Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
177 - 212
اخبار التابعین
مصنف عبدالرزاق میں ہے :
عن معمر عن الحسن البصری انہ کان یحلف باللہ لقد راٰ ی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۵؂۔
یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قسم کھاکر فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔
(۵؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ عبدالرزاق عن معمر عن الحسن البصری فصل واما رویۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)
اسی طرح امام ابن خزیمہ حضرت عروہ بن زیبر سے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے اورصدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نواسے ہیں راوی کہ وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو شب معراج دیدار الہٰی ہونا مانتے  :
وانہ یشتد علیہ انکارھا ۱؂ اھ ملتقطا۔
اوران پر اس کا انکار سخت گراں گزرتا ۔
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۱۶)
یوں ہی کعب احبار عالم کتب سابقہ وامام ابن شہاب زہری قرشی وامام مجاہد مخزومی مکی وامام عکرمہ بن عبداللہ مدنہ ہاشمی وامام عطا بن رباح قرشی مکی ۔ استاد امام ابو حنیفہ وامام مسلم بن صبیح ابوالضحی کو فی وغیرہم جمیع تلامذہ عالم قرآن حبر الامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم کا بھی یہی مذہب ہے ۔
امام قسطلانی مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں :
 اخرج ابن خزیمۃ عن عروہ بن الزبیر اثباتھا وبہ قال سائر اصحاب ابن عباس وجزم بہ کعب الاحبار والزھری ۲؂الخ۔
ابن خزیمہ نے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہاسے اس کا اثبات روایت کیاہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے تمام شاگردوں کا یہی قول ہے ۔ کعب احبار اورزہری نے اس پر جزم فرمایا ہے ۔ الخ۔(ت)
 (۲؂ المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
اقوال من بعدھم من ائمّۃ الدین
امام خلّال کتاب السن میں اسحٰق بن مروزی سے راوی ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالٰی رؤیت کو ثابت مانتے اوراس کی دلیل فرماتے  :
قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رأیت ربی ۳؂اھ مختصراً۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
 (۳؂المواہب اللدنیۃ بحوالہ الخلال فی کتاب السن المقصد الخامس المتکب الاسلامی بیرو ت۳ /۱۰۷)
نقاش اپنی تفسیر میں اس امام سند الانام رحمہ اللہ تعالٰی سے راوی :
 انہ قال اقول بحدیث ابن عباس بعینہ راٰی ربہ راٰہ راٰہ راٰہ حتی انقطع نفسہ۔۴؂
یعنی انہوں نے فرمایا میں حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا معتقد ہوں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو اسی آنکھ سے دیکھا دیکھا دکھا ، یہاں تک فرماتے رہے کہ سانس ٹوٹ گئی ۔
 (۴؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ النقاش عن احمد وامام رؤیۃ لربہ المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۵۹)
امام ابن الخطیب مصری مواہب شریف میں فرماتے ہیں :
 جزم بہ معمر واٰخرون وھوقول الاشعری وغالب اتباعہ۱؂۔
یعنی امام معمر بن راشد بصری اوران کے سوا اورعلماء نے اس پر جزم کیا ، اوریہی مذہب ہے امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری اوران کے غالب پَیروؤں کا۔
(۱؂المواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الاصح الراجح انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابۃ۲؂۔
مذہب اصح وراجح یہی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شب اسرا اپنے رب کو بچشم سردیکھا جیسا کہ جمہور صحابہئ کرام کا یہی مذہب ہے۔
 (۲؂نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما رؤیۃ لربہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۳۰۳)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں پھر علامہ محمدبن عبدالباقی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
الراجح عند اکثر العلماء انہ طرای ربہ بعین راسہ لیلۃ المعراج۳؂۔
جمہور علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا۔
 (۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۶)
ائمہ متاخرین کے جدا جدااقوال کی حاجت نہیں کہ وہ حد شمار سے خارج ہیں اورلفظ اکثر العلماء کہ منہاج میں فرمایا کافی ومعنی ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter