Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
169 - 212
 حدیث ۱۸۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
 ابنتی فاطمۃ حوراء اٰدمیۃ لم تحض ولم تطمث وانام سما ھا فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھا ومحبیہا من النار۔ الخطیب ۴؂عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میری صاحبزادی فاطمہ آدمیوں میں حور ہے کہ نجاستوں کے عارضے جو عورت کو ہوتے ہیں ان سے پاک ومنزہ ہے ۔ اللہ عزوجل اس نے کا فاطمہ اس لئے نام رکھا کہ اسے اوراس سے محبت رکھنے والوں کو آتش دوزخ سے آزاد فرمادیا۔ (خطیب نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۴؂تاریخ بغداد ترجمہ غانم بن حمید ۶۷۷۲دارالکتب العربی بیروت ۱۲ /۳۳۱ )

(کنز العمال عن ابن عباس حدیث ۳۴۲۲۶موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۰۹)
غلامانِ زہرا کو نار سے چھڑایا تو اللہ عزوجل نے مگر نام حضرت زہرا کا ہے فاطمہ چھڑانے والی آتش جہنم سے ، نجات دینے والی۔ صلی اللہ تعالٰی علٰی ابیہا وعلیہا وبعلہا وابنیہا وبارک وسلم۔
حدیث ۱۸۵:
ان عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ دعا ام کلثوم بنت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہما وکانت تحتہ، فوجد ھا تبکی فقال مایبکیک ، فقال یا امیر المومنین ھذا الیھودی یعنی کعب الاحبار یقول انک علی باب من ابواب جھنم فقال عمر ماشاء اللہ واللہ انی لارجو ان یکون ربی خلقنی سعیدا ثم ارسل الی کعب فدعاہ فلما جاء ہ کعب قال یا امیر المومنین لاتعجل علی والذی نفسی بیدہٖ لاینشلخ ذوالحجۃ حتی تدخل الجنۃ فقال عمر ای شیئ ھذا مرۃ فی الجنۃ مرۃً فی النار فقال یا امیر المومنین والذی نفسی بیدہ انا لنجدک فی کتاب اللہ عزوجل علی باب من ابواب جھنم تمنع الناس ان یقعوا فیھا فاذا مت لم یزالوایقتحمون فیہا الٰی یوم القیٰمۃ ۔ ابن اسعد ۱؂فی طبقاتہ وابوالقاسم بن بشر ان فی مالیہ عن البخاری مولٰی عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
یعنی امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ حضرت ام کلثوم دختر امیر المومنین مولی علی وبتول زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہم کو بلایا انہیں روتے پایا سبب پوچھا، کہا یا امیر المومنین یہ یہودی کعب احبار (رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اجلہ ائمہ تابعین وعلمائے کتابین واعلم علمائے توراۃ سے ہیں پہلے یہودی تھے خلافت فاروقی میں مشرف باسلام ہوئے ، شاہزادی کا اس وقت حالت غضب میں انہیں اس لفظ سے تعبیر فرمانابربنائے نازک مزاجی تھا کہ لازمہ شاہزادگی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ) یہ کہتا ہے کہ آپ جہنم کے دروازوں سے ایک دروازے پر ہیں، امیر الومنین نے فرمایا جو خدا چاہے خدا کی قسم بیشک مجھے امید ہے کہ میرے رب نے مجھے سعید پیدا کی ہو ، پھر حضرت کعب کو بلا بھیجا ، انہوں نے حاضرہوکر عرض کی : امیرالمومنین ! مجھ پر جلدی نہ فرمائیں قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ذی الحجۃ کا مہینہ ختم نہ ہونے پائے گا کہ آپ جنت میں تشریف لے جائیں گے ۔ فرمایا : یہ کیا بات ہے کبھی جنت میں کبھی نار میں ؟ عرض کی : یا امیرالمومنین !قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ کو کتاب اللہ میں جہنم کے دروازوں سے ایک دروازے پر پاتے ہیں کہ آپ لوگوں کو جہنم میں گرنے سے روکے ہوئے ہیں جب آپ انتقال فرمائیں گے قیامت تک لوگ نار میں گراکریں گے (وحسبنااللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ارب عمر الجلیل) (ابن سعد نے اپنی طبقات میں اورابوالقاسم بن بشران نے اپنی امالی میں حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۱؂الطبقات الکبرٰی لابن سعد زکر استخلاف عمر رضی اللہ عنہ دارصۤدر بیروت ۳ /۳۳۲)

(کنز العمال بحوالہ ابن سعد وابی القاسم بن بشران حدیث ۳۵۷۸۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۵۷۰و۵۷۱)
بھلادوزخ میں گرنے سے بچانا دفع بلا کا ہے کو ہوا۔
حدیث ۱۸۶:
معانی الآثار امام طحاوی میں ہے :
حدثنا ابن مرزوق ثنا ازھر السمان عن ابن عون محمد قال قال عمررضی اللہ تعالٰی عنہ : لنا رقاب الارض ۲؂۔
یعنی امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: زمین کے مالک ہم ہیں۔
 (۲؂شرح معانی الآثار کتاب السیر باب احیاء الارض المیتۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۷۶)
حدیث ۱۸۷:
 بعث النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الی عثمان یستعینہ فی جیش العسرۃ فبعث الیہ عثمٰن بعشرۃ اٰلاف دینارٍ ۔
یعنی جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے لئے لشکر اسلام کو تیاری کا حکم دیا مسلمانوں پر بہت حالت تنگی وعُسرت تھی اس باب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے استعانت فرمائی ان سے مددچاہی ، ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دس ہزار اشرفیاں حاضر کیں حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمٰن ! اللہ تیری چھپی اورظاہر خطائیں اورآج سے قیامت تک جو کچھ تجھ سے واقع ہو سب کی مغفرت فرمائے ، اس کے بعد عثمٰن کو کچھ پرواہ نہیں کوئی عمل کرے ۔
ابن عد ی۳؂ والدارقطنی و ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم عن حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما
 (ابن عدی ودارقطنی وابو نعیم نے فضائل صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم میں حذیفہ بن الیمان رضی ا للہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳؂کنزالعمال بحوالہ عد، قط حدیث ۳۶۱۸۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱ /۳۸)
کیوں وہابی صاحبو! غیر خداسے استعانت شرک تو نہیں ، ایاک نستعین کے کیا معنی کہتے ہو۔
حدیث ۱۸۸:
ایک مصری نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یا امیر المومنین عائذبک من  الظلم۔امیر المومنین !میں حضور کی پناہ لیتا ہوں ظلم سے ۔

امیر المومنین نے فرمایا : عذت معاذاً  ، تو نے سچی جائے پناہ کی پناہ لی۔ہمارا مطلب توحدیث کے اتنے ہی لفظوں سے ہوگیا ، پناہ لینے والوں نے امیر المومنین کی دہائی دی اورامیر المومنین نے اپنی بارگاہ کو سچی جائے پناہ فرمایا، مگرتتمہئ حدیث بھی ذکر کریں کہ اس میں امیر المومنین کے کمال عدل کا ذکر ہے ۔عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ مصر پر امیر المومنین کے صوبیدار تھے ، یہ فریادی مصری عرض کرتاہے کہ میں نے ان کے صاحبزادے کے ساتھ دوڑ لگائی میں آگے نکل گیا صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اورکہا : میں دو معزز وکریم والدین کا بیٹاہوں ۔ اس کی فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرو بن عاص مع اپنے بیٹے کے حاضر ہوں ،حاضر ہوئے ۔ امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا: کوڑالے اور مار ۔ اس نے بدلہ لینا شروع کیا۔ اورامیر المومنین فرماتےجاتے ہیں : مارد ولئیموں کے بیٹے کو ۔ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : خدا کی قسم !جب اس فریاد نے مارنا شروع کیا ہمارا جی یہ چاہتا تھا کہ یہ مارے اوراپنا عوض لے ۔ اس نے یہاں تک مارا کہ ہم تمنا کرنے لگے کاش !اپنا ہاتھ اٹھا لے ۔ جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے فرمایا: اب یہ کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا پر رکھ (یعنی وہاں کے حاکم تھے انہوں نے کیوں نہ داد رسی کی ، بیٹے کا کیوں لحاظ پاس کیا) مصری نے عرض کی : یا امیر المومنین !ان کے بیٹے ہی نے مجھے مارا تھا اس سے میں عوض لے چکا ۔ 

امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمر وبن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا :
 مذکم تعبدتم الناس وولدتھم اماتہم احرارا۔
تم لوگوں نے بندگان خدا کو کب سے اپنا غلام بنالیاحالانکہ وہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے تھے ۔

عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی : یا امیر المومنین ! نہ مجھے کوئی خبر ہوئی نہ یہ شخص میرے پاس فریادی آیا۔
ابن عبدالحکم ۱؂عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ
(ابن عبدالحکم نے حضر ت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؂کنز العمال بحوالہ ابن عبدالحکم حدیث ۳۶۰۱۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۶۶۰و۶۶۱)
Flag Counter