Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
175 - 212
حدیث ۲۱۶:
صحیح بخاری شریف میں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من یضمن لی مابین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ۳؂ ۔
جو میرے لئے اپنی زبان اورشرمگاہ کا ضامن ہوجائے (کہ ان سے میری نافرمانی نہ کرے ) میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔
 (۳؂صحیح البخاری کتاب الرقا ق باب حفظ اللسان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۵۸و۹۵۹)

(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب قتال اھل البغی باب ماعلی الرجل من حفظ اللسان الخ دارصادر بیروت ۸ /۱۶۶)
امام الوہابیہ علیہ ماعلیہ اپنے مقر کو پہنچا ،اب یہ حدیثیں کسے دکھائیں کہ اوبے بصر بدزبان! تیرے نزدیک تو ''وہ کسی چیز کے مختار نہیں ،ان کو کسی نوع کی قدرت نہیں ،کسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں اپنی جان تک کے نفع ونقصان کے مالک نہیں دوسرے کا تو کیا کرسکیں، اللہ کے یہاں کا معاملہ انکے اختیار سے باہر ہے ، وہاں کسی کی حمایت نہیں کرسکتے کسی کے وکیل نہیں بن سکتے ۱؂۔''
 (۱؂تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۱۹تا۲۵)
ان حدیثوں کو سوجھ کو وہ بتملیک الہٰی عزوجل جنت کے مالک ، کارکانہ الہٰی کے مختار ہیں ، ضمانتیں فرماتے ہیں، اپنے ذمے لیتے ہیں ، عطا فرماتے ہیں ، بیع کردیتے ہیں، ہر عاقل جانتاہے کہ بیع وہی کرے گا جو خود مالک ہویا مالک کی طرف سے ماذون ومختار ، ورنہ فضولی ہے جس کا قصد فضول اورعقد بیکار۔
الحمدللہ اہل حق کے نزدیک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نفاذ تصرف کی دونوں وجہیں حاصل ، حقیقت عطائیہ لیجئے تو وہ ضرور مالک جنان ، بلکہ مالک جہان ہیں۔اورذاتیہ لیجئے تو مالک حقیقی کے ماذون مطلق ونائب کامل ہاں گمراہ بددین وہ جو دونوں شقیں باطل جانے اوراللہ کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو معاذ اللہ فضولی محض مانے ،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲؂۔
 (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ت)
 (۲؂القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
حدیث ۲۱۷:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
من بکر یوم السبت فی طلب حاجۃ فانا ضامن بقضائھا ۔ ابو نعیم۳؂ عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
جو شنبے کے دن تڑکے کسی حاجت کی تلاش کو جائے میں ا سکی حاجت روائی کا ذمہ دار ہوں ۔ (ابو نعیم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳؂کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم عن جابر حدیث ۱۶۸۱۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۲۰)
حضرت سید نظام الحق والدین محبو ب الہٰی سلطان الاولیاء قدست اسرارہم کی نسبت لوگ کہتے ہیں : "بعد جمعہ جو کیجئے کام اس کے ضامن شیخ نظام" ۔ 

وہابی اسے شرک کہتے ہیں ، وہی حکم اس حدیث پر لازم ۔
حدیث ۲۱۸:
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ قبل بعثت حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یمن کو تاجرانہ جاتے تھے ایک پیر مرد عسکلان بن عواکر  کے یہاں قیام فرماتے ، وہ ان سے مکہ معظمہ کا حال پوچھتے تم میں کوئی مشہو ربلند چرچے والا پیداہوا؟کسی نے تم پر تمہارے دین میں خلاف کیا؟ یہ انکار کرتے ، جب بعد بعثت اقدس گئے پیر مرد نے کہا : میں تمہیں وہ بشارت دیتاہوں کہ کہ تمارے لئے تجارت سے بہتر ہے ، اللہ تعالٰی نے تمہاری قوم سے نبی برگزیدہ مبعوث فرمایا، ان پراپنی کتاب اتاری ، وہ اصنام سے روکتے اوراسلام کی طرف بلاتے ہیں، حق کا حکم دیتے اور اس کے فاعل ہیں، باطل سے منع کرتے اوراس کے مبطل ہیں، وہ ہاشمی ہیں ۔ اور تم اے عبدالرحمن ان کے ماموں !جلد پلٹو اوران کی خدمت وتصدیق کرو، اوریہ اشعار میری طرف سے انکی بارگاہ والا میں پہنچاؤ، چند اشعار دربارہ تصدیق رسالت واظہار شوق وعذر پیرانہ سالی واستعانت سرکار عالی صلوات اللہ وسلامہ علیہ کہے ازاں جملہ یہ دوشعر ؎
اذا نای بالدّیار بعد 		            فانت حرزی  ومستراجی

فکن شفیعی الٰی ملیک 	         یدعوا البرایا  الی الفلاحی
جبہ کہ شہروں کو دوری فاصلہ نے بعید کردیا، تو حضور میری پناہ اورمیری راحت ملنے کی جگہ ہیں۔ توحضور میری شفیع ہوں اس بادشاہ کے یہاں جو مخلوق کو نجات کی طرف بلاتاہے ۔

عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے واپس آکر یہ حال صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزارش کیا، انہوں نے فرمایا؛ یہ محمد بن عبداللہ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول کیا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، تم ان کے حضور حاضرہو، یہ حاضر ہوئے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشاد ہوا : مین ایک سزا وار چہرہ دیکھتاہوں جس کے لئے خیر کی امدی ہے کہو کیا خبر ہے ؟انہوں نے عرض کی : کیسی ؟ فرمایا : پیام بھیجنے والے نے جو پیام ہمارے حضور بھیجا ہے وہ امانت ادا کرو ، سنتے ہو  اولاد حمیر خواص مومنین سے ہیں۔ عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ سنتے ہی مسلما ن ہوئے ، پھروہ اشعار حضور میں عرض کئے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
"رب مومن بی ولم یرنی ومصدق بی وماشھدنی اولٰئک اخوانی"۱؂۔
یعنی مجھ پر بعض ایمان لانے والے (ایسے ہیں)جنہوں نے مجھ کو دیکھانہیں اوربعض لوگ میری تصدیق کرنے والے (ایسے ہیں )جن کو میرے پا س حضور ی حاصل نہ ہوسکی ، یہ لوگ میرے بھائی ہیں۔(کلمہ اخوت کو ان کے اعزاز کے لئے تواضعاً فرمایا)
(۱؂کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۶۹۰     مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۲۲۷ تا ۲۲۹)
و صلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین ، اٰمین !

عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

عفی عنہ بمحمد ن المصطفٰی النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

رسالہ

الامن والعلٰی لنا عتی المصطفٰی بدافع البلاء
ختم ہوا
Flag Counter