Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
173 - 212
حدیث ۲۰۸:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
رأیت جعفرا یطیر ملکاً فی الجنۃ تدمی تادمتاہ ورأیت زیدا دون ذٰلک فقلت ماکنت اظن ان زیادا دون جعفر فقال جبریل (علیہ الصلٰوۃ والتسلیم )ان زیدا بدون جعفر ولٰکنا فضلنا جعفر بقرابتہ منک ابن سعد ۱؂عن محمد بن عمروبن علی مرسلاً۔
میں نے جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ملاحظہ فرمایا کہ فرشتہ بن کر جنت میں اڑرہے ہیں اوران کے بازؤوں کے اگلے دونوں شہپروں سے خون رواں ہے اورزید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو میں نے ان سے کم مرتبہ پایا۔ میں نے فرمایا مجھے گمان نہ تھا کہ زید کا مرتبہ جعفر سے کم ہوگا ۔ جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے عرض کی : زید جعفر سے کم نہیں مگر ہم نے جعفر کا مرتبہ زید سے بڑھا دیا ہے اس لئے کہ وہ حضور سے قرابت رکھتے ہیں۔ (ابن سعد نے محمد بن عمرو بن علی سے مرسلاً روایت کیا۔ت)
(۱؂الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر جعفر بن ابی طالب دار صادر بیروت ۴ /۳۸)

(کنز العمال حدیث ۳۳۲۱۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۶۶۵)
حدیث ۲۰۹:
طلحہ بن عبیداللہ احد العشرۃ المبشرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:  روز احدمیں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کندھیاں لے کر ایک چٹان پر بٹھادیا کہ مشرکین سے آڑہوگئی ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے پس پشت دس مبارک سے ارشاد فرمایا :
ھذا جبریل یخبرنی انہ لایراک یوم القیٰمۃ فی ھولٍ الا انقذک منہ ۔ ابن عساکر۲؂ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
یہ جبریل مجھے خبر دے رہے ہیں کہ اے طلحہ!وہ روز قیامت تمہیں جس کسی دہشت میں دیکھیں گے اس سے تمہیں چھڑادیں گے ۔ (ابن عساکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روایت کیا۔ ت)
 (۲؂کنز العمال حدیث ۳۶۶۰۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۲۰۲)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۳۰۶۴طلحہ بن عبیداللہ داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۲۷ /۵۰)
حدیث ۲۱۰:
جب امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ابو لولومجوسی خبیث نے خنجر مارا اورامیر المؤمنین نے مشورے کا حکم دیا(کہ میرے بعد عثمان غنی وعلی مرتضٰی وطلحہ وزبیر وعبدالرحمن بن عوف  وسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہم چھ صاحبوں سے مسلمان جسے مناسب تر جانیں خلیفہ بنائیں )حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا خدمت امیر المومنین میں آئیں اورکہا : اے باپ میرے !بعض لوگ کہتے ہیں یہ چھ شخص پسندیدہ نہیں ۔ امیر المومنین نے فرمایا : مجھے تکیہ لگا کر بٹھا دو ۔ بٹھائے گئے ، ارشاد فرمایا : ''علی اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں لا تُو روز قیامت میرے ساتھ میرے درجےمیں ہوگا ۔ بھلا عثمان کی شان میں کیا کہہ سکتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس دن عثمان انتقال کرے گا آسمان کے فرشتے اس پر نماز پڑھیں گے ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ!یہ فضیلت خاص عثمان کے لئے ہے یا ہر مسلمان کے لئے ۔ فرمایا : خاص عثمان کے لئے ۔ طلحہ بن عبید اللہ کو کیا کہیں گے، ایک رات رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کجاوا پشت مرکب سے گرگیا تھا میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کون ہے کہ میرا کجاوا ٹھیک کردے اورجنت لے لے ۔ یہ سنتے ہی طلحہ دوڑے اورکجاوا درست کردیا ، حضور پر نورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سوار ہوئے اوران سے ارشادفرمایا :
یا طلحۃ ھذا جبریل یقرئک السلام ویقول انا معک فی اھوال یوم القیٰمۃ حتی انجیک منھا۔
اے طلحہ! یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے اور بیان کرتے ہیں کہ میں قیامت کے ہولوں میں تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ ان سے تمہیں نجات دوں گا ۔ زبیر بن عوام کو کیا کہیں گے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور آرام فرماتے تھے زبیر بیٹھے پنکھا جھلتے رہے یہاں تک کہ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بیدار ہوئے ، فرمایا : اے ابو عبداللہ !(زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کنیت ہے )کیا جب سے توجھل رہا ہے؟عرض کی : میرے ماں باپ حضور پر نثار جب سے برابر جَھل رہاہوں۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ھذا جبریل یقرئک السلام ویقول انا معک یوم القیٰمۃ حتی ادب عن وجھک شرر جھنم۔
یہ جبریل ہیں تجھے سلام کہتے ہیں اوربیان کرتے ہیں کہ میں روز قیامت تمہارے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ تمہارے چہرے سے جہنم کی اڑتی ہوئی چنگاریاں دور کروں گا۔ سعد بن ابی وقاص کو کیا کہیں گے، میں نے روز بدردیکھا سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے چودہ بار ان کی کمان چلہ باندھ کر انہین عطا کی اورفرمایا تیر مار، تیرے قربان میرے ماں باپ۔ عبدالرحمن بن عوف کو کیا کہیں گے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں تشریف فرماتھے دونوں صاحبزادے رضی اللہ تعالٰی عنہما بھوکے روتے بلکتے تھے، سید المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کون ہےکہ کچھ ہماری خدمت میں حاضر کرے ، اس پر عبدالرحمن بن عوف حیس (کہ خرمائے خستہ برآوردہ ، اورپنیر کو باریک کوٹ کر گھی میں گوندھتے ہیں ) اور دو روٹیاں کہ ان کے بیچ میں روغن رکھا تھا لے کر حاضرہوئے ، رحمت دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : کفاک اللہ امردنیاک واما امراٰخرتک فانا لھا ضامن۔ اللہ تعالٰی تیرے دنیا کے کام درست کردے اور تیری آخرت کے معاملہ کا تو میں ذمہ دار ہوں ۔
''معاذبن المثنٰی۱؂ فی زیادات مسند مسددٍ والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابوبکر ان الشافعی فی الغیلانیات وابوالحسن بن بشر ان فی فوائد ہٖ والخطیب فی التلخیص المتشابہ وابن عساکر فی تاریخ دمشق والدیلمی فی مسند الفردوس عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
امام جلیل جلال الدین سیوطی جمع الجوامع میں فرماتے ہیں :
سندہ، صحیح۱؂ ۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ معاذ بن المثنٰی حدیث ۳۶۷۳۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۴۷۔۲۴۶)
تکملہ کاملہ :
وصل اول کی طرف پھر عود کرنا والعود احمد ؎

اعدذکر والینا لنا ان ذکرہ،             		ھوالمسک ماکررتہ یتضوع،
 (ہمارے والی کا ذکر ہمارے لئے پھر لوٹا ؤ کہ بیشک ان کا ذکر ایسی کستوری ہے جسے جتنا رگڑ ووہ خوشبو دیتی ہے ۔ت)
؎ باز ہوائے چمنم آرزو ست                     		جلوہ سرودسمنم آرزوست
 (پھر مجھے چمن کی ہوا کی خواہش ہے جنبیلی کے نغمے کے جلوے کی خواہش ہے ۔ت)

؎ پھر اٹھا ولولہ یادبیابان حر م 		پھر کھنچا دامن دل سوائے مغیلان حرم

اللہ اس حدیث صحیح کے پچھلے جملے نے پھر وصل اول احادیث متعلقہ محبوب اجمل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آتش شوق سینے میں بھڑکا دی ، کتا اپنے پیارے آقا مہربان مولٰی کا دروازہ چھوڑ کر کہاں جائے ، ہر پھر کروہیں کا وہیں رہا چاہے بلکہ واللہ یہ کتا اپنے پیارے کریم کا دراطہر سے ہٹا ہی نہیں ، انبیاء کے دروازے پر جائے تو انہیں کا گھرہے ، اولیاء کے یہاں آئے تو انہین کا درہے ، ملائکہ کی منزلوں پر گزرے تو انہیں کا نگر ہے ع

کوئی اوران کے سوا کہاں وہ اگر نہیں و جہاں نہیں
؎ یک چراغ ست دریں خانہ کہ از پرتوآں 		               ہرکجا در نگری انجمنے ساختہ اند
 (اس گھرے میں ایک چراغ ہے جس کی روشنی سے جہاں دیکھو ایک انجمن بنائے ہوئے ہیں ۔ت)؎
آسمان کواں زمیں خوان زمانہ مہمان		            صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیر اتیرا

؎ بندہ ات غیر ت بردکے بردرغیرت رود		           دررودچوں بنگر دہم شاہ آں ایواں توئی
 (تیرا غیرتمند غلام درغیر پر کیسے جاسکتاہے ، اوراگر جائے تو دیکھے گا کہ اس ایوان کا بادشاہ بھی تو ہی ہے ۔ت)
Flag Counter