Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
167 - 212
سادساً :
سب فیصلوں کی انتہا خدا پر ہوتی ہے ، کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے امام الوہابیہ سے یہ رکھائی برتی تو  اسے جائے عزر تھی کہ موسٰی بدین خود مابدین خود حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تقویۃ الایمان کی یہ صریح تذلیل وتضلیل فرمائی تو اسے آنسو پوچھنے کو جگہ تھی کہ وہ نبی امی ہیں پڑھے لکھے نہیں کہ تقویۃ الایمان پڑھ لیتے ان احکام جدیدہ سے آگاہوتے مگر پورا قہر تو خدا نے توڑا کہ بڑی بی کے شرک اورموسٰی کے اقرار کوخوب مسجّل ومکمل فرمادیا۔ وحی آئی تو کیا آئی کہ اعطھا ذٰلک موسٰی !یہ جو مانگ رہی ہے تم اسے عطا کر بھی دو اس بخشش فرمانے میں تمہارا کیا نقصان ہے ۔ واہ ری قسمت یہ اوپر کا حکم تو سب سے تیز رہا، یہ نہیں فرمایا جاتاکہ موسٰی !تم ہوکون بڑھ بڑھ کر باتیں مارنے والے ،ہمارے یہاں کے معاملے کا ہمارے حبیب کو تو ذرہ بھراختیار ہے ہی نہیں یہاں تک کہ خود اپنی صاحبزادی کو دوزخ سے نہیں بچاسکتے تم ایک بڑھیا کو جنت پھنٹائے دیتے ہو ، اپنی گرمجوشی اٹھا رکھو، تقویۃ الایمان میں آچکا ہے کہ  "ہمارے یہاں کا معاملہ ہرشخص اپنا درست کرلے" ۱؂ بلکہ علی الرغم الٹا یہ حکم آتاہے کہ موسٰی! تم اسے جنت کا یہ عالی درجہ عطاکردو۔ اب کہئے یہ بیچارہ کس کا ہوکر رہے جس کے لئے توحید بڑھانے کو تمام انبیاء سے بگاڑی ، دین وایمان پر دولتّی جھاڑی، صاف کہہ دیا کہ : ''خدا کے سوا کسی کو نہ مان اوروں کو ماننا محض خبط ہے۲؂ ۔''
 (۱؂تقویۃ الایمان   الفصل الاول    مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۲)

(۲؂تقویۃ الایمان   پہلا باب   مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۵)
اسی خدا نے یہ سلوک کیا اب وہ بیچارہ ازیں سوماندہ وزآں سو راندہ (نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا ۔دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ت)سو ااس کے کیا کرے کہ اپنی اکلوتی چمر توحید کا ہاتھ پکڑ کر جنگل کو نکل جائے اور سر پر ہاتھ رکھ کر چلّائے ؎
مازیاراں چشم یاری داشتیم

خود غلط بودانچہ ماپنداشتیم
 (ہم نے دوستوں سے مدد کی امید رکھی ، جو ہمارا گمان تھا وہ خود غلط تھا۔ت)
مجھے امام الوہابیہ کے حال پر ایک حکایت یاد آئی اگرچہ میں ذکر احادیث میں ہوں مگر بمناسبت محل ایک آدھ لیطف بات کا ذکر خالی از لطف نہیں ہوتا جسے تمحیض کہتے ہیں اوریہ بھی سنت سے ثابت ہے
کما فی حدیث خرافۃ وام زرع
 (جیسا کہ خرافہ اورام زرع کی حدیث میں ہے ۔ت) میں نے ایک عالم سنت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو فرماتے سنا کہ رافضیوں کے کسی محلے میں چند غریب سنی رہتے تھے ، روافض کا زور تھا ان کا مجہتد پچھلے پہر سے اذان دیتا اور اس میں کلمات ملعونہ بکتا، ان غریبوں کے قلب پر آرے چلتے،آخر مرتاکیا نہ کرتا،چارشخص مستعد ہوکر پہلے سے مسجد میں جا چھپے ، وہ اپنے وقت پر آیا جبھی تبرا شروع کیا ، ان میں سے ایک صاحب برآمد ہوئے اوراس بڈھے کو گرا کر دست ولکد ونعل سے خوب خدمت کی کہ ہیں میں ابو بکر ہوں تومجھے برا کہتاہے ۔ آخر اس نے گھبرا کر کہا حضرت !میں آپ کو نہیں کہتا تھا میں نے تو عمر کو کہا تھا۔ دوسرے صاحب تشریف لائے اورمارتے مارتے بیدم کردیا کہ ہیں مجھے کہتا تھا، یا حضرت!توبہ ہے میں تو عثما ن کو کہتا تھا ۔ تیسرے صاحب آئے اورایسی ہی تواضع فرمائی کہ ہیں مجھے کہے گا۔ اب سخت گھبرایا بیتاب ہوکر چِلّایا کہ مولٰی دوڑیئے دشمن مجھے مارے ڈالتے ہیں ۔ اس پر چوتھے حضرت ہاتھ میں استرا لئے نمودارہوئے اوناک جڑسے اڑالی کہ مردک تو خدا کے محبوبوں اورہمارے دین کے پیشواؤں کو بر اکہے گا اورہم سے مدد چاہے گا ، اب مؤذن صاحب درد کے مارے شرم وذلت سے گورکنارے کسی کو نے میں سرک رہے ۔ مومنین آئے نمازیں پڑھتے اورکہتے جاتے ہیں آج قبلہ وکعبہ تشریف نہ لائے ۔ جناب قبلہ بولیں تو کیا بولیں، جب اجالا ہوا ارے حضرت قبلہ تویہ پڑے ہیں، قبلہ !خیر ہے ؟(روکر)خیر کیا ہے آج وہ تینوں دشمن آپڑے تھے مارتے مارتے کچومر نکال گئے تمہارا دیکھنا مقدر میں تھا کہ سانس باقی ہے ۔ قبلہ !پھر آپ نے حضرت مولٰی کو کیوں نہ یاد فرمایا ؟جب کئی بار یہی کہے گئے توآخر جھنجھلا کر ناک پر سے رومال پھینک دیا کہ یہ کوتک تو انہیں کے ہیں دشمن تو مارہی کرچھوڑگئے تھے انہوں نے تو جڑسے پونچھ لی ؎
مازیاراں چشم یاری داشتیم

خود غلط بودانچہ ماپنداشتیم (۱)
 (ہم نے دوستوں سے مدد کی امید رکھی ، جو ہم نے گمان کیا وہ خود غلط تھا۔ت)
واستغفروااللہ العظیم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم۔
سابعاً :
پچھلافقرہ تو قیامت کا پہلا صور ہے فاعطاھا موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پیرزن کو وہ جنت عالیہ عطافرمادی ۔
والحمدللہ رب العالمین۔
مسلمانو! دیکھا تم نے کہ اللہ اوراس کے مرسلین کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام وہابیت کے شرک کا کیا کی برا دن لگاتے ہیں کہ بیچارے کو اسفل السافلین میں بھی پناہ نہیں ملتی
کذٰلک العذاب ولعذاب الاٰخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون۲؂۔
(مار ایسی ہوتی ہے اوربیشک آخرت کی مار سب سے بڑی ، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے ۔ت)
(۲؂القرآن الکریم ۶۸ /۳۳)
حدیث ۱۷۶ :
کہ حضو رسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوازن کی غنیمتیں حنین میں تقسیم فرما رہے تھے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کی : یارسول اللہ!حضور نے مجھ سے کچھ وعدہ فرمایا تھا ۔ ارشاد ہوا : صدقت فاحتکم ماشئت تو نے سچ کہا اچھا جو جی میں آئے گا حکم لگا دے ۔ عرض کی : اسی دنبے اوران کا چرانے والا غلام عطاہو۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تجھے عطا ہوا اور تو نے بہت تھوڑی چیز مانگی ولصاحبۃ موسی التی دلتہ علی عظام یوسف کانت افھم منک حین حکمہا موسٰی فقالت حکمی ان تردنی شابّۃ وادخل معک الجنۃ اوربیشک موسٰی جس نے انہیں یوسف علیہم الصلٰوۃ والسلام کا تابوت بتایا تھا تجھ سے زیادہ دانشمند تھی جبکہ اسے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اختیار دیا تھا کہ جو چاہے مانگ لے ، اس نے کہا : میں قطعی طور پر یہی مانگتی ہوں کہ آپ میری جو انی واپس کر دیں اور میں آپ کے ساتھ جنت میں جاؤں ۔ یونہی ہوا کہ وہ ضعیفہ فوراً نوجوان ہوگئی اس کا حسن وجمال واپس آیا اور جنت میں بھی معیت کا وعدہ کلیم کریم نے عطا فرمایا ۔
ابن حبان۱؂ والحاکم فی المستدرک مع اختلاف عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ یہاں جوانی بھی موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پھیر دی ۔
 (۱؂المستدرک للحاکم کتاب التفسیر سورۃ الشعراء دارالفکر بیروت ۲ /۴۰۴) 

(اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابن حبان والحاکم کتاب آفات اللسان الخ   دارالفکر بیروت ۷ /۵۰۹)
حدیث ۱۷۷:
کہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو رب عزوجل نے وحی بھیجی :
یا موسٰی کن للفقراء کنزاً وللضعیف حصناً وللمستجیر غیثاً ۔ ابن النجار عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال اوحی اللہ تعالٰی الی موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فذکرہ فی حدیث طویل۲؂ ۔
اے موسٰی !فقیروں کے لئے خزانہ ہوجا اورکمزور کے لیے قلعہ اورپناہ مانگنے والے کے لیے فریاد رس ۔ (ابن النجار نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فرمایا : اللہ تعالٰی نے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وحی فرمائی پھر طویل حدیث میں اس کا ذکر کیا۔ ت)
 (۲؂کنزالعمال بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۱۶۶۶۴  مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۴۸۷)
وہابیہ کے طور پر اس حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ اے موسٰی !تو خدا ہوجا کہ جب یہ خاص شان الوہیت ہیں اور ان باتوں میں بڑے چھوٹے سب برابر ہیں اوریکساں عاجز تو موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان باتوں کا حکم ضرور خدا بن جانے کا حکم ہے ۔
ولا حول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
حدیث ۱۷۸و۱۷۹ :
ترمذی وحاکم حضرت ابوہریرہ اور امام احمد وابو داود طیالسی وابن سعد وطبرانی وبیہقی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب حضرت عزت جل وعلانے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیداکیا ان کی پیٹھ کو مسح فرمایا جس قدر لوگ ان کی نسل سے قیامت تک پیداہونے والے تھے سب ظاہر ہوگئے ۔ رب عزوجل نے ہرایک کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ایک نور چمکایا پھرانہیں آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر پیش فرمایا۔ عرض کی : الہٰی! یہ کون ہیں؟ فرمای ا: تیری اولاد ہیں۔آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان میں ایک مرد کو دیکھا ان کی پیشانی کا نور انہین بہت بھایا، عر کی : الہٰی!یہ کون ہے ؟فرمایا: یہ تیری اولاد سے پچھلی امتوں میںایک شخص داود نام ہے ۔عرض کی : الہٰی ! اس کی عمر کتنی ہے ؟فرمایا : ساٹھ برس۔ عرض کی : الہٰی!اس کی عرم زیادہ فرما۔ رب جل وعلا نے فرمایا:
لاالا ان تزید انت من عمرک
میں زیادہ نہ فرماؤں گا مگر یہ کہ تو اپنی عمر سے اس کی عمر میں زیادت کردے ۔
 (آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عمر کے ہزار برس تھے ۔) عرض کی : تو میری عمر سے چالیس سال اس کی عمر میں بڑھا دے ۔ فرمایا : ایسا ہے تو لکھ لیا جائے گا اورمہر کرلیجائیگی اورپرھ بدلے گا نہیں (نوشتہ لکھ کر ملائکہ کی گواہیاں کرای گئیں )
فلما انقضی عمر اٰدم الا اربعین جاء ہ ملک الموت فقال اٰدم اولم یبق من عمری اربعون سنۃ قال اولم تعطھا ابنک
داؤدجب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عرم سے صرف چالیس برس باقی رہے یعنی نو سو ساٹھ برس گزر گئے ملک الموت علیہ الصلوۃ والسلام ان کے پاس آئے ۔ فرمایا: کیا میری عمر سے ابھی چالیس سال باقی نہیں ؟کہا : کیا آپ اپنے بیٹے داود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نہ دے چکے (پھر اللہ عزوجل نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لیے ہزار اورداود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے سو برس پورے کردیے)ھذا حدیث ابی ھریرۃ  ۱؂الا مابین الخطین فمن حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم (یہ حدیث ابوہریرۃ ہے مگر قوسین کے درمیان حدیث ابن عباس ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ت)
(۱؂سنن الترمذی کتاب التفسیر سورۃ الاعراف حدیث ۳۰۸۷دارالفکر بیروت ۵ /۵۳)

(المستدرک للحاکم کتاب الایمان قصہ خلق آدم علیہ السلام دارالفکر بیروت  ۱ /۶۴)

(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات باب الاختیار فی الاشہاد دار صادر بیروت  ۱۰/ ۱۶۴)

(مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت  ۱ /۲۵۱و۲۵۲)

(المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۲۹۲۸المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۲ /۲۱۴ )

(مسند ابی داود الطیالسی حدیث ۲۶۹۲دارالمعرفۃ بیروت الجزء الحادی عشر ص۳۵۰)

(کنزالعمال عن ابن عباس حدیث ۱۵۱۵۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۶/۱۳۴و۱۳۵)

الدرالمنثور بحوالہ الطیالسی الخ تحت الآیۃ ۲/۲۸۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۱۶)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من ولد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ دارصادر بیروت  ۱/ ۲۸و ۲۹)
ان حدیثوں کا ارشاد ہے کہ داود علہ الصلٰوۃ والسلام کو آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عمر عطافرمائی ۔
Flag Counter