Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
170 - 212
حدیث ۱۸۹:
خلافتِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ایک سال مدینہ میں قحط عظیم پڑا اس سال کا ''عالم الرمادہ ''نام رکھا گیا یعنی ہلاک وتباہی جان ومال کا سا۔ امیر المومین نے عمرو بن العاص کو مصر میں فرمان بھیجا : یہ شقہ ہے بندہ خدا عمر امیر المومنین کی طرف سے ابن عاص کے نام  سلام
اما بعد فلعمر ی یاعمر وما تبالی اذا شبعت انت ومن معک ان اھلک انا ومن معی فیاغوثاہ ثم یاغوثاہ یرددقولہ۔
سلام کے بعد واضح ہومجھے اپنی جان کی قسم ! اے عمرو !جب تم اورتمہارے ملک والے سیر ہوں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں کہ میں اورمیرے ملک والے ہلاک ہوجائیں ارے فریاد کو پہنچ ارے فریاد کو پہنچ ۔ اوراس کلمے کو باربارتحریر فرمایا۔
عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جواب حاضر کیا :  یہ عرضی بندہ خدا امیر المومنین عمر کو عمرو بن عاص کی طرف سے
اما بعد فیالبیک ثم یالبیک وقد بعثت الیک بعیرا اولہا عندک واٰخر ھا عندی والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
بعد سلام معروض حضو رمیں بار بار خدمت کو حاضر ہوں پھر بار بار خدمت کو حاضر ہوں میں نے حضور میں وہ کارواں روانہ کیا ہے جس کا اول حضور کے پاس ہو گا اورآخرمیرے پاس اورحضور پرسلام اوراللہ عزوجل کی رحمت اوربرکتیں۔
عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا ہی کارواں حاضر کیا کہ مدینہ طیبہ سے مصر تک یہ تمام منزلہا ئے دو۱ر دراز اونٹوں سے بھری ہوئی تھیں یہاں سے وہاں تک ایک قطار تھی جس کا پہلا اونٹ مدینہ طیبہ میں تھا اور پچھلا مصر میں ، سب پر اناج تھا، امیر المومنین نے وہ تمام اونٹ تقسیم فرمادیے ہر گھر کو ایک ایک اونٹ مع اپنے بار کے عطاہوا کہ اناج کھاؤ اوراونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت کھاؤ،چربی کھاؤ، کھال کے جوتے بناؤ، جس کپڑے میں اناج بھرا تھا اسکا لحاف وغیرہ بناؤ۔ یوں اللہ عزوجل نے لوگوں کی مشکل دفع کی، امیر المومنین حمد بجالائے ۔
ابن خزیمۃ فی صحیحہ ۱؂ والحاکم فی المستدرک والبیھقی فی السنن عن اسلم مولٰی عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ وابن عبدالحکم واللفظ لہ، عن اللیث بن سعد۔
ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے مستدرک میں اوربیہقی نے سنن میں عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اذاد کردہ غلام اسلم سے ، اور ابن عبدالحکم نے لیث بن سعد سے روایت کیا ہے ، لفظ ابن عبدالحکم کے ہیں۔(ت)
(۱؂ المستدرک للحاکم    کتاب الزکٰوۃ      دارالفکر بیروت        ۱ /۴۰۵)

( السنن الکبرٰی للبیہقی   کتاب قسم الفیئ والغنیمۃ    باب یکون للولی الخ    دارصادر بیروت   ۶ /۳۵۵)

(صحیح ابن خزیمہ   باب ذکر الدلیل علی ان العامل  الخ  حدیث  ۲۳۶۸   المکتب الاسلامی بیروت  ۴/  ۶۸ )

(کنز العمال بحوالہ ابن خزیمہ  حدیث  ۳۵۸۸۹     مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۱۲/ ۶۰۹ و ۶۱۰)

(کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم  حدیث   ۳۵۹۰۶   مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۲  /۶۱۴ و۶۱۷)
حدیث ۱۹۰:
حضور سید عالم تو سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضور کے نائب کریم علی مرتضٰی امیر المومین کرم اللہ اللہ تعالٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں  :
انی لاستحیی من اللہ ان یکون ذنب اعظم من غفری اوجھل اعظم من حلمی اوعورۃ لایواریھا ستری اوخلۃ لایسدھا جودی۔ ابن عساکر عن جبیر عن الشعبی عن علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ، ۔
بے شک اللہ عزوجل سے شرم آتی ہے کہ کسی کا گناہ میری صفت مغفرت سے بڑھ جائے وہ گناہ کرے اورمیری مغفرت اس کی بخشش میں تنگی کرے کہ میں نہ بخش سکوں یا کسی کی جہالت میرے علم سے زائد ہوجائے کہ وہ جہل سے پیش آئے اورمیں حلم سے کام نہ لے سکوں یا کسی عیب کسی شرم کی بات کو میرا پردہ نہ چھپائے یا کسی حاجتمندی کو میرا کرم بندہ نہ فرمائے ۔(ابن عساکر۱؂ نے جبیر سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ علی بن ابی طالب ۵۰۲۹داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۵ /۳۹۹)

(کنزالعمال بحوالہ کر عن علی رضی اللہ عنہ حدیث ۳۶۳۶۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۱۱۱)
وہابیو ! دیکھا تم نے محبوبان خدا کا احسان ، ان کی غفران ، ان کی حاجت برآری ، ان کی شان ستّاری ۔
اللھم انفعنا بفضلھم وعفوھم وحلمھم وجودھم وکرمھم فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین۔
یا اللہ ! ہمیں ان کے فضل ، ان کے عفو، ان کے حلم ، ان کے جود اور ان کے کرم سے دنیاوآخرت میں نفع عطافرما آمین ۔(ت)
حدیث ۱۹۱ :
فرماتے ہیں کرم اللہ تعالٰی وجہہ :
لاادری ای النعمتین اعظم علی منۃ من رجل بذل مصاص وجہہٖ الی فراٰنی موضعاً لحاجتہ واجری اللہ قضا ء ھا اویسرہ، علی یدی ولان اقضی لامرئ مسلم حاجۃ احب الی من ملاالارض ذھبا وفضۃ۔ ابوالغنائم النرسی فی کتاب قضاء الحوائج عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ ۲؂۔
بے شک میں نہیں جانتا کہ ان دو نعمتوں میں کون سے مجھ پر زیادہ احسان ہے کہ ایک شخص میری سرکار کو اپنی حاجت روائی کا محل جان کر اپنا معززمنہ میرے سامنے لائے اوراللہ تعالٰی ا سکی حاجت کا روا ہونا اسکی آسانی میرے ہاتھ پر واں فرمائے ، یہ تمام روئے زمین بھر کر سونا چاندی ملنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی مسلمان کی حاجت روافرماؤں۔ (ابو الغنائم الزسی نے کتاب قضا ء الحوائج میں مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۱۹۲:
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھجاھم حسان فشفٰی واشتفٰی۔
حسان نے کافروں کی ہجو کہی توشفادی شفالی۔
مسلم ۱؂عن ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا ۔
 (مسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی ۔ت)
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۰۱)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳ /۲۸۵)
حدیث ۱۹۳:
جب کفار قریش نے شان اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اشعار گستاخی بکے ، عبداللہ بن رواحہ رضی ا للہ تعالٰی عنہ کو حکم جواب ہوا، انہوں نے جواب دیا، حضور نے ناکافی پایا، پھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ارشاد ہوا، ان کا جواب بھی پسند خاطر اقدس نہ آیا ۔ پھر حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ارشادہوا ۔ انہوں نے کفار کی ہجو کہی ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد شفیت یا حسان واشتفیت ۔ ابن عساکر ۲؂عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
حسان !تم نے شفادی اورشفالی۔(ابن عساکر نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳ /۲۷۸) 

(کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۹۵۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۳۴۱و۳۴۲)
حدیث ۱۹۴ :
حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ام المومنین نے ان کے لئے مسند بچھوائی ، عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما نے گزارش کی : آپ انہیں مسند پر بٹھاتی ہیں ۔
وقد قال ما قال ام المومنین نے فرمایا :انہ کان یجیب عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ویشفی صدرہ، من اعدآئہٖ۔ ابن عساکر۳؂ عن عطاء ابن ابی رباح ۔
ترجمہ: یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کی طرف سے جواب  دیا کرتے  اور رنج اعداء سے سینہ اقدس کو شفاء دیتے (ابن عساکر نے  عطاء ابن ابی رباح سے روایت کیا ۔ت)؟
 (۳؂ کنز العمال بحوالہ کر حدیث ۳۶۸۵۵مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ /۳۳۹)

( تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۴۶  حسان بن ثابت داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱۳ /۲۷۷)
حدیث ۱۹۵:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
 اکرموا الانصار فانھم ربوا الاسلام کما یربی الفرخ فی وکرہٖ ۔ الدارقطنی ۱؂فی الافراد والدیلمی عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
انصار کی عزت کرو کہ انہوں نے اسلام کو پالا ہے جس طرح پرند کا پٹھا آشیانے میں پالا جاتاہے ۔ (دارقطنی نے افراد میں اوردیلمی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؂کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد والدیلمی حدیث ۳۳۷۲۴موسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۲ /۹)

(الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۲۲۳دارالکتب العلمیہ بیروت       ۱ /۷۵)
Flag Counter