Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
174 - 212
حدیث۲۱۱:
نزال بن سبرہ فرماتے ہیں ایک دن ہم نے امیر المومین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کو خو ش دل پایا ، عرض کی : یا امیر المومنین !اپنے یاروں کا حال ہم سے بیان کیجئے ۔ فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سب صحابہ میرے یار ہیں۔ہم نے عرض کی : اپنے خاص یاروں کاتذکرہ کیجئے ۔ فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی صحابی نہیں کہ میرا یار نہ ہو۔ ہم نے عرض کی : ابو بکر صدیق کا حال بیان کیجئے ۔ فرمایا : یہ وہ صاحب ہیں کہ اللہ عزوجل نے جبریل امین ومحمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہما وسلم کی زبان پر ان کا نام صدیق رکھا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلیفہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ہمارے دین کی امامت کو پسند فرمایا تو ہم نے اپنی دنیا میں بھی انہیں کو پسند کیا۔ ہم نے عرض کی : عمر بن خطاب کا حال بیان فرمائیے۔ فرمایا: یہ وہ صاحب ہیں جن کا نام اللہ عزوجل کے فاروق رکھا، انہوں نے حق کو باطل سے جدا کردیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عرض کرتے سنا کہ الہٰی !عمر بن خطاب کے سبب اسلام کی عزت دے ۔ ہم نے عرض کی: عثمان کا حال کہئے ۔ فرمایاذٰلک امرء  تدعٰی فی الملاء الا علی ذالنورین کان ختن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابنتیہ ضمن لہ فی الجنۃ یہ وہ صاحب ہیں کہ ملاءِ اعلٰی وبزمِ بالا  میں ذی النورین  پکارے جاتے ہیں ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دوشاہزادیوں کے شوہر ہوئے ، سرورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کےلئے جنت میں ایک مکان کی ضمانت فرمائی ہے ۔
خیثمۃ ۱؂ واللالکائی والعشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر عنہ عن علی کرم اللہ تعالٰی وجھہ وراہ عنہ ابو نعیم  قال سألنا علیا عن عثمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہما قال ذاک امروفذکرہ۲؂ ۔
خیثمہ ، لالکائی اورعشاری نے فضائل صدیق میں اورابن عساکر نے انہی سے بحوالہ حضرت علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے اسکوروایت کی اکہ ہم نے حضر ت علی سے حضرت عثمان کے بارے میں پوچھا رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ ایسے عظیم شخص ہیں ، پھر پوری حدیث ذکر کی ۔ (ت)
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ خیثمہ واللالکائی والعشاری        حدیث ۳۶۶۹۸     مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۲۳۱۔ ۲۳۲) 

(۲؂ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم حدیث ۲۳۹مکتبۃ الحرمین ریاض ۱ /۲۴۶)
حدیث ۲۱۲:
کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں کسی سے فرمایا کہ اپنا گھرے میرے ہاتھ بیچ ڈال کہ مسجدِ حرام میں زیادت فرماؤں اورتیرے لئے جنت میں مکان کا ضامن ہوں ۔ اس نے عذر کیا ۔ پھر فرمایا ۔ انکار کیا۔ عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خبر ہوئی ، یہ شخص زمانہ جاہلیت میں ان کا دوست تھا اس سے باصرارِ تمام دس ہزار اشرفی دے کر خریدلیا، پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور !اب وہ گھر میرا ہے فھل انت اٰخذھا ببیتٍ تضمن لی فی الجنۃ کیا حضور مجھ سے ایک مکان بہشت کے عوض لیتے ہیں جس کے حضورمیرے لئے ضامن ہوجائیں ۔ قال نعم فرمایا: ہاں ۔ فاخذھا منہ وضمن لہ بیتاً فی الجنۃ واشھد لہ علی ذٰلک المومنین حضور نے ان سے وہ مکان لے کر جنت میں ان کے لئے ایک مکان کی ضمانت فرمائی اور مسلمانوں کو اس معاملہ پر گواہ کرلیا۔
احمد الحاکمی ۱؂فی فضائل عثمان عن سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
احمد حاکمی نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فضائل میں سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؂الریاض النضرۃ بحوالہ الحاکمی الباب الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۰و۲۱)
حدیث ۲۱۳:
کہ جب مہاجرین مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ میں آئے یہاں کا پانی پسند نہ آیا شور تھا، بنی غفار سے ایک شخص کی مِلک میں ایک شیریں چشمہ مسمّٰی بہ رومہ تھا وہ اس کی ایک مشک نیم صاع کو بیچتے ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
بعنیہا بعین فی الجنۃ
یہ چشمہ میرے ہاتھ ایک چشمہ بہشت کے عوض بیچ ڈال ۔ عرض کی : یارسول اللہ !میری اورمیرے بچوں کی معاش اسی میں ہے مجھ میں طاقت نہیں ۔ یہ خبر عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو پہنچی وہ چشمہ مالک سے پینتیس ہزار روپے کو خریدلیا ، پھر خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی :
یارسول اللہ اتجعل لی مثل الذی جعلت لہ عینا فی الجنۃ اشتریتھا
یارسول اللہ !کیا جس طرح حضور اس شخص کو چشمہ بہشتی عطافرماتے تھے اگر میں یہ چشمہ اس سے خرید لوں تو حضو رمجھے عطافرمائیں گے ؟
قال نعم
فرمایا:ہاں ۔ عرض کی : میں نے بِئر رومہ خرید لیا اورمسلمانوں پر وقف کردیا۔
الطبرانی ۲؂ فی الکیبر وابن عساکر عن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ
(طبرانی نے کبیر میں اورابن عساکر نے بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۲؂ المعجم الکبیر عن بشیر اسلمی حدیث ۱۲۲۶المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۴۱و۴۲)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۴۷۱۵عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۱ /۴۹)

(کنز العمال بحوالہ طب کر حدیث ۳۶۱۸۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۳۵و۳۶)
حدیث ۲۱۴:
ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
اشترٰی عثمان بن عفان من رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الجنۃ مرتین یوم رومۃ ویوم جیش العسرۃ۔ الحاکم ۱؂ وابن عدی وعساکر عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دوبار نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے جنت خرید لی بئر رومہ کے دن اورلشکر کی تنگدستی کے روز۔ (حاکم اورابن عدی اورابن عساکر نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؂ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اشترٰی عثمان الجنۃ مرتین دارالفکر بیروت ۳ /۱۰۷)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۴۷۱۵   عثمان بن عفان    داراحیاء التراث العربی بیروت  ۴۱ /۴۹)

(الکامل لابن عدی ترجمہ بکر بن بکار دارالفکر بیروت            ۲ /۴۶۴)
حدیث ۲۱۵:
کہ حضور مالک جنت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا :
لک الجنۃ علی یا طلحۃ غداً ۔ ابو نعیم ۲؂فی فضائل الصحابۃ عن امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کل تمہارے لئے جنت میرے ذمہ ہے (ابو نعیم نے فضائل صحابہ میں امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؂کنزالعمال بھوالہ ابی نعیم حدیث ۳۳۳۶۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۶۵۹)
Flag Counter