Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
172 - 212
حدیث ۲۰۱:
صحیحین بخاری ومسلم وغیرہما میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : بچے کا مادہ آفرنیش چالیس دن تک ماں کے پیٹ میں جمع ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن جما ہوا خون رہتاہے ، پھر اتنے ہی دن خون کی بوتی ،
ثم یرسل اللہ الیہ الملک فینفخ فیہ الروح
جب تین چلے گزر لیتے ہیں اللہ تعالٰی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتاہے کہ وہ اس میں جان ڈالتاہے ،
ھذا لفظ مسلم۳؂۔
(یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔ت)
 (۳؂صحیح البخاری کتاب بدء الخلق ۱ /۴۵۶ وکتا ب الانبیاء ۲ /۴۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی )

(،صحیح مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۲)
اللہ عزوجل فرماتاہے :
ھوالذی یصوکم فی الارحام کیف یشاء ۴؂۔
  اللہ ہے کہ تمہاری تصویر فرماتاہے ماؤں کے پیٹوں میں جیسے چاہے ۔
 (۴؂ القرآن الکریم ۳ /۶)
اورفرماتاہے جل وعلا:
ھل من خالقٍ غیر اللہ ۱؂۔
کیا کوئی اور بھی خلق کرنے والا ہے اللہ کے سوا۔
 (۱؂القرآن الکریم۳۵/۳)
یہاں مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جن کا نام پاک ماحی ہے یعنی کفر وشرک کے مٹانے والے ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، وہ خود صحیح حدیثوں میں فرما رہے ہیں کہ فرشتہ تصویر کرتہاے ، فرشتہ صورت بناتاہے ۔فرشتہ آنکھ ، کان ، گوشت ، استخواں ، بال ، کھال ، خون خلق کرتاہے ۔ اورصرف یہی نہیں بلکہ یہ سب کچھ فرشتے کے ہاتھ سے ہوکر جان بھی فرشتہ ڈالتا ہے ۔ شرک پسند گمراہوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر اورکیا شرک ہوگا والعیاذباللہ رب العٰلمین۔ جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم تو اتنا ہی فرما کر چپ ہو رہے تھے :
لاھب لک غلٰماً زکیا۲؂۔
میں تجھے ستھرا بیٹا دوں۔
 (۲؂القرآن الکریم ۱۹ /۱۹)
یہاں تو ان سے کم درجہ شخص کے ہاتھوں پر دنیا بھر کے بیٹی بیٹوں کی خلق وتصویر ہو رہی ہے ۔ احمق جاہلو! اپنے سسکتے ایمان کی جان پر رحم کرو، یہ فرق نسبت اٹھانااقسام اسنا د مٹانا خدا جانے تمہیں کن برے حالوں پرپہنچائے گا ۔ مسلمانوں کو مشرک بنانا ہنسی کھیل سمجھاہے ۔
حدیث ۲۰۲:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لو لم ابعث فیکم لبعث عمر اید اللہ عمر بملکین یوفقانہ ویسدد انہ فاذا اخطأصرفاہ حتی یکون صواباً۔ الدیلمی ۳؂عن ابی بکرن الصدیق وابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
اگر نبی میں تم میں مبعوث نہ ہوتا توبیشک عمر نبی کر کے بھیجا جاتا۔ اللہ عزوجل نے دو فرشتوں سے عمر کی تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اورہر امر مین اسے ٹھیک راہ پر رکھتے ہین اگر عمر کی رائے لغزش کرتی ہے تو فرشتے عمر کو ادھر سے پھیر دیتے ہیں تاکہ عمر سے حق ہی صادر ہو(دیلمی نے ابو بکرصدیق اورابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
  (۳؂الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۵۱۲۷دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۷۲)

(کنزالعمال حدیث ۳۲۷۶۱مؤسسۃ بیروت      ۱۱/ ۵۸۱)
حدیث ۲۰۳ :
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : بیشک عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا اسلام عزت تھا اور ان کی ہجرت فتح ونصرت اوران کی خلافت میں رحمت ۔ خدا کی قسم گردکعبہ علانیہ نماز نہ پڑھنے پائے جب تک عمر اسلام نہ لائے ۔ جب وہ مسلمان ہوئے کافروں سے قتال کیا یہاں تکہ کہ ہم نے علانیہ گردکعبہ نماز ادا کی ۔ وانی لاحسب بین عینی عمر ملکاً یسددہ، اوربیشک میں سمجھتا ہوں کہ عمر کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہےکہ انہیں راستی ودرستی دیتاہے اورمیں سمجھتاہوں کہ عمر سے شیطان ڈرتاہے اورجب نیک بندوں کا ذکر ہوتو عمر کا ذکر لاؤ۔
ابن عساکر۱؂ رضی اللہ تعالٰی عنہ وقدمر بعضہ، اواخر الباب الاول بتخریج اٰخر غیر محدود۔
(اس کو ابن عساکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روایت کیا ، اوراس کا بعض حصہ دوسری تخریج کے ساتھ باب اول کے آخر میں گزرگیا ہے ۔ت)
(۱؂ تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷ /۶۷)

(کنزالعمال حدیث ۳۵۸۶۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۵۹۹)
حدیث۲۰۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اذا جلس القاضی فی مجلسہ ھبط علیہ ملکان یسددانہ ویوفقانہ ویرشد انہ مالم یجرفاذا جار عرجا وترکاہ ۔ البیہقی ۲؂عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
جب قاضی مجلس حکم میں بیٹھتا ہے اس پر دو فرشتے اترتے ہیں کہ وہ اسے راستی دیتے توفیق بخشتے سیدھی راہ چلاتے ہیں جب تک حق سے میل نہ کرلے جہاں اس نے میل کیا فرشتوں نے اسے چھوڑا اوراڑگئے ۔ (بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؂کنز العمال عن ابن عباس حدیث ۱۵۰۱۵     مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۹۹)

(السنن الکبرٰی للبیہقی آداب القاضی باب فضل من ابتلی بشئی الخ دارصادر بیروت ۱۰ /۸۸)
حدیث ۲۰۵:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
جو مسلمان کسی مسلمان کا دل خوش کرتاہے اللہ عزوجل اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا کرتاہے کہ اللہ تعالٰی کی تمجید وتوحید کرتاہے جب وہ مسلمان اپنی قبر میں جاتاہے اس کے پاس آکر کہتاہے کیا مجھے نہیں پہچانتا ؟وہ مسلمان پوچھتا ہے تو کون ہے ؟کہتا ہے میں وہ خوشی ہوں جو تو نے فلاں مسلمان کے دل میں داخل کی تھی انا الیوم اونس وحشتک والقنک حجتک واثبتک بالقول الثالث واشھد ک مشاھدک یوم القیٰمۃ واریک منزلک من الجنۃ۔  آج میں تیرا جی بہلاکر تیری وحشت دورکروں گا ، میں تجھے تیری حجت سکھاؤں گا ، میں تجھے نکیرین کے جواب میں حق بات پر ثبات دوں گا ، میں تجھے محشر کی بارگاہ میں لے جاؤں گا، میں تیرے رب کے حضور تیری شفاعت کروں گا، میں تجھے جنت میں تیرا مکان دکھاؤں گا۔
ابن ابی الدنیا ۱؂فی قضاء الحوائج وابو الشیخ فی الثواب عن الامام جعفر ن الصادق عن ابیہ عن جدہٖ رضی اللہ تعالٰی عنہم وکرم وجوھھم۔
اس کو ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں اورابوالشیخ نے ثواب میں امام جعفر سادق سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے ، اللہ تعالٰی ان سے راضی ہوا اوران کے چہروں کو مکرم بنایا۔ (ت)
 (۱؂موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۱۱۵   مؤسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت ۲ /۸۶)

(کنزالعمال بحوالہ ابن ابی الدنیا حدیث ۱۶۴۰۹  مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۴۳۱)
حدیث۲۰۶ :
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
بیشک میں کتاب اللہ میں ایک سورت تیس آیتوں کی پاتاہوں جو اسے سوتے وقت پڑھے اللہ عزوجل اس کے لئے تیس نیکیاں لکھے اوراس کے تیس گناہ محو فرمائے اوراس کے تیس درجے بلند کرے ،
وبعث اللہ الیہ ملکا من الملٰئکۃ لیبسط علیہ جناحہ ویحفظہ من کل سوء حتی یستیقظ وھی المجادلۃ تجادل عن صاحبھا فی القبر وھی تبارک الذی سورۃ الملک الدیلمی۱؂ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
اللہ عزوجل اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجے کہ اپنا بازو اس پر کشاہ رکھے جب تک سوکر اٹھے وہ فرشتہ اسے ہر برائی سے محفوظ رکھے وہ سورت مجادلہ ہے اپنے قاری کی طرف سے اس کی قبر میں جھگڑے گی وہ تبارک الذہ سورہ ملک ہے ۔(دیلمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ۔ت)
(۱؂الفردوس بمأثور الخطاب حدیث۱۷۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۶۲و۶۳ )

(کنزالعمال حدیث  ۲۷۰۸  مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۵۹۴)
حدیث ۲۰۷:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
من حمٰی مؤمنا منافق یغتابہ بعث اللہ لہ ملکاًیحمی لحمہ، من نا ر جھنم ۔ احمد ۲؂وابوداود عن معاذ بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
جب کوئی منافق کسی مسلمان کو پیٹھ پیچھے برا کہہ رہا ہو تو جو شخص اس منافق سے اس مسلما ن کی حمایت کرے اللہ عزوجل اس کے لئے ایک فرشتہ بھیجےکہ آتش دوزخ سے اس کے گوشت کو بچائے (احمد وابو داود نے معاذ بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲؂مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن انس الجہنی المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۴۱)

(سنن ابی داود کتاب الادب باب الرجل یذب عن عرض اخیہ آفتاب عالم پریس لاہور   ۲ /۳۱۳)
Flag Counter