Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
179 - 212
علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی خلوتی رحمۃ اللہ تعالٰی تعلیقاتِ افضل القرٰی میں فرماتے ہیں :
الاسراء بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی یقظۃ بالجسد والروح من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی ثم عرج بہ الی السمٰوٰت العلی ثم الی سدرۃ المنتہٰی ثم الی المستوی ثم الی العرش والرفرف۱؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو معراج بیداری میں بدن ورُوح کے ساتھ مسجد حرامِ سے مسجدِ اقصٰی تک ہوئی ،پھر آسمانوں ، پھر سدرہ ، پھر مستوٰی ، پھرعرش ورفرف تک۔
 (۱؂ تعلیقات علی ام القرٰی للعلامۃ احمد بن محمد الصاوی علی ھامش الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصرص۳)
فتوحات احمدیہ شرح الہمزیہ للشیخ سلیمان الجمل میں ہے :
 رقیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لیلۃ الاسراء من بیت المقدس الی السمٰوٰت السبع الی حیث شاء اللہ تعالٰی لکنہ لم یجاوز العرش علی الراجح۲؂۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ترقی شب اسراء بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اوروہاں سے اس مقام تک ہے جہاں تک اللہ عزوجل نے چاہا مگر راجح یہ ہے کہ عرش سے آگے تجاوز نہ فرمایا ۔
 (۲؂ الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الھمزیۃ       المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصر    ص۳)
اسی میں ہے :
المعاریج لیلۃ الاسراء عشرۃ سبعۃ فی السمٰوٰت والثامن الی سدرۃ المنتھٰی والتاسع الی المستوٰی والعاشر الی العرش لکن لم یجاوز العرش کما ھو التحقیق عند اھل المعاریج۳؂۔
معراجیں شب اسراء دس ہوئیں، سات آسمانوں میں ،ا ورآٹھویں سدرہ، نویں مستوٰی ، دسویں عرش تک۔ مگر راویان معراج کے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ عرش سے اوپر تجاو ز نہ فرمایا ۔
 (۳؂الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصرص۳۰)
اسی میں ہے :
بعد ان جاوز السماء السابعۃ رفعت لہ سدرۃ المنتھٰی ثم جاو زھا الی مستوٰی ثم زج بہ فی النور فخرق سبعین الف حجاب من نور مسیرۃ کل حجاب خمسائۃ عام ثم دلی لہ رفرف اخضر فارتقی بہ حتی وصل الی العرش ولم یجاوزہ فکان من ربہ قاب قوسین او ادنٰی۱؂۔
جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آسمان ہفتم سے گزرے سدرہ حضور کے سامنے بلند کی گئی اس سے گزر کر مقام مستوٰی پر پہنچے ، پھر حضور عالم نور میں ڈالے گئے وہاں ستر ہزار پردے نور کے طے فرمائے ، ہر پردے کی مسافت پانسو برس کی راہ۔ پھر ایک سبز بچھونا حضور کے لئے لٹکایا گیا ، حضور اقدس اس پر ترقی فرماکر عرش تک پہنچے ، اورعرش سے ادھر گزر نہ فرمایا وہاں اپنے رب سے قاب قوسین اوادنٰی پایا۔
 (۱؂ الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصرص۳۱)
اقول :(میں کہتاہوں۔ت) شیخ سلیمٰن نے عرش سے اوپر تجاوز نہ فرمانے کوترجیح دی، اورامام ابن حجر مکی وغیرہ کی عبارت ماضیہ وآتیہ وغیرہا میں فوق العرش ولامکان کی تصریح ہے ، لامکان یقینا فوق العرش ہے اورحقیقۃً دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ، عرش تک منتہائے مکان ہے ، اس سے آگے لامکان ہے ، اورجسم نہ ہوگا مگر مکان میں ، تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جسم مبارک سے منتہائے عرش تک تشریف لے گئے اورروح اقدس نے وراء الوراء تک ترقی فرمائی جسے ان کا رب جانے جو لے گیا، پھر وہ جانیں جو تشریف لے گئے ، اسی طرف کلام امام شیخ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ میں اشارہ عنقریب آتاہے کہ ان پاؤں سے سیر کا منتہٰی عرش ہے ، تو سیر قدم عرش پر ختم ہوئی ، نہ اس لئے کہ سیر اقدس میں معاذاللہ کوئی کمی رہی ، بلکہ اس لئے کہ تمام اماکن کا احاطہ فرمالیا،اوپرکوئی مکان ہی نہیں جسے کہئے کہ قدم پاک وہاں نہ پہنچا اوسیر قلب انور کی انتہاء قاب قوسین ، اگر وسوسہ گزرے کہ عرش سے وراء کیا ہوگا کہ حضور نے اس سے تجاوز فرمایاتو امام اجل سید علی وفا رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد سنئے جسے امام عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا کہ فرماتے ہیں :
لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الافلاک والجنۃ والنار وانما الرجل من نفذ بصرہ الی خارج ھٰذا الوجود کلہ وھناک یعرف قدرعظمۃ موجدہ سبحٰنہ وتعالٰی ۲؂۔
مَرد وہ نہیں جسے عرش اورجو کچھ اس کے احاطہ میں ہے افلاک وجنت ونار یہی چیزیں محدود ومقید کرلیں، مرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجد عالم جل جلالہ کی عظمت کی قدر کھلے گی۔
 (۲؂الیواقیت والجواہر         المبحث الرابع والثلاثوں         داراحیاء التراث العربی بیروت      ۲ /۳۷۰)
امام علامہ احمد قسطلانی مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں اور علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
 (ومنہا انہ راٰی اللہ تعالٰی بعینیہ) یقظۃ علی الراجح (وکلمہ اللہ تعالٰی فی الرفیع الا علی) علی سائر الامکنۃ وقدروی ابن عساکر عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ مرفوعا لما اسری لی قربنی ربی حتی کان بینی وبینہ قاب قوسین اوادنی ۱؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص سے ہے کہ حضور نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا، یہی مذہب راجح ہے ، اوراللہ عزوجل نے حضور سے اس بلند وبالا تر مقام میں کلام فرمایا جو تمام امکنہ سے اعلٰی تھا اوربیشک ابن عساکر نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : شب اسراء مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اوراس میں دوکمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا۔
(۱؂ المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۶۳۴)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت     ۵ /۲۵۱و۲۵۲)
اسی میں ہے :
 قد اختلف العلماء فی الاسراء ھل ھوا اسراء واحد او اثنین مرۃ بروحہ وبدنہ یقظۃ ومرۃ مناما او یقظۃ بروحہ وجسدہ من المسجدالحرام الی المسجد الاقصی ثم منا ما من المسجدالاقصٰی الی العرش۲؂۔
علماء کو اختلاف ہوا کہ معراج ایک ہے یا دو، ایک بار روح وبدن اقدس کے ساتھ بیداری میں اورایک بارخواب میں یا بیداری میں روح وبدن مبارک کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد اقصٰی تک، پھر خواب میں وہاں سے عرش تک ۔
 (۲؂ المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۷)
فالحق انہ اسراء واحد بروحہ وجسدہ یقظۃ فی القصۃ کلھا والی ھذا ذھب الجمہور من علماء المحدثین والفقہاء والمتکلمین ۳؂۔
اورحق یہ ہے کہ وہ ایک اسراء ہے اورسارے قصے میں یعنی مسجد الحرام سے عرش اعلٰی تک بیداری میں روح وبدن اطہر ہی کے ساتھ ہے ۔ جمہور علماء ومحدثین وفقہاء ومتکلمین سب کا یہی مذہب ہے ۔
 (۳؂المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۷)

(المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۲)
اسی میں ہے :    المعاریج عشرۃ (الٰی قولہ )العاشر الی العرش ۱؂۔
معراجیں دس ہوئیں ، دسویں عرش تک۔
 (۱؂المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس مراحل المعراج المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷)
اسی میں ہے :
 قدروردفی الصحیح عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لما عرج بی جبریل الی سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی فکان قاب قوسین او ادنٰی ۲؂ وتدلیہ علی ما فی حدیث شریک کان فوق العرش ۳؂۔
صحیح بخاری شریف میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : میرے ساتھ جبریل نے سدرۃ المنتہٰی تک عروج کیا اور جبار رب العزۃ جل وعلانے دنو وتدلیّ فرمائی تو فاصلہ دو کمانوں  بلکہ ان سے کم کا رہا، یہ تدلی بالائے عرش تھی ، جیسا کہ حدیث شریک ہے ۔
(۲؂المواہب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳ /۸۸)

 (المواہب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳ /۹۰)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
 وردفی المعراج انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما بلغ سدرۃ المنتہٰی جاء ہ بالرفرف جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام فتناولہ فطاربہ الی العرش۴؂۔
حدیث معراج میں وارد ہوا کہ جب حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سدرۃ المنتہٰی پہنچے جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم رفرف حاضر لائے وہ حضو کر لے کر عرش تک اڑگیا۔
 (۴؂نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واماما ورد فی حدیث الاسراء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۳۱۰)
اسی میں ہے :
علیہ یدل صحیح الاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الجنۃ ووصولہ الی العرش اوطرف العالم کما سیأتی کل ذٰلک بجسدہ یقظہ ۱؂۔
صحیح احادیثیں دلالت کرتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شب اسراء جنت میں تشریف لے گئے اورعرش تک پہنچے یا علم کے اس کنارے تک کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم مبارک تھا۔
 (۱؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثم اختلف السلف والعلماء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۲۶۹،۲۷۰)
Flag Counter