وصل سوم
احادیث متعلقہ بملائکہ کرام علیہم الصلوۃ والسلام
حدیث ۱۹۶:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان العبد المؤمن لیدعوا اللہ تعالٰی فیقول اللہ تعالٰی لجبریل لاتجبہ فانی احب ان اسمع صوتہ ، واذا دعاہ الفاجر قال یا جبیریل اقض حجتہ فانی لاحب ان اسمع صوتہ، ۔ ابن النجار ۲ عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
بیشک بندہ مومن اللہ عزوجل سے دعا کرتاہے تو رب جل وعلا جبریل علیہ الصلوۃوالسلام سےفرماتاہے : اس کی دعا قبول نہ کر کہ میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتاہوں۔اور جب فاجر دعاکرتاہے رب جل جلالہ، فرماتاہے : اے جبریل !اس کی حاجت روا کر دے کہ میں اس کی آواز سننا نہیں چاہتا(ابن النجار نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲کنزالعمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۳۲۶۱ و ۴۹۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۸۵ و ۶۲۰)
اس حدیث سے واضح کہ جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام دعائیں قبول کرتے حاجتیں روا فرماتے ہیں ۔ دین وہابیت میں اس سے بڑھ کر اورکیا شرک ہوگا۔
حدیث ۱۹۷ :
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان اللہ ملٰئکۃ مؤکلین بارزاق بنی اٰدم قال لھم ایما عبدٍ وجد تموہ جعل الھم ھمّاواحد فضمنوا رزقہ السمٰوٰت والارض وبنی اٰدم ایسما عبدٍ وجد تموہ طلب فان تحری الصدق فطیبوا لہ، ویسروا ومن تعدی ذٰلک فخلوا بینہ، وبیان مایرید ثم لاینا ل فوق الدرجۃ التی کتبتہا لہ۔ الترمذی ۱الاکبر الامام فی النوادر۔
اللہ تعالٰی کے کچھ فرشتے بنی آدم کے رزقوں پر مؤکل ہیں انہیں اللہ عزوجل کا حکم ہے کہ جس بندے کو ایسا پاؤ کہ سب فکریں چھوڑ کر آخرت کا ہورہا ہے آسمان وزمین وانسان سب کو اس کے رزق کا ضامن کردو یعنی بے طلب ہر طرف سے اسے رزق پہنچا ؤ اورجسے روزی کی تلاش میں دیکھو وہ اگر راستی کا قصد کرے تو اس کے لیے اس کا رزق پاک وآسان کردو اورجو حد سے بڑھے اسے اس کی خواہش پر چھوڑ دو پھر ملے گا تو اتنا ہی جو میں نے اس کے لئے لکھ دیا ہے (اس کو حکیم ترمذی نے نوادرمیں روایت کیا۔ت)
ملک قابض علٰی ناصیتک فاذا تواضعت للہ رفعک واذا لجبرت علی اللہ قصمک وملک قائم علی فیک لایدع الحیۃ آن تدخل فی فیک ۔ ابن جریر عن کنانۃ العدوی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ ھذا مختصر۲۔
ایک فرشتہ تیری پیشانی کے بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ عزوجل جل شانہ، کے لئے تواضع کرے تجھے بلندی بخشتاہے اورجب تو اس پر معاذاللہ تکبر کرے تجھے توڑڈالتا ہلاک کردیتاہے ، اورایک فرشتہ تیرے منہ پرکھڑا ہے کہ سانپ کو تیری منہ میں نہیں جانے دیتا۔(ابن جریر نے کنانہ عدوی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔یہ مختصرہے ۔ت)
دیکھومتواضعوں کو فرشتہ بلند قدری دیتاہے ، متکبروں کو فرشتہ ہلاک کرتاہے ، اور کیوں صاحبو! یہ فرشتہ جو منہ کی حفاظت کررہا ہے دافع البلا تو نہ ہوا شاید دفع بلال اس کا نام ہوگا کہ وہ چھوڑدے کہ سانپ تمہارے منہ میں گھس جائے ۔
حدیث۱۹۹:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان ابن اٰدم لفی غفلۃ عما خلق لہ ویبعثاللہ ملکاً فیحفظہ حتی یدرک ۔ ابنا ابوی ۱حاتم والدنیا وابو نعیم عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہم ھذا مختصر۔
آدم زاد اس کام سے غافل ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا اوراللہ تعالٰی فرشتہ بھیجتاہے کہ وقت پہنچنے تک اس کا نگہبان رہتاہے ۔ (اسکو ابو حاتم وابوالدنیا کے بیٹوں اورابو نعیم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، یہ مختصر ہے ۔ت)
(۱حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۳۵محمد بن علی الباقر دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۱۹۰)
(الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الدنیا وابن ابی ھاتم الخ تحت الآیۃ ۵۰ /۲۱ داراحیاء لتراث بیروت۷ /۵۲۴)
حدیث ۲۰۰:
صحیح مسلم شریف میں حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مر بالنطفۃ اثنتان واربعون لیلۃ بعث اللہ الیھا ملکاً فصور ھا وخلق سمعہا وبصرھا وجلدھا ولحمہا وعظامہا ۲۔الحدیث
جب نطفے پر بیالیس راتیں گزرتی ہیں اللہ تعالٰی اس کی طرف فرشتہ بھیجتاہے وہ آکر اس کی صورت بناتاہے ، کان ، آنکھ ، کھال ، گوشت ، ہڈیاں خلق کرتاہے ۔
(۲صحیح مسلم، کتاب القدر باب کیفیت خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۳)
انہیں کی دوسری روایت میں ہے :
یتسورعلیہا الملک ۔ قال زھیر حسبتہ قال الذی یخلقہا۳۔
فرشتہ آکر اس پر گرتا ہے ، زہیر نے کہا میرے خیال میں حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ وہ فرشتہ جو اسے خلق کرتاہے ۔
(۳صحیح مسلم، کتاب القدر باب کیفیت خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۳)
انہیں کی تیسری روایت میں ہے :
ان ملکاً مؤکلاً بالرحم اذا اراد اللہ ان یخلق شیئا باذن اللہ الحدیث ۱۔
بیشک عورتوں کے رحم پر ایک فرشتہ متعین ہے جب اللہ تعالٰی چاہتاہے کہ وہ فرشتہ باذن الہٰی کچھ خلق کرے ۔
(۱صحیح مسلم کتاب القدرباب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۳)
طبرانی کی روایت میں ہے :
ان النطفۃ اذا استقرت فی الرحم فمضٰی لہا اربعون یوماً جاء ملک الرحم فصور عظمہ، ولحمہ، ودمہ، وبشرہ۲۔
نطفے کو جب رحم میں ٹھہرے چلہ گزر جاتاہے فرشتہ کہ رحم پرمؤکل ہے آکر اس کی ہڈیوں ، گوشت ، خون اور بال کھال کی تصویر کرتاہے ۔
(۲المعجم الکبیر عن حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ حدیث ۳۰۴۱المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ /۱۷۷)
(کنز العمال حدیث ۵۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۱۲۱)