اذا ضل احکم شیأاً واراددعوناً وھو بارضٍ لیس بھا انیس فلیقل یا عبداللہ اعینونی یا عبادللہ اعینونی یا عباداللہ اعینونی ، فان للہ عبادًا لایراھم ۔الطبرانی ۱عن عتبۃ بن غزوان رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
جب تم میں کسی کی کوئی چیز گم جائے اورمدد مانگنی چاہے اورایسی جگہ ہوجہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے: اے اللہ کے بندو!میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو!میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو!میری مدد کرو۔ اللہ تعالٰی کے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔وہ اس کی مدد کرینگے ۔
والحمدللہ رب العالمین۔
(طبرانی نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱المعجم الاکبیر عن عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۱۱۷و۱۱۸)
حدیث ۱۸۱:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : جب جنگل میں جانور چھوٹ جائے
فلیناد یا عبداللہ احبسوا
تویوں ندا کرے : اے اللہ کے بندو! روک دو ۔ عبادللہ اسے روک دیں گے ۔
ابن السنی۲ عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ
(ابن السنی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : یوں ندا کرے :
اعینونی یا عباداللہ ۔ ابن ابی شیبۃ ۱والبزار عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میری مدد کرو اے اللہ کے بندو!(ابن ابی شیبہ اوربزار نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
(۱المصنف لابن ابی شبۃ کتاب الدعاء حدیث ۲۹۷۱۱دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۹۲ )
(البحرالزخار (مسند البزار)حدیث ۴۹۲۲ ۱۱/۱۸۱ والمعجم الکبیر حدیث۲۹۰ ۱۷/ ۱۱۸)،9
(کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الاذکار حدیث ۳۱۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۳۴)
یہ تین حدیثیں وہابیت کش کہ تین صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی روایت سے آئیں ، قدیم سے اکابر علماء دین رحمہم اللہ تعالٰی کی مقبول ومجرب رہیں ، اس مطلب جلیل کی قدر ے تفصیل فقیر کا رسالہ انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار(ف)کہ نماز غوثیہ شریف کے فضل رفیع اوربغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چلنے وغیرہ ایک ایک فعل کے سِرِّ بدیع مین تصنیف کیا، ملاحظہ ہو ۔ ان حدیثوں اورحدیث اجل واعظم یا محدم انی توہت بک الی ربی کی شوکت قاہرہ کے حضور وہابیہ کی حرکت مذبوحی کا حال تخاتمہ رسالہ میں عنقریب آتاہے ۔ ان شاء اللہ تعالٰی ۔
ف : رسالہ ''انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ) ''فتاوی رضویہ جلد ہفتم مطبوعہ رضا فاؤنڈیش جامعہ نظامیہ رضویہ ، اندرون لوہاری دروازہ ، لاہورکے صفحہ ۵۶۹ پر مرقوم ہے۔
حدیث ۱۸۳:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
من کنت ولیہ، فعلی ولیہ، ۔ احمد ۲والنسائی والحاکم عن بریدۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیحٍ۔
جس کا میں مددگار وکارساز ہوں علی اس کا مددگار وکارساز ہے کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم۔(احمد ونسائی وحاکم نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا ۔ ت)
(۲مسند احمد بن حنبل عن بریدۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۵۸و۳۶۱)
(المستدرک للحاکم کتاب قسم الفَئی من کنت ولیہ فان علیاً ولیہ دارالفکر بیروت ۲ /۱۳۰)
(الجامع الصغیر عن بریدۃ حدیث ۹۰۰۱دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۵۴۲)
علامہ مناوی نے شرح میں فرمایا:
یدفع عنہ ما یکرہ ۱۔
علی اس کے مددگار ہیں اس سے مکروہات وبلیات دفع فرماتے ہیں ۔
(۱التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من کنت ولیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۴۴۲)
او رشک نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر مسلمان کے ولی ووالی ہیں ، اللہ عزوجل فرماتاہے :
النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم۲۔
نبی مسلمانوں کا زیادہ والی ہے ان کی جانوں سے ۔
(۲القرآن الکریم ۳۳ / ۶)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اولٰی بالمؤمنین من انفسھم ۔ احمد ۳والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۔ (احمد وبخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۳صحیح البخاری کتاب الکفالۃ باب جوار ابی بکر الصدیق فی عہد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۰۸)
(صحیح البخاری کتاب النفقات ۲ /۸۰۹ وکتاب الفرائض ۲ /۹۹۷ وباب ابنی عم احدھما الخ ۲ /۹۹۸)
(صحیح مسلم کتاب الفرائض فصل فی اداء الدین قبل الوصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵)
(،سنن النسائی کتاب لاجنائز الصلوۃ علی من علیہ دین نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۲۷۹)
(سنن ابن ماجۃ ابواب الصدقات التشدید فی الدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۶)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۰و۴۵۳)
علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں :
لانی الخلیفۃ الاکبر الممد لکل موجود ۴۔
اس لئے کہ میں اللہ عزوجل کا نائب اعظم اور تمام مخلوق الہٰی کا مددرساں ہوں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۴التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث انا اولٰی بالمومنین الخ مکتبۃ الاما الشافعی ریاض ۱ /۳۷۷)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن مؤمن الا وانا اولی بہٖ فی الدنیا والاٰخرۃ اقرء و ا ان شئتم النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم فایما مؤمن مات وترک مالا فلیرثہ عصبتہ من کانو ومن ترک دیناً اوضیاعاً فلیاتنی فانا مولاہ ۔ البخاری ۱ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ وابو داود والترمذی عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ میں دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ اس کا والی نہ ہوں ، تمہارے جی میں آئے تو یہ آیہ کریمہ پڑھو کہ ''نبی زیادہ والی ہے مسلمانوں کا ان کی جانوں سے ''تو جو مسلمان مرے اورترکہ چھوڑے اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں اورجو اپنے اوپر کوئی دَین بیکس بے زر بچے چھوڑے وہ میری پناہ میں آئے کہ اس کا مولٰی میں ہوں صلی اللہ تعالٰی علیک وعلٰی آلک وبارک وسلم ۔(بخاری ومسلم وترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اورابوداود وترمذی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت )
(۱صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض واداء الدین باب الصلوٰہ علی من ترک دینا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳)
(صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۵)
(صحیح مسلم کتاب الفرائض فصل فی اداء الدین قبل الوصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶)
(سنن الترمی ، سنن ابی داود کتاب الامارۃ باب فی ارزاق الذریۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۵۴)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۳۴و۳۳۵)
(شرح السنۃ کتاب الفرائض حدیث ۲۲۴۱المتکب الاسلامی بیروت ۸ /۳۲۴)
(سنن الکبرٰی للبیہقی باب العصبۃ ۶ /۲۳۸ و کتاب النکاح ۷ /۵۸ دارصادر بیروت )
امام عینی عمدۃ القاری میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں :
المولی الناصر ۲۔
یہاں مولٰی بمعنٰی مدد گار ہے ۔
(۲عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب تحت حدیث ۳۰۲ /۴۷۸۱ بیروت ۱۹ /۱۶۴)
تولاجرم بحکم حدیث مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ بھی ہر مسلمان کے ولی ومددگار ودافع بلا ومکروہات ہیں،