدح ومنقبت بخشی کہ عرش وہ اعلٰی مقام ہے جس تک رسولوں کا اسراء منتہی ہو ، اوراس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اسراء مع جسم مبارک تھا کہ اگر خواب ہوتا تو اسرااوراس مقام استواء علی العرش تک پہنچنا مدح نہ ہوتا نہ گنواراس پر انکار کرتے ۔
(۲؂ الفتوحات المکیۃ الباب السادس داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۶۱)
امام علامہ عارف باللہ سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت موصوف سے ناقل :
انما قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی سبیل التمدح حتی ظھرت لمستوی اشارۃ لما قلنا من ان متھی السیر بالقدم المحسوس للعرش ۱؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بطور مدح ارشاد فرمانا کہ یہاں تکہ کہ میں مستوی پر بلند ہوا اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قدم جسم سے سیر کا منتہٰی عرش ہے ۔
 (۱؂ الیواقیت والجواہر   المبحث الرابع والثلاثون     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۷۰)
مدارج النبوۃ شریف میں ہے :
فرمود صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پس گسترانیدہ شد برائے من رفرف سبز کہ غالب بود نور او پر نور نورآفتاب پس درخشید بآن نور بصر من ونہادہ شدم  من برآں رفرف وبرداشتہ شدم تابرسید بعرش۲؂۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میرے لئے سبز بچھونا بچھایا گیا جس کا نور آفتاب کے نور پر غالب تھا چنانچہ اس نور کے سبب میری آنکھوں کا نور چمک اٹھا ، پھر مجھے رفرف پر سوار کر کے بلندی کی طرف اٹھایا گیا یہاں تک کہ میں عرش پر پہنچا۔(ت)
(۲؂مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱/۱۶۹)
اسی میں ہے  :
 آوردہ اند کہ چوں رسید آں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعرش دست زد بدامان اجلال وے ۳؂۔
منقول ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرش پر پہنچے تو عرش آپ کا دامن اجلال تھام لیا۔(ت)
 (۳؂مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۱۷۰)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے :
جز حضرت پیغمبرما صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالاترازاں ہیچ کس نہ رفتہ وآنحضرت بجائے رفت کہ آنجاجانیست ؎
ہمارے نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ عرش سے اوپر کوئی نہیں گیا، آپ اس جگہ پہنچے جہاں جگہ نہیں۔
برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں 

 اسرٰی بعبدہٖ است من المسجد الحرام

تاعرصہ وجوب کہ اقتضائے عالم ست

کابخانہ جاست ونے جہت ونے نشاں نہ نام۱؂
طبیعت امکان سے قدم مبارک اٹھالئے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے خاص بندے کو سیرکرائی مسجد حرام سے صحرائے وجوب تک جو عالم کا آخری کنارہ ہے کہ وہاں نہ مکان ہے نہ جہت، نہ نشان اورنہ نام ۔(ت)
 (۱؂اشعۃ اللمعات باب المعراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ /۵۳۸)
نیز اسی کے باب رؤیۃ اللہ تعالٰی فصل سوم زیر حدیث قد راٰی ربہ مرتین (تحقیق آپ نے اپنے رب کو دوبارہ یکھا۔ت)

ارشاد فرمایا :
بتحقیق دیدآنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پروردگارخود را جل وعلا  دوبار، یکے چوں نزدیک سدرۃ المنتہٰی بود،دوم چوں بالائے عرش برآمد۲؂۔
تحقیق آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے پروردگارجل وعلاکو دوباردیکھا ، ایک بار جب آپ سدرہ کے قریب تھے ، اوردوسری بار جب آپ عرش پرجلوہ گرہوئے ۔(ت)
(۲؂اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب رؤیۃ اللہ تعالٰی الفصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ /۴۴۲تا۴۲۹ )
مکتوبات حضرت شیخ مجدد الف ثانی جلد اول ، مکتوب ۲۸۳میں ہے :
 آں سرورعلیہ الصلٰوۃ والسلام دراں شب چوں از دائرہ مکان وزمان بریون جست وازتنگی امکان برآمد ازل وابدراں آں واحد یافت وبدایت ونہایت رادریک نطقہ متحد دید۳؂۔
اس رات سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مکان وزمان کے دائرہ سے باہر ہوگئے ،اور تنگی امکان سے نکل کر آپ نے ازل وابد کو ایک پایا اورابتداء کو انتہا کو ایک نقطہ میں متحد دیکھا۔(ت)
(۳؂مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۸۳نولکشورلکھنؤ        ۱/ ۳۶۶)
نیز مکتوب ۲۷۲میں ہے :
 محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ محبوب رب العالمین ست وبہترین موجودات اولین وآخرین باوجودآنکہ بدولت معراج بدنی مشرف شد واز عرش وکرسی درگزشت وازامکان وزمان بالارفت۴؂۔
محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو کہ رب العالمین کے محبوب ہیں اور تمام موجودات اولین وآخرین سے افضل ہیں ، جسمانی معراج سے مشرف ہوئے اورعرش وکرسی سے آگے گزر گئے اورمکان وزمان سے اوپر چلے گئے ۔ (ت)
(۴؂ مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۷۲نولکشورلکھنؤ     ۱ /۳۴۸)
Flag Counter